عشاق، جا آپ سے ہزار سال وفا کیا – یوسف بلوچ

191

عشاق، جا آپ سے ہزار سال وفا کیا

تحریر: یوسف بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

میر صاحب آپ جانتے ہیں بلوچ لاپتہ افراد کا معاملہ و بلوچ زمین پر سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جنہیں ہر گھڑی ریاست نے نظروں سے اوجھل کرنا چاہا لیکن آپ کمر بستہ رہے سچ کہا آپ سچ کے عاشق نکلے اور کیپیٹل ٹاک،سیمینار و میڈیا ٹاک شاز پر بولتے رہے۔

جب میڈیا نئی نئی بلوچ کی کھوج میں نکل پڑا تھا تب بلوچ ڈھونڈتے ڈھونڈتے آپ تک پہنچ جاتے تھے اور بلوچ کا حال دنیا کو بتایا کرتے تھے۔ گویا آپ بلوچ تھے اور آپ کا تعلق بلوچستان سے تھا۔

کہنے کو آپ اسلام آبادی ہیں لیکن ایسی اسلام آبادی جسے آواران کا پتا،کیچ کا پتا ہے،بلوچ کا پتا ہے۔ آپ کے ہم قوم گْوادر سے نئے نئے آشنا ہیں،یہ آشنائی کاروبار و مفاد کی جستجو ہے تاہم آپ کی آشنائی مفاد سے پرے،مفادوں کے بیچ خون سے تھا،چیخوں سے تھا،آنسوؤں سے تھا۔ کل جب ماہزیب آپکی گود میں پناہ لیے ہوئی تھی،ہر سوں چیخ،فریاد کی آواز تھی تب بھی ہم آپکے قرض دار نکلے۔ پولیس کی گالیاں سہتے رہے،کورٹ تک گئے اور جان لگائی کہ بلوچ اسلام آباد سے ہرگز نہیں نکلیں گا۔ یقین کریں ہم گلام رہے آپ کے حوصلوں کا۔

سبین محمود بھی ایک ایسی عاشق تھیں۔سچ کا عاشق۔ ماما قدیر و لاپتہ بلوچ کو اسپیس دینا چاہتا تھا لیکن انہیں حاکم نے ایسی اسپیس دے دی جو اب اس ریاست پر بوجھ نہیں ہیں۔ لیکن بلوچ کے دلوں میں زندہ ہیں۔ کل جب بانک کریمہ کو یاد کیا جارہا تھا تب ملیر کے حال میں بانک کریمہ کے عقب ایک اور تصویر نمایاں تھی جس کی پہچان ”سبین محمود تھی“۔

میر صاحب کمال یہ ہے کہ جس ماما قدیر کے کیمپ میں آپ کی آمد رہی ہے وہاں بھی سبین محمود کی تصویر ماما کے قریب نمایاں ہے۔ گویا سبین و ماما ہر روز ملاقات کرتے ہوں گویا آج سبین کو ماما اسپیس دے رہی ہوں۔

ریاض سہیل کو کس نگاہ سے بھولیں۔ وہ بلوچ تحریک سے تب سے جڑے ہیں جب اس جہاں میں ہم (میں) وقوع پذیر بھی نہیں ہوئے تھے۔ یہ بندھن یہ کھوج اسے آواران لے چلا،کیچ لے چلا،کاہان و ڈیرہ بگٹی لے چلا،کلمت کے نیلے سمندر لے چلا۔ وہ وہاں گیا جہاں اسے بلوچ کی مطالعہ کا مؤقع ملے۔ کوہِ کیرتھر کے ریاض سہیل کوہِ مراد کا عاشق ہے اور کوہِ مراد کے دیوانے بلوچستان کے عاشق ہیں۔
سچ کا ہمسفر وینگس جی ہیں۔ جب ہم خاموش گونج واجہ خیربخش کو پڑھنے کی جسارت کرتے ہیں تب وینگس کے کاہان جانے والے”قدم“ہمیں مقدس ہی لگتے ہیں۔ گویا یہ مسافر خیربخش کو حفظ کرنا چاہتا تھا اور ہم تک پہنچانا چاہتا تھا۔

وینگس جی جب خیربخش کے سپوتوں کے تحریک سے متاثر ہوئے،صبر،بہادری سے عشق کر بیٹھے تو لکھا۔۔۔ وینگس جی ہم بھی سندھ کو یوں ہی دیکھنا چاہتے ہیں جسطرح آپ بلوچستان کو دیکھ کے خوش ہوتی ہیں۔

سچ کے مست عاشق محمد حنیف کہاں بھول پائے گا۔ محمد حنیف ایسے عاشق جو دور افتادہ راستوں پر افتادگانِ خاک کی تلاش میں اُس وقت نکل پڑا تھا جب ماما قدیر،محض قدیر بلوچ تھا۔ تب فرزانہ،زاکر،جلیل ریکی،ڈاکٹر دین جان و سمّی کی جہدوجہد اوجھل تھی۔ اُس وقت ریاستی بیانیے سے بھٹکے ہم بھی بلوچ مسئلے کو راء و سازشوں سے باندھ کے دیکھتے تھے۔ اب ظلم اس قدر اضافت کر چکا کہ باطل مٹ چکا لیکن اُس وقت جب آپ کھوج لگانے جاتے تھے،وہ لمحہ ہمیں عزیز ہے اور وہ ہماری تاریخ کا حصّہ ہے۔

