حماس نے 10 اسرائیلی اور چار تھائی باشندوں کو رہا کر دیا – اسرائیل

58

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں قید 10 اسرائیلی اور چار تھائی شہریوں کو بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب رہا کر دیا گیا۔

خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے تحت یرغمالیوں کو چھٹی بار رہا کیا گیا ہے۔ یرغمالیوں کو مصر میں داخلے کے بعد اسرائیل منتقل کیا جائے گا۔

جنگ بندی جمعرات کی صبح ختم ہو جائے گی۔ بین الاقوامی ثالث حماس کے زیر حراست مزید یرغمالیوں کی رہائی میں تعاون کے لیے معاہدے میں توسیع کی کوشش کر رہے ہیں۔

عسکریت پسند گروپ نے سات اکتوبر کو غزہ سے اسرائیل پر حملہ کرنے کے بعد240 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ تقریباً 150 افراد حماس کی قید میں ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ 10 اسرائیلی خواتین اور بچوں جبکہ چار تھائی شہریوں کو حماس نے غزہ میں ریڈ کراس کے حوالے کر دیا ہے اور وہ علاقے سے نکلنے کے لیے جا رہے ہیں۔

اس سے قبل دو روسی اسرائیلی خواتین کو حماس نے رہا کیا تھا۔ اسرائیل نے بدلے میں 30 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

مذاکرات میں شامل فریق جمعرات کے اوائل میں جنگ بندی کی مزید توسیع کے لیے کوشاں ہیں۔ مذاکرات مزید سخت ہوتے دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ حماس کے زیر حراست زیادہ تر خواتین اور بچوں کو رہا کر دیا گیا ہے اور توقع ہے کہ عسکریت پسند مردوں اور فوجیوں کو آزاد کرنے کے بدلے میں زیادہ سے زیادہ رہائی کے خواہاں ہیں۔

اسرائیل نے حالیہ دنوں میں درجنوں یرغمالیوں کی رہائی کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر حماس قیدیوں کو رہا کرتی رہی تو وہ جنگ بندی کو برقرار رکھے گا۔

تاہم وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بدھ کو اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل حماس کے خاتمے کے لیے اپنی کارروائی دوبارہ شروع کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمارے اغوا کاروں کی واپسی کا یہ مرحلہ ختم ہونے کے بعد کیا اسرائیل جنگ دوبارہ شروع کرے گا؟ تو میرا جواب ایک واضح ہاں میں ہے۔‘