انتخابات، اسٹیبلشمنٹ، قوم پرست پارٹیاں اور بی این پی مینگل – ایڈوکیٹ سعید نور

167

انتخابات، اسٹیبلشمنٹ، قوم پرست پارٹیاں اور بی این پی مینگل

تحریر : ایڈوکیٹ سعید نور

دی بلوچستان پوسٹ

بدامنی اور معاشی بدحالی کے دلدل میں پھنسے ریاست پاکستان بلاخر 2024 کے انتخابات ،خوف اور غیر یقینی صورت حال میں منعقد کرانے میں کسی حد تک کامیاب رہا مگر اسکی صاف، غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کے ناکامی کی گونج عالمی میڈیا میں صاف سُنائی دی جارہی ہیں جہاں عالمی مبصرین دھاندلی زدہ الیکشن اور اسٹیبلشمنٹ نواز سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواران کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی کریڈیبلٹی پے سوال اٹھا رہے ہیں وہی دیگر، سوشل میڈیا پے ان منتخب نمائندگان پے مذائقہ خیز تاثر پیش کررہے ہیں جو ریاست کے لیے کسی المیے سے کم نہیں (اگر وہ ان کو سنجیدہ لیں) جبکہ ماضی کے انتخابات کے نتائج اور دیگر انگنت واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معمول کی باتیں ہے جسے جلد کسی دوسرے بڑے واقعے یا فروخت شدہ میڈیا نمائندگان کی غیر ضروری اور لاجک سے خالی پرائم ٹائم پروگرامز کے ذریعے ایسا پیچیدہ بنایا جائیگا کہ عوام ، ناظرین اور سامیعین کی شکل میں، ذہینی کوفت میں مبتلا ہوجائینگے کہ اصل مدعا کیا تھا اور اس کا انجام جانے بنا اسے وقت کیا ضیائع تصور کرکے غم زندگی میں مبتلا ہوکر نان و نفقہ کی تلاش میں لگ جائینگے تاوقت یہ کہ کوئی دوسرا بڑا ڈرامہ شروع نہیں ہوتا اور کچھ لوگ جنہیں انٹر ٹینمنٹ کے لیےسوشل میڈیا کے علاوہ کچھ میسر نہیں وہ اسٹیبلشمنٹ سے متعلق سیاسی پارٹیوں اور سیاسی کارکنان کے بیانات سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کرینگے اور ان سیاستدانوں خصوصاً قوم پرست پارٹیوں کے راہنماوں کے حال کو دیکھ، سُن کے ماضی کو کُرید کر ان کی کارکردگی، ان کے سیاسی بیانات اور ان کے قوم کے لیے حقیقی کردار کا تقابلی جائزہ لینگے کیونکہ حالیہ الیکشن میں بھی حسب روایت اسٹیبلشمنٹ ہی سارے معاملے کا کرتا دھرتاہے۔

ہارنے والے یہ دعوی کر رہے ہیں چونکہ ہم اسٹیبلشمنٹ کے لیے قابل قبول نہیں تھے اس لیے ہمیں دیوار سے لگانے کی منظم کوشش کی گئی جبکہ جیتنے والوں پے مخالف پارٹیاں یہ الزام لگا رہے ہیں کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ نے یہ سیٹیں نوازے_ کیونکہ یہ ان کے لاڈلے تھے مختصراً یہ کہ جو جیتا وہ اسٹیبلشمنٹ کا یار ہے جو ہارا وہ غدار ۔