محمد حنیف کو بلوچ، ریاست سے ملی تحفے سے زیادہ عزیز ہے اور کل 23 دسمبر کو ریاستی منافقت کیوجہ سے محمد حنیف بلوچ کے لیے تغمہ ستارہِ امتیاز واپس کر چکا۔ حنیف صاحب جنگ زدہ زمین کے باسی صرف آپکے ہمدردیاں اپنی تاریخ اور آپ کو ایٹمی بموں سے متاثر ڈیڑھ اینچ حافظے میں قید کر سکتے ہیں،انہیں ایک تغمہ سمجھ کر قبول کر لیجئے گا۔ واجہ حنیف بلوچ کی فطرت ہے کہ وہ عزت کو احسان سمجھتا ہے اور اُسے نسلوں کو کہانیوں میں بتاتا ہے۔

واجہ افراسیاب خٹک جو بلوچ کے لنگوٹی یار ہیں۔ خیربخش کے ساتھ سفر کرتا یہ عاشق اب خیربخش کے دیوانوں کے ساتھ سفر کر رہا ہے۔ خٹک صاحب موقع دیتے کہ ہم جنگ زدہ زمین کے متاثرین کسی ایک مسئلے پر آپکی خاموشی کا گلہ کرتے۔ شہرِ اقتدار میں جتنی بار بلوچ طلبا پوسٹر اٹھا کھڑے رہے،آگاہی دینے سیمینار منعقد کرتے رہے ان کے خالی کیمپ میں اگر چار تشریف لاتے تھے ان میں سے آپ ایک ہیں۔
ہزار کاپیاں پُر ہوں جب ہم پشتون رہنماؤں کی ہمدردیاں بیان کریں۔ منظور آج بلوچ کا دوست ہونے کا سزا کاٹ رہے ہیں لیکن اسلام آباد میں ریاستی بربریت کا ردعمل کوئٹہ میں دیا گیا تو منظور کے ہمسفر زبیر شاہ آغا نے واضح کیا ”بلوچ ماں کا دوپٹّہ ہمارا ہے اور اس کی بےحرمتی بھی ہماری حرمتی“

خیربخش و وسعت اللہ خان کی مکالمہ آج بھی سنتے ہیں تو اس لیے کمال لگتا ہے کہ واجہ خیربخش و واجہ وسعت اللہ خان باہمی روابط سے ایسے آشنا تھے کہ وہ بولتے تھے تو نسبتاً ہوبہو آواز میں سوال و جواب کیا کرتے تھے۔ وسعت صاحب بھی وہ ڈکشنری ہے،وہ کھوجی ہے جو بلوچستان میں زوال و عروج کے گواہ ہیں۔ وسعت شاعرِ گلزمیں مبارک قاضی و شہید استاد واجہ صبا کو اتنا جانتی ہیں جتنا رحیم یار خان کا ایک ملنگ جو زندگی و موت کی لکیر میں مست ہوکر دن رات گزارتا ہے۔ جب صبا گئے تب آپ نے جو لکھا جسے پڑھ کے احساس و آنسو آج بھی ایک ہی پیج پہ آتے ہیں۔

وسعت صاحب بلوچ سے زیادہ شاید کسی کے لیے بولے ہوں۔ اخباری کالم بہت زیادہ لیکن ٹویٹر پر بہت کم ٹویٹ میں بلوچ کا زکر زیادہ ملتا ہے۔ تب سے اسلام آباد کی ”ظاہری لاٹھی“ بلوچ پر پڑی ہے بہت لکھ رہے ہیں۔ وسعت صاحب بی بی سی،بات سے بات ہمارے لیے عشقیہ داستان ہیں۔ وسعت صاحب کل ہمیں بتا رہے تھے کہ ”ایک کٹورا پانی کی قیمت بلوچ کے ہاں سو سال وفا ہے“۔
عاصمہ جہانگیر سے شروع اعداد،طارق فتح،آئی اے رحمان،اسد قبال بٹ،مبشر زیدی،مطیع اللہ جان سے اسد طور،شفیق ایڈوکیٹ، عاطف توقیر،منیزے جہانگیر،عاصمہ شیرازی،عصمت رضا شاہجہان،جبران ناصر و بی بی سی کے ساتھیوں کی ہمدردیوں کو یکجاہ کرلیں یا کل کے لیے جگہ خالی کرتے کرتے اعداد ہزاروں تک پہنچا دیں۔ لیکن ہم جو ہزاروں سالہ روایات کے امین برملا کہیں گے ”آپ کی مہربانی ایک کٹورا پانی سے زیادہ ہے،جا آپ سے ہزار سال وفا کیا“


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