جبری لاپتہ افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے، لواحقین ڈر اور خوف سے نکل کر اپنے پیاروں کی زندگیاں بچائیں ۔ پنجگور ریلی

166

تربت میں سی ٹی ڈی کے جعلی مقابلے میں زیر حراست بالاچ بلوچ و دیگر انکے چار ساتھیوں کی قتل کے خلاف لانگ مارچ کے شرکاء پنجگور میں دھرنا دے کر جبری لاپتہ افراد کی رجسٹریشن کررہے ہیں۔

جمعرات کے روز مقامی لوگوں کی بڑی تعداد جن میں خواتین اور بچے شامل تھے جاوید چوک دھرنا گاہ میں جمع ہوئے۔ جہاں احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا جو پنجگور بازار و اہم شاہراہوں و چوکوں پر گشت کرتے ہوئے واپس شہید جاوید چوک پہنچ کر جلسے کی شکل اختیار کرگئی۔

احتجاجی شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں لاپتہ افراد ، اور شہدا کی تصویریں اٹھا کر بلوچ نسل کشی بند کرو کے نعرے لگائے۔

مظاہرین سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے سیکٹریری جنرل سمی دین بلوچ، بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری لالا عبدالواہاب بلوچ، وسیم سفر ، حق دو تحریک پنجگور کے ملا فرہاد سول، سوسائٹی پنجگور کے ظہور احمد زیبی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری نزیر احمد حاجی، زاہد بلوچ، آل پارٹیز کے وائس چیئرمین و پاکستان پیپلز پارٹی مکران کے جنرل سیکرٹری آغا شاہ حسین، این ڈی پی کے شاہ میر اور و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کا ایسا کوئی گھر، ایسا کوچہ نہیں جہاں لوگوں کے پیارے لاپتہ یا انہیں مختلف ناموں سے شہید نہیں کیا گیا ہو ۔

انہوں نے کہا ہے کہ 14 دن تک تربت میں احتجاج کے بعد ہم نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ یہ صرف تربت نہیں، پورے بلوچستان کا مسئلہ ہے، جہاں ظلم و جبر کیا گیا ہے اور بلوچستان کا کوئی گھر ضلع ایسا نہیں جو ریاستی جبر سے متاثر نہیں ہوا ہو ۔

انہوں نے کہا ہے کہ جب سے یہ ملک اپنے وجود میں آیا ہے بلوچستان اسکے ساتھ رہا ہے تب سے 75 سالوں سے بلوچستان پر یہ ظلم ہوتا آرہا ہے بلوچ قوم کو یہ معلوم ہونا چاہیے یہ ظلم گھر میں بیٹھنے سے ختم نہیں ہوگا اسکے خلاف گھروں سے نکلنا ہوگا۔

انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان کے ظلم و جبر کے خلاف ہم نے تمام سیاسی جمہوری حق استعمال کئے ہیں کوئٹہ کراچی اسلام آباد تک اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے نیشنل و انٹر نیشنل فورمز پر کوئی توجہ نہیں ملا ہمیں ان کے انصاف سے زیادہ خود کو جدوجہد کیلئے تیار کرنا ہوگا اسکے باوجود ہم مایوس نہیں ہوئے ہیں اب یہ جدوجہد سیاسی مزاحمت بن چکی ہے اس مزاحمت میں ہر بلوچ کو یک جا ہونے کی ضرورت ہے وقت قوم کو یکجہتی کا تقاضا کررہی ہے جو قوم یکجا نہیں ہوئے ہیں انکے خلاف ظلم و جبر شدت کے ساتھ ہوا ہے ۔

انہوں نے کہا ہے کہ بلوچ ایک کلچرل جوان مردی تمردی کے نام سے جانا جاتا ہے اسکی مثالیں ہیں لیکن اب اس قوم کو یکجہتی کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے کہا ہے کہ ایک کٹھ پُتلی وزیر داخلہ کہتے ہیں کوئی لاپتہ نہیں ہے یہ انکی نہیں ہماری کمزوری ہے ۔

انہوں نے کہا ہے کہ ڈاکٹر دین محمد کو کئی سال ہوئے لاپتہ ہیں اس کے ساتھ سینکڑوں اسیران کو کئی سال ہوئے گزر گئے ہیں انکے والدین انتظار کرتے کرتے انکے غم میں مرگئے لیکن کسی کو کوئی پروا نہیں ہوئی وہ ہماری کمزوری ہے ہمارے بزرگ نواب نوروز کے ساتھ کئی قوم جہد کار کو دھوکے و غدار کے نام سے شہید کیا گیا کہ وہ اپنے حقوق چاہتے ہیں ہم وہی حقوق چاہتے ہیں جو دوسرے قوم چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ بلوچ قوم کو بلوچ حقوق کی خاطر لاپتہ کیا جارہا ہے دین محمد بلوچ کا قومی جدوجہد کا نظریے کو لے کر آگے چل رہے ہیں ہمیں اس قومی جدوجہد میں کئی مشکلات دھونس دھمکیوں ملی ہیں لیکن ہم ڈرے نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے ہر مشکل کو سمجھتے ہوئے یہ جدوجہد جاری رکھے ہیں قوم کو اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھنا ہے ۔

انہوں نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کا کوئی گناہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ انہیں اپنے عدالت میں لاسکتے ہیں کیونکہ وہ اپنے قومی جدوجہد میں لاپتہ کئے گئے ہیں، شہید بالاچ بلوچ کی گرفتاری کی ثبوت عدالت ہے لیکن انہیں انکاؤنٹر کرکے شہید کرنا قانون اپنے آئین کی خلاف ورزی ہے انصاف کے اداروں کو انکا نوٹس لینا چاہیے ۔

انہوں نے کہا ہے کہ کبھی نامعلوم کبھی اداروں کے نام پر بلوچ قومی جہد و بلوچ قوم کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے ۔

انہوں نے کہا ہے کہ پنجگور سے تعلق رکھنے والے شاہ فیصل کو انکے والد نے از خود اداروں کے حوالے کیا تھا لیکن وہ دو سال سے لاپتہ ہیں ، کوئی شخص لاپتہ نہیں ہیں وہ اداروں کے پاس ہیں انہیں عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے ۔

مقررین نے کہاکہ جبری لاپتہ افراد کی تعداد ہزرواں میں ہے لواحقین ڈر اور خوف سے نکل کر اپنے پیاروں کی زندگیاں بچائیں ۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہماری یہ احتجاج آج رات پنجگور میں کل کوئٹہ کیلئے روانہ ہوگی۔