حالیہ الیکشن میں اپنی پارٹی کی ناکامی میں اسٹیبلشمنٹ کے ڈائرکٹ ملوث ہونے اور دھاندلی کے خلاف جہاں پاکستان کے دیگر حلقوں میں احتجاج اور دھرنے شروع ہوئے اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایک بار پھر سخت موقف سامنے آیا وہاں بلوچستان بھی اس سے بچ نہ سکا۔ بلوچستان میں بلوچ ، پشتون اور ہزارہ قوم پرستوں نے اس شکست کو اپنے لیے تذلیل جانتے ہوئے چار جماعتی اتحاد کی بنیاد رکھی، جس میں بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل، نیشنل پارٹی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور پشتونخواں میپ شامل ہے جو اس اتحاد کے ذریعے بلوچ پشتون اور ہزارہ آبادی والے علاقوں میں پہیہ جام اور شٹرڈاون ہڑتال جاری رکھتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دراصل بلوچستان کے حقیقی وارث اور حقیقی ترجمان یہی چار جماعتیں یا قوم پرست پارلیمانی سیاست دان ہی ہیں اور اسمبلیوں میں ان کے نشیب و فراز بھی پارلیمانی تاریخ کا حصہ ہے کیونکہ اگر بلوچستان کے گزشتہ ادوار کی بات کریں تو 1985 کے غیر جماعتی الیکشن کے بعد 1988ء میں انتخابات منعقد ہوئے تو بھی قوم پرستوں کے پاس کوئی خاص اکثریت نہیں رہا جبکہ بلوچ یوتھ نیشنل موومنٹ نے کچھ نشستیں حاصل کی تھیں اور نواب اکبر خان بگٹی مخلوط حکومت کے سربراہ بنے۔

اسی طرح پھر 1993 میں قوم پرستوں کو کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکایوں 1997 کے انتخابات میں 40 نشستوں میں سے بلوچستان نیشنل پارٹی متحدہ کو 8 سے10 نشستیں ملیں اور اسے JUI اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر سردار اختر مینگل کے سربرائی میں حکومت بنانی پڑی اسی طرح 2002 میں جب مرکزی پارٹی مسلم لیگ( ق) کی حکومت تھی تب قوم پرست پارٹیوں کی پوزیشن بہت کمزور تھی جبکہ 2008 میں قوم پرست پارٹیوں کی بائیکاٹ کی وجہ سے وہ اسمبلیوں سے باہر رہیں اور 2013 میں مسلم لیگ(ن) سب سے بڑی مرکزی پارٹی بن کر سامنے آئی اور اس نے مری معائدے تحت پشتونخوا میپ کے ساتھ مل کر تیسرے نمبر پر آنے والی قوم پرست جماعت کے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو ڈھائی سالہ حکومت دی۔
2018 کے الیکشن میں بی این پی مینگل نے 10 نشستیں جیتے اور تایخ کے سب سے منفرد اور یارانہ اپوزیشن کا حصہ بنے۔
اس طرح اگر گز شتہ دس سالوں کی بات کی جائے تو ان میں 2013 میں پانچ بلوچ اور پشتون قوم پرست جماعتوں کی بلوچستان اسمبلی میں مجموعی طور پر 27 جبکہ 2018 میں چھ قوم پرست جماعتوں کی 18 نشستیں تھیں ۔

اس طرح اگر گزشتہ ادوار کی تاریخ پرکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ بلوچستان کے قوم پرست پشتون و بلوچ پارٹیوں کو اسمبلیوں میں ایسے مواقعے ملے ہیں کہ اگر پشتون پارٹی چائتا تو پشتونوں کی احساس محرومیاں جو کہ بلوچ قوم سے قدرے جدا ہیں کو دور کرسکتے خاص کر” پشتونستان صوبہ “کے حولے سے،جو کہ مشر محمود خان کا بلوچ پشتون تفرقہ پیدا کرنے والا بہترین (ہتھیار) نعرہ ہے جب کہ بلوچ قوم پرست پارٹیاں بلوچ قوم کی کچھ معاملات میں احساس محرومی ختم کرسکتیں مگر افسوس بجائے ان مسائل کے حل کے یہ پارٹیاں خود مسائل بن کر راہ گئے ۔ جس کا اندازہ حالیہ الیکشن سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

بلوچستان میں سیاست کے حوالے سے دو مکتبہ فکر پائے جاتے ہیں ان میں سے ایک بلوچستان کی بقا اور سالمیت کے لیے پارلیمانی سیاست سے کب کا مایوس بغاوت کی راہ پر گامزن ہیں جب کہ ایک مکتبہ اب تک پاکستان کی ایوانوں میں بلوچستان کے مسآئل کا حل ڈھونڈتی ہے۔

