بلوچ نوجوان تعلیمی اداروں کو اپنا سرکل بنائیں۔ بابل ملک بلوچ

150

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) کا اجلاس زیر صدارت وائس چیرمین بابل ملک بلوچ منعقد ہوا ۔اجلاس کے مہمان خاص نیشنل پارٹی کے صوبائی خواتین سیکرٹری کلثوم نیاز بلوچ تھیں

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینٹرل کمیٹی کے ممبر ایم جے منصور بلوچ، سینئر نائب صدر جہانزیب بلوچ، عصمت بلوچ، ڈاکٹر جمیل بلوچ نے کہا کہ بلوچ طلباء پہ ریاستی کے اداروں کی جانب سے ذہنی دباؤ اور خوف نے طلباء کے تخلیقی صلاحیتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، طلباء تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں لیکن وہی طلباء کی مخبری کی جاتی ہے ان کے سوالات اور کریٹیکل ریویو جیسے عنصر کو مکمل ختم کرنے کے لئے ان کے پروفائلنگ کی جاتی ہے طلباء کو ڈرایا جاتا ہے تاکہ وہ قومی حوالے سے اپنے فرائض اور حقوق سے باخبر رہتے ہوئے چپ رہے جس کے لئے تعلیمی اداروں کے مرکزی گیٹ سے لے کر ہر ایک کلاس روم تک کیمرے اور ضمیر فروش یہی کام کرتے نظر آتے ہیں اگر تعلیمی اداروں مکے ایسے حالات رہے تو یہ تعلمی ادرے کم بفر زون زیادہ لگے گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں پھر سے ایک دفعہ کاروباری جنگ کے آغاز کے آثار نظر آرہے بلوچستان کو اب بھی کالونی کے طور پر چلایا جارہا ہے اس سے قبل بھی الیکشنز سے قبل بلوچستان میں بلوچ نسل کشی کی گئی ہے کبھی مذہب تو کبھی فرقہ واریت اور کبھی قبائلی جنگوں کے صورت میں لیکن یہ بلوچ نوجوانوں کا ذمہ داری ہے کہ اب ریاست کے ان سازشوں کو سمجھے اور ان پر باقاعدہ ایک حکمت عملی بنائیں تاکہ کوئی حوالدار بلوچستان کے امن کو تہہ و بالا نا کرسکے اور ضمیر فروش یہی کام کرتے نظر آتے ہیں اگر تعلیمی اداروں کے ایسے حالات رہے تو یہ تعلیمی ادارے کم بفر زون زیادہ لگے گے ۔