بلوچستان کوئلہ کانوں میں رواں سال 51 حادثات میں 69 کان کن جاں بحق، 29 زخمی ہوئے

211

بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں ہونے والے حادثات میں رواں سال بھی کمی نہ آسکی ، کوئلہ کانوں میں ہونے والے 51 حادثات میں 69 کان کن لقمہ اجل بنے جبکہ 29زخمی ہوئے ۔

محکمہ معدنیات نے مناسب حفاظتی سہولیات نہ ہونے پر بلوچستان میں سو سے زائد کوئلہ کانوں کو بند کردیا۔

محکمہ معدنیات کے حکام کے مطابق بلوچستان کے علاقوں مچ ،دکی ،شاہرگ ،چمالانگ اور کوئٹہ کی کوئلہ کانوں میں ہونے والے 51 حادثات میں 69 کان کن جاں بحق جبکہ 29زخمی ہوئے ، زیادہ اموات میتھین گیس بھر جانے کے باعث ہونے والے دھماکوں سے ہوئیں ۔

رواں سال کوئلہ کانوں میں سب سے زیادہ حادثات دکی کی کوئلہ کانوں میں ہوئے ، محکمہ معدنیات نے مناسب حفاظتی اقدامات نہ کئے جانے پر بلوچستان میں سو سے زائد کوئلہ کانوں کو بند کردیا، بیس سے زائد کوئلہ کانیں دکی میں بند کی گئیں ہیں۔

مزدور رہنماؤں کے مطابق بلوچستان کی کوئلے کی کانوں میں ان انتظامات کو یقینی نہیں بنایا جاتا، جس کے باعث کانوں میں حادثات ایک معمول بن گئے ہیں۔

مزدور رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ کوئلے کی کانیں بااثر لوگوں کی ہیں۔ حادثات کی صورت میں نہ صرف ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی بلکہ ان کو سیفٹی کے لوازمات کو یقینی بنانے کا بھی پابند نہیں بنایا جاتا۔
بلوچستان میں جدید صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے کوئلے کی کان کنی یہاں کی سب سے بڑی صنعت ہے۔