پہلے مکتبہ کے حوالے سے یہ کہا جاسکتاہے کہ ان کا شروع دن سے ایک ہی موقف رہا ہے جس پر تمام تر سختیوں اور مظالم کے باوجود ڈٹے ہوئے ہیں جبکہ دوسرے مکتبہ فکر کے سیاستدان اور کارکنوں پر جب ذاتی مفادات حاصل کرنے میں زمین تنگ ہوجاتی ہے تب وہ ریاست کو پہاڑ وں کا رُخ کرنے یعنی بغاوت کرنے کی محض دھمکی دیتے ہیں جس کا مقصد بلوچستان کے عام عوام کے حقوق کے حصول نہیں بلکہ چند مفاد پرست ٹولہ کی اپنی مجبوریاں ہیں۔

حالیہ الیکشن میں بھی جب لاپتہ افراد سمیت بلوچستان کے دیگر بے شمار مسائل کے تناظر میں خصوصاً اسلام آباد میں بلوچ خواتین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے پیش نظر جب الیکشن سے لاتعلقی کی ہوا چلی اور الیکشن کو ناکام بنانے کی تحریکیں چلی تو ان سب کو نظر انداز کر کے ان قوم پرست پارٹیوں نے کارکنوں کے جانوں کی پرواہ کیے بغیر تمام تر مشکلات اور سیکورٹی رسک کے باوجود الیکشن کو کامیاب بنانے کی تگ ودو میں سر گرم رہیں ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کو ایسی شکست ملی اور ان کے لیے صوبائی اور قومی اسمبلی کے لیے ایسے راستے بند کردیے گئے کہ غیرت کا تقاضہ یہ ہے ان پہ خود کشی حلال ہو ورنہ براہوئی میں کہتے ہے کہ “بے حیا بادشاہ تون ارغ کُنیک۔”
جب ان قوم پرستوں کو شکست ہوئی تو وہ ایک بار پھر پہاڑوں والی باتیں کرکے اسٹیبلشمنٹ کو ڈرانے کی کوشش کی۔

ٍاب یہاں سمجھ سے بالاتر ہے کہ ان کے لیے اسمبلیوں کے راستے بند کیوں کیے گئے آیاں یہ بلوچستان کے سائل وسائل ، بنیادی حقوق اور بلوچستان میں ہونے والے انسانیت سوز عمل کے خلاف کسی خاص نظریہ کے تحت پارٹی منشور کے مطابق بلوچستان اور بلوچ قوم کا مقدمہ لڑنے والے دلیر قوم پرست سیاسی راہنما یا کارکن تھے ؟

یا یہ کسی بھی ذاتی مفاد کو ٹکرا کر ہر ریاستی فورم پر قومی و مجموعی مفاد کے لیے سیاسی جنگ لڑ کر سیاسی شہید یا سیاسی غازی بننے کے لیے جہد کرنے والے تھے۔۔۔۔۔۔ ؟ نہیں ناں۔۔۔۔۔!!!!
پھر ان کو اس طرح اسٹیبلشمنٹ نے بری شکست کیوں دلوائی ؟
میں تو حیران ہوں کہ سیاسی پارٹیوں نے لاپتہ افراد پر سیاست کر کے ان پے سمجھوتہ کیے ، گوادر پورٹ کو ہاتھوں سے جانے دیا،سیندک ، ریکوڈک پر انہوں نے بلیک میلنگ کی اور ذاتی ٹھیکداریاں وصول کر کے اس پر خاموش رہیں اور یہ سب کچھ اُن وقتوں میں ہوتا رہا جب یہ قوم پرست پارٹیاں اچھی خاصی تعداد میں اسمبلیوں میں اپنے حلقوں اور بلوچ قوم کی نمائندگی کے لیے نشستوں پر بھیٹے تھے ۔

ان قوم پرست پارٹیوں میں نیشل پارٹی تو روز روشن کی طرح حیا ء مگر بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل اب تک حقیقی قوم پرست پارٹی کا قومی ماسک چہرے پر لگائے رکنے میں کامیاب رہا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ اختر مینگل کے لاپتہ افراد کے حوالے سے بات کرنا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس پر سیاست کے سواکچھ نہیں کررہے اگر وہ واقعی اس حوالے سے سنجیدہ ہوتے تو وہ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کے سامنے اپنابیان ریکارڈکرانے کو بجائے سپریم کورٹ میں پیش ہونے کو ترجیح نہیں دیتے جب کہ بلوچ لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لاشوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کا مطالبہ کرتے آرہے تھے جو کہ ان کےلیے سنہرہ موقع تھا۔

