پاکستان: ریاست یا اسٹیبلشمنٹ! ۔ عبدالہادی بلوچ

192

پاکستان: ریاست یا اسٹیبلشمنٹ!
تحریر: عبدالہادی بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ

ریاست کا تصور اس وقت پیدا ہوا جب انسان کو اپنی زندگی کے مختلف معاملات کو منظم طریقے سے چلانے کیلئے ایک وسیلے یا ادارے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ قرون وسطی کے فلاسفرز (مثلا، ہابز، لاک اور روسو) کے مطابق ریاست کا تصور بنیادی طور سوشل کانٹریکٹ کے نظریے سے پیدا ہوا ہے۔ اور اس کی وجود میں آنے کا مقصد لوگوں یا اس کے اندر افراد کے غیر منظم اور بے لگام آذادی (Liberty) کو منظم کرنے اور بیرونی اور آپسی خطروں اور تجاوزات سے محفوظ رکھنے، اور ان کی سماجی خوشحالی اور فلاح و بہبود کےلئے تھا۔

یہ میکسم maxim کہ ‘ریاست ماں جیسی ہوتی ہے’، جس کو ہم سنتے آئے ہیں اس کا مطلب یہی ہے کہ ریاست ماں کی مانند اپنے بچوں یعنی کہ شہریوں کے بہتری اور فلاح کےلئے ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر ریاست کی اپنے شہریوں کی طرف زمہ داریاں اور فرائض ہوتی ہیں۔ وہ یہ کہ اپنے شہریوں کےلئے ان کے طب و مزاج اور رویوں کے موافق قانون و دستور، نظم و ضبط، امن و امان اور انصاف جیسے اصولوں پر عمل در آمد کرا کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کے فلاح و بہبود اور خوشحالی کیلئے کوشاں ہوتا ہے۔

مہذب انسان یا مغرب کی تہذیب یافتہ لوگوں کےلئے سب سے اہم چیز انسان اور انسان کی آذادی ہوتی ہے۔ ان کےلئے ریاست سوشل کانٹریکٹ کے تحت انسان کی آذادی کی تحفظ یا آپسی انفرادی تجاوزات سے بچانے کیلئے جنم دیا گیا ہے۔ مہذب یا ترقی یافتہ مغربی دنیا کی معاشرتی حالت کا راز بھی یہی ہے کہ وہ ریاست کو کبھی خود پر حاوی کرنے یا خود یعنی کہ انسانی قدر پر فوقیت نہیں دیتے، بلکہ ریاست کو بطور ایک وسیلہ اپنی ایک ضرورت سمجھتے ہیں۔ ریاست کو محض اپنی آذادی کے تحفظ اور ایک خوشحال اور فلاحی زندگی فراہم کروانے کا آلہ تصور کرتے ہیں، جو یقینا اپنی اس مقصد میں کامیاب ہے۔

سماجی فلاح وبہبود یا فلاحی ریاست کا تصور بھی مغربی تہذیب سے نکلا ایک تصور ہے۔ کیونکہ وہاں ریاست انسان کےلئے ہوتا ہے، نہ کے انسان ریاست کےلئے۔ ترقی یافتہ اقوام میں ریاست کو اس کے بنیادی اصولوں اور اہداف کے مطابق عمل میں لایا گیا ہے جس نے مثبت اور انسانی ضرورت کے موافق نتائج فراہم کیے ہوا ہے۔ دوسری طرف، ترقی پذیر قوموں میں ریاست کا وجود صرف انسان کا استحصال کرنا ہے۔ وہاں ریاست صرف ایک اسٹیبلشمنٹ کے طور پر وجود رکھتا ہے، جو محض اپنے شہریوں کا استحصال کرکے اپنے مادی اور دنیاوی مفادات کا تحفظ کر رہا ہوتا ہے۔

ایک دانشور اسٹیبلشمنٹ کی وضاحت یوں کرتا ہے کہ “کچھ قوتیں پس پردہ حکمرانی کا منصب سنبھال رکھے ہوتے ہیں اور اپنے عوام کے نظریاتی گاڈ فادر کا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں جس سے ان قوتوں کا مقصد صرف اپنے مادی اور دنیاوی مفادات کو تحفظ اور دوام دینا ہوتا ہے۔ ان قوتوں کو عرف عام میں اسٹیبلشمنٹ کہتے ہیں۔” چنانچہ یہ صورتحال ہمیں پاکستان میں سورج کی طرح عیاں دیکھتا ہے جو ریاست کی شکل میں وجود رکھتا آرہا ہے۔

