سی ٹی ڈی ریاست کی پشت پناہی میں بلوچ قوم کی نسل کُشی کر رہی ہے – بی وائی سی اسلام آباد

132

بلوچ یکجہتی کمیٹی، اسلام آباد نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ریاست نے کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) جیسا بدنامِ زمانہ اور جنایت کار ادارہ بلوچ قوم کے اوپر مسلط کیا ہے جو آئے دن بلوچ وطن پر خون کی ہولی کھیلتا رہتا ہے جس کے بنانے کا بنیادی مقصد بلوچوں کی ایک طرح کی اداراتی صورت میں نسل کُشی کرنا ہے کیونکہ سی ٹی ڈی سے قبل جو کام فوج اور پولیس وقتاً فوقتاً انجام دے رہے تھے وہی سب کچھ اب سی ٹی ڈی کر رہی ہے لیکن اب ریاست نے ایک خاص ادارہ تشکیل دے کر اور اس کو مالی و افرادی قوت دے کر بے لگام آدم خور کی طرح بلوچ سرزمین پر چھوڑ دیا ہے اور یہ آدم خور ادارہ ہر روز ایک سے بڑھ کر ایک سانحہ انجام دے رہا ہے اور بلوچ کا خون اتنا سستا ہوگیا ہے کہ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، ریاست اور اس کے پیداکردہ لوگ اور ادارے نِت نئے حربوں سے بلوچ کی نسل کشی کررہے ہیں۔ فیک انکاؤنٹر اسی تسلسل کی ایک شکل ہے جو ریاستی اداروں نے اپنائی ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ حالیہ سانحہ خضدار جس میں تین افراد کو جعلی مقابلے میں نشانہ بنایا گیا، ان تین افراد کا نام پہلے سے ہی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھا، لیکن ریاستی دہشتگرد ادارہ نے ان افراد کو دہشگرد ظاہر کیا، حالانکہ یہ تین افراد پہلے سے ہی جبری گمشدہ تھے۔ جبراً لاپتہ افراد کو بے دردی سے مارنا اور ان کی لاشیں پھینکنا اس سے ریاست اپنے جرائم کو چھپانا چاہتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسی طرح گذشتہ روز کا جو واقعہ بالگتر (ہوشاپ) تربت کے نواحی علاقے میں ہوا ہے کہ جس میں تین افراد جعلی مقابلے میں شہید کیے گئے ہیں۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ان افراد کی بمب دھماکے میں ہلاکت کے طورپر ظاہر کرنا جنگی جرائم چھپانے کے مترادف ہے۔ ان میں سے ایک کی شناخت عادل ولد عصاء اور دوسرے کی نبی بخش ولد جان محمد کے نام سے ہوئی ہے، یہ دونوں افراد وہ ہیں جنہیں گذشتہ اگست کے ماہ میں ریاستی فورسز نے تربت سے لاپتہ کیا اور گذشتہ رات ان کو جعلی انکاؤنٹر میں شہید کر دیا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان اس وقت ایک عظیم انسانی سانحہ سے گزر رہا ہے جہاں پر کسی بھی انسان کی جان و مال اور عزت ِنفس محفوظ نہیں ہے، کوئی قانون نام کی شے وجود نہیں رکھتی، جہاں پر ریاستی اسکواڈ بے لگام ہیں اور ہر گھر و خاندان کے افراد کو اپنے ظلم و جبر کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریاست اس انسانی سانحے کے متعلق بالکل بھی سنجیدہ نہیں ہے بلکہ لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ بیہودہ قسم کا مذاق کر رہی ہے کہ جسکا تازہ ثبوت سرفراز بگٹی نامی بدنامِ زمانہ “جلاد” کو لاپتہ افراد کی تحقیقات کے لئے بنائی گئی کمیٹی کا سربراہ مقرر کرنا جبری طور پر لاپتہ افراد کے خاندانوں کے ساتھ ایک مذاق ہے، کیونکہ سرفراز بگٹی کی شخصیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اسی فرد نے اپنے آبائی علاقے ڈیرہ بگٹی میں ہی کتنے بلوچوں کو بے دردی سے قتل کیا ہے اور یہی فرد اب لاپتہ افراد کے لئے بنائے گئے ادارہ کی سربراہی کرے گا۔ یہ ریاست کی غیر انسانی پالیسیوں کو آشکارہ کرتی ہے کہ وہ کس حد تک اس عظیم انسانی سانحہ کی نسبت سنجیدہ ہے۔

ترجمان کا آخر میں کہنا تھا کہ پاکستانی میڈیا جو کہ جانبدار کم اور ریاستی میڈیا زیادہ ہے، وہ بھی ان سانحات کو مین اسٹریم میڈیا پر نہیں لا رہی، کیونکہ ان کو حکم کی تعمیل کرنے کو کہا جاتا ہے لہٰذا ہم عالمی ادارہ برائے انسانی حقوق سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان انسانی سانحات پر اپنی توجہ مرکوز کریں اور اپنی حیثیت اور کردار کے مطابق اس ظلم کا سدِباب کریں اور ہم بلوچ قوم کو بھی یہی پیغام دیں گے کہ خدارا اپنی حالت کو پہچانیں اور اس نسل کُشی کے خلاف متحد ہو جائیں جیسے ریاستی ادارے بلوچ نسل کُشی کے لئے متحد ہیں ۔