اور دوسری اہم بات یہ کہ جب چیف آف آرمی سٹاف جنرل باجوہ نے انہیں لاپتہ افراد کے حوالے سے طلب کیا تو وہاں بھی وہ نہیں گئے جبکہ ان کا 05 دسمبر ، 2018 کا بیان ہے کہ ” آرمی چیف کے ساتھ ملاقات کیلئے نہایت مختصر وقت دیا گیا تھا صرف ایک دن قبل مجھے ملاقات کیلئے بتایا گیا تھا ، میں اندرون بلوچستان انتخابی مہم میں مصروف تھا “اب سوچھنے کی بات ہے کہ جہاں پورا بلوچستان لاپتہ افراد کے درد سے تڑپ رہاہے وہاں سردار صاحب پے اس کا اثر یہ ہوا کہ وہ اپنے انتخابی مہم کو چھوڑنا گنوارانہیں کرسکیں جبکہ چھ نکات پیش کرنے کے بعد انہوں نے سخت لہجے میں للکارتے ہوئے کہاتھا کہ ان کے چھ نکات کو شیخ مجیب کے چھ نکات سے کم نہ سمجھا جائے۔

اب ان کو کون بتائے کہ شیخ مجیب نے تواپنے قوم کے لیے بنگلہ دیش حاصل کرلی اور آپ نے اپنے قوم کو کیا دیا ؟

اس کے برعکس آرمی توسیع ایکٹ میں آپ کے پارٹی کا ووٹ دینا،فوج کے بنائے باپ پارٹی کے راہنماقدوس بزنجو کا ماتھا چوم کر وزارت اعلیٰ کے کرسی پر بٹھانا، بد نام زمانہ منشیات سمگلر یعقوب بزنجو کی حمایت ووٹ سپورٹ کرنا ، ریکوڈک معاہدے پے فوج کے منشا کے مطابق خفیہ معائدے کا حصہ بننا ،اپنے ہی پارٹی میں ڈیتھ سکواڈ والوں کو جگہ دینا،جنرل باجوہ اور فیض حمید کے لانچ کیے پارٹی پی ٹی آئی کا مضبوط اتحاد بننا اور جنرل باجوہ اور فیض حمید کے ایما پر پی ٹی آئی کو فلاپ کرنے کے لیے پی ڈی ایم تحریک کا حصہ بننا اسکے لیے تبلیغ کرنا، جس کا اعتراف فضل الرحمن نے بھی کی (واضع رہے کہ علی وزیر نےاسد طور کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق بھی کی کہ عمران خان کے خلاف باجوہ کے پی ڈی ایم تحریک کو لانے کے لیے مجھ سے جو وفد ملنے آیا ان میں شہباز شریف اور اختر مینگل اور دیگر شامل تھے جنہوں نے مجھے کہا کہ ہماری بات فوج سے ہوگئی ہے آپ ہمارا ساتھ دیں۔)
مشرف کے ق لیگ والے سیاسی راہنماوں کو پارٹی میں جگہ دینا اور الیکشن ٹیکٹ جاری کرنا، ریکوڈک کے عوض ٹھیکے لینا ، بلوچستان یونیورسٹی سکینڈل میں پارٹی عہدیدار کا مسئلے کو دبانے کے لیے ڈیمانڈ رکھنا سو بار ریاست کو گورنر کے استعفے کا دھمکی کے باوجود کرسی سے چھپکائے رکھنا اور دیگر اہم مسائل کے باوجود بی این پی مینگل کیسے اسٹیبلشمنٹ کو قابل قبول نہ ہوئی۔
یہ تحجب کی بات ہے بلا اسٹیبلشمنٹ ایسے نیک کردار کو محض چند کھوکھلے نعروں کی وجہ سے کیسے نظر انداز کرسکتا ہے۔
لگتا ہے اس بار اسٹیبلشمنٹ نے ان کے نعروں کو اتنا سئیریس نہیں لیا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