ہر ذی شعور و طبقہ فکر یہ دیکھ اور محسوس کر سکتا ہے کہ پاکستان ریاستی اصولوں اور عوامل سے پوری طرح کھوکھلی ہے۔ یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ جب سے پاکستان ایک آذاد ریاست کے طور پر وجود میں آیا ہے تب سے اس میں کبھی اشرافیہ تو کبھی ملکی فوجی قوتیں اقتدار میں یا حکمرانی کے منصب پر آکر اپنے (نام نہاد ریاستی) شہریوں کو لوٹتے آئے ہیں۔ تب سے اب تک ایسا منصوبہ بندی نہیں نظر آتا جس نے اجتماعی طور پر اپنے عوام کو خوشحالی یا سماجی فلاح وبہبود فراہم کیا ہو۔ یہاں ہمیں صرف لوگوں کا استحصال، ان کے قانونی اور بنیادی حقوق کی پامالی، بنیادی سہولیات اور سوشل ویلفئر جیسے عناصر کی عدم موجودگی نظر آتا ہے۔ چنانچہ پاکستان جیسی ہستی کو ریاست کا نام دینا ایک بڑی حماقت اور غلط فہمی ہوگی۔ یہاں ریاست کے نام پر ایک اسٹیبلشمنٹ وجود رکھتا ہے جو فوج اور پولیس جیسے اداروں کو استعمال کرتے ہوئے طاقت کے بل بوتے پر لوگوں کا نہ صرف استحصال اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کی بدترین پامالی کررہا ہے بلکہ ان کے جانوں اور زندگی کو خطرے میں ڈال کر ان کے قتل عام اور نسل کشی کا باعث بنا ہوا ہے۔

لہذا، لوگوں کو جاگنا ہوگا۔ ان کو ریاست کی اصل معنی یا اس کی اصل مقصد کا علم و شعور ہونا ہوگا۔ سوشل کانٹریکٹ جیسی عقلی نظریہ کو سمجھنا ہوگا۔ اپنی بنیادی حقوق، آذادی liberty کی اہمیت سے آشنا ہونا ہوگا جس کی پاکستان جیسی نام نہاد ریاست یا اسٹیبلشمنٹ بدترین خلاف ورزی و پامالی کر رہا ہے۔

لوگوں کے پاس دو ہی راستے ہیں: یا تو پاکستان کو ریاستی اہداف اور اصولوں کے مطابق عمل درآمد ہونا ہوگا: یا اس میں رہنے والے لوگوں (شہریوں) کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ جیسے خود غرض، غیر مہذب، لوٹ مار، مکار و شاطر عناصر سے چھٹکارہ حاصل کرنے کا ذریعہ ڈھونڈنا ہوگا۔ ورنہ یہی صورتحال جو اس نام نہاد ریاست کے لوگوں کا ہے ہمیشہ ان کا مقدر رہے گا۔ تغیر اور بہتری ان کے نصیب نہیں ہوگی۔ فلاحی ریاست اور سماجی فلاح و بہبود محض افسانوی حقیقیت بن کر لوگوں کے خواب رہیں گے۔ اور یہ اسٹیبلشمنٹ اپنے لوگوں کو ریاست کے نام پر دھوکہ اور فریب میں رکھ کر ان کا استحصال کرکے اپنے مفادات کا تحفظ کرتا رہے گا۔ نہ یہاں برابری و مساوات، قانون کی حکمرانی، انصاف جیسے تصورات پر مناسب و موثر طریقے سے عمل در آمد ہوگا، اور نہ ہی آذادی جو کہ انسان کی سب سے اہم اور بنیادی نعمت ہے، کی تحفظ ہوگی۔ یہاں تک کہ جمہوری اصول اور اقدار جیسے عوامل بھی ہمیشہ کی طرح صرف لفظوں اور باتوں میں ہی ملتے رہیں گے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