فدائین حملے بلوچستان کی مکمل آزادی تک مزید جدت و شدت سے جاری رہیں گے ۔ بشیر زیب بلوچ

1948

فدائین بلوچ قوم کے عظیم قومی ہیرو اور قومی سرمایہ ہیں، بلوچ قوم انھیں اپنا نجات دہندہ اور امید سمجھتی ہے، اسی لیے آج ایک بڑی تعداد میں بلوچ مرد اور خواتین عملاً مجید بریگیڈ کا حصہ بن چُکے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار بلوچ لبریشن آرمی ( بی ایل اے) کے سربراہ بشیر زیب بلوچ نے بی بی سی اردو کے نمائندے ریاض سہیل سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔

بی ایل اے سربراہ نے کہا کہ قابض قوتوں سے نجات اور قومی بقا کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ بلوچ سیاسی و عسکری قوتوں کو مضبوط کرکے انہیں دشمن کے خلاف مزید مشترکہ و موثر جدوجہد کی جانب موڑ دیا جائے۔

بشیر زیب بلوچ نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے مزید کہا کہ جدوجہد آزادی میں فکر و عمل سب سے بڑھ کر ہے جسے نوجوان اپنے شعوری کردار اور قربانیوں سے واضح کر چکے ہیں اور کر رہے ہیں۔ یہ بات کسی بھی ذی شعور بلوچ سے ڈھکی چھپی نہیں بس اگر ضرورت ہے تو وہ یہ کہ ہر ایک شخص، ادارہ، گروہ نیک نیتی اور ایمانداری سے خود فیصلہ کر کے آگے بڑھے، تاکہ ایک لفاظی و کاغذی اور صرف دعویداری سے ہٹ کر عملاً نظم و ضبط اور شعوری بنیادوں پر قومی قوت کی تشکیل ممکن ہوسکے۔

بی ایل اے سربراہ نے کہا کہ بلوچ قومی تحریک میں ہمیشہ ہی مشترکہ لیڈرشپ نے تحریک کی باگ دوڑ سنبھالی ہے، جس کی روشنی میں ان کے لیے یہ فیصلہ کوئی بڑا اور پیچیدہ معاملہ نہیں ہوگا کہ کس طرح لیڈرشپ کا تعین کیا جاسکے۔

بشیر زیب کا مزید کہنا تھا کہ بلوچ قومی تحریک برائے آزادی کی جدوجہد کو عملی جامعہ پہنانے اور ایک آزاد اور خوشحال بلوچستان کی خاطر مشترکہ طور پر جدوجہد کرنے والی تنظیم یا جماعت کا نام جو بھی ہو وہ بلوچ قوم قبول کرے گی۔

بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب ریاض سہیل سے گفتگو میں یہ بھی کہا کہ فدائین بلوچ قوم کے عظیم قومی ہیرو اور قومی سرمایہ ہیں، بلوچ قوم انھیں اپنا نجات دہندہ اور امید سمجھتی ہے، اسی لیے آج ایک بڑی تعداد میں بلوچ مرد اور خواتین عملاً مجید بریگیڈ کا حصہ بن چُکے ہیں اور فدائین حملے بلوچستان کی مکمل آزادی تک مزید جدت و شدت سے جاری رہیں گے۔