پنجاب میں بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیاں – ٹی بی پی اداریہ

111

پنجاب میں بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیاں

ٹی بی پی اداریہ

بلوچستان میں ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب کسی شہر یا علاقے سے جبری گمشدگی کا کوئی واقعہ رپورٹ نہ ہو اور جبری گمشدگیوں کا سب سے زیادہ نشانہ نوجوانوں، سیاسی کارکنوں اور طلباء کو بنایا جاتا ہے۔ بلوچستان میں انسرجنسی کی شدت میں اضافے کے بعد بلوچ والدین نے اپنے بچوں کو بڑی تعداد میں اسلام آباد اور پنجاب کے تعلیمی اداروں میں پڑھنے کے لئے بھیجا تاکہ وہ جبری گمشدگیوں سے محفوظ رہیں لیکن دو سال سے اسلام آباد اور پنجاب میں بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

بلوچستان میں انسانی حقوق کے اداروں اور میڈیا کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کے حکام جبری گمشدگیوں سے انکاری ہیں اور پاکستان کے نگران وزیر اعظم کا کہنا ہیکہ صرف پچاس لوگ جبری گمشدہ ہے لیکن پنجاب میں بلوچ طلباء کو اُن کے یونیورسٹیوں کے احاطے سے جبری گمشدہ کیا جارہا ہے جس کے ثبوت بھی موجود ہیں، کیا وہ اب بھی جبری گمشدگیوں کے سنگین مسئلے کے حقیقت سے انکاری ہونگے؟

پنجاب میں بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں اور نسلی پروفائلنگ پر “ پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن نے لاہور کی یونیورسٹیوں میں پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بلوچ اور پشتون طلباء کو حراساں کرنے اور دو طلباء کی جبری گمشدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ بلوچستان اور پختونخوا کے طلباء کو خاص طور پر پنجاب میں غیر محفوظ ہیں۔ طلبا کو نسلی پروفائلنگ کا نشانہ بنانے کا یہ رواج ختم ہونا چاہیے۔ تمام طلباء کو یکساں طور پر ہراساں کیے جانے اور جبری گمشدگی کی خوف کے بغیر اپنی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ “

پنجاب یونیورسٹی لاہور کے طالب علم فرید بلوچ کو یونیورسٹی کے احاطے سے جبری گمشدہ کرنے پر شدید عوامی ردعمل کے بعد اسے پولیس کے حوالے کرکے منشیات کے بوگس کیس میں اُس کی گرفتاری ظاہر کی ہے لیکن ایرڈ یونیورسٹی راولپنڈی کے طالب علم فیروز بلوچ کی جبری گمشدگی کو ایک سال گزرنے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی احکامات کے باجود منظر عام پر نہیں لایا گیا ہے ۔

تربت سے چار طالب علم جبری گمشدہ ہیں اور بلوچستان یونیورسٹی کے دو سال سے جبری گمشدہ طلباء سہیل اور فصیح بلوچ کی عدم بازیابی کے خلاف کوئٹہ میں احتجاج کیا جارہا ہے۔ بلوچستان میں طلباء عدم تحفظ کے شکار ہیں اور پاکستان کے حکام جبری گمشدگیوں کو ختم کرنے کے بجائے اِس سنگین مسئلے سے انکاری ہیں۔ اِن حالات میں عالمی انسانی حقوق کے اداروں کی زمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں کہ بلوچستان کے سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