یہ زمین عطاءاللہ مینگل اور خیربخش مری جیسے لوگ پیدا نہ کرسکی تو ہمیں بلوچستان کی فاتحہ پڑھ لینی چاہیے۔اختر مینگل

265

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان کی سرزمین اگر سردار عطاءاللہ مینگل اور خیربخش مری جیسی لوگوں کو پیدا نہیں کرسکی تو پھر ہمیں فاتحہ خوانی پڑھنی چاہیے، گاندھی کو ماتما گاندی بنانے والے احساس نے سردار عطاءاللہ کو سردار عطاءاللہ مینگل بنایا، قومی احساس ختم لوگ مراعات، رتبے اور وزارتوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، بلوچستان کی مٹی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی وجہ سے پارلیمنٹ جانا پڑتا ہے، جمہوری جدوجہد کے تسلسل کے ذریعے قومی حقوق حاصل کئے جاسکتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام سردار عطا اللہ مینگل کی یاد میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سردار اختر مینگل نے کہاکہ بلوچستان میں خونخوار چھیلے یہاں کی سڑکوں پر آئے اور ہمارے بچوں کو گھروں سے جھپٹ کر لے کر جاتے ہیں، ہم شتر مرغ کی طرح اپنا سر مٹی میں چھپا کر اپنے آپ کو یہ احساس دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم نے کچھ نہیں دیکھا، یہ وہ احساس ہے کہ گاندھی کو مہاتما گاندھی بنایا یہ وہ احساس ہے کہ سردار عطا اللہ کو سردار عطا اللہ مینگل بنایا اگر آپ لوگوں میں یہ احساس موجود ہے تو میں مایوس نہیں ہوں گا کہ یہاں پر کئی اور سردار عطا اللہ مینگل اور کئی اور خیر بخش مری بھی ہوں گے لیکن اگر یہ سرزمین بانجھ ہوگئی ہے تو افسوس کے ساتھ بانجھ ہی کے لیے فاتحہ پڑھ سکوں گا، آج ہر روز ہر گاﺅں میں ہماری تذلیل کی جارہی ہے، سڑکوں پر ہمارے بزرگوں کی پگڑیاں اچھالی جارہی ہیں، انہی شاہراہوں سڑکوں پر ہماری ماں اور بہنوں کی دوپٹے اٹھائے جارہے ہیں ہم میں احساس ختم ہو چکا ہے اس وقت سردار عطا اللہ مینگل وزارت اعلی کیلئے تیار نہیں تھے آج ہر سیاسی پارٹی کے قائدین سے لیکر کارکنوں تک ریل پیل ہے کہ میں کیسے ایم پی اے بنو ہماری عوام اس جستجو کی دوڑ میں لگی ہوئی ہے کہ ہم کہی فاتحہ پر بھی جاتے ہیں لوگ درخواستیں دیتے ہیں کہ مجھے نوکری دیا جائے ہم میں قومی احساس و قومی جدوجہد بالکل ختم ہوچکی ہے۔

“ہم مراعات اور رتبے اور وزارتوں نوکریوں کے دوڑ میں لگے ہوئے ہیں جب تک ہم نے ان تمام مراعتوں سے چھٹکارا حاصل نہیں کیا، میں یہ نہیں کہتا کہ ہم پارلیمنٹ میں نہ جائیں لیکن پارلیمنٹ میں رہتے ہوئے اگر ہمیں بلوچستان میں ہونے والی زیادتیوں کا احساس نہیں ہوتا تو ہمیں پارلیمنٹ میں بھی جانے کا کوئی حق نہیں، بلوچستان کی مٹی کی کوک کے خاطر اپنے آپ میں یہ سوچ لانی ہوگی کہ بلوچستان کے احساس محرومی کو تقویت اور اہمیت دینی ہوگی تاکہ منزل کی طرف گامزن ہو اگر ہماری منزل بلوچستان اور بلوچستان میں بسنے والے تمام اقوام چاہے بلوچ، پشتون، ہزارہ، سیٹلر کو بلوچستانی کہتا ہوں، ان کے حقوق کا علم بلند کرکے میدان میں ہم نہیں اتریں گے اس وقت تک بلوچستان کے جائز حقوق لینے میں ہم کامیاب نہیں ہوں گے، اس دنیا میں کروڑوں عطا اللہ منگل پیداہوئے ہیں، صوبے بلوچستان کے باہر اگر لاکھوں میں نہیں تو ہزاروں میں سردار عطا اللہ مینگل، صوبہ بلوچستان میں کئی سردار ہوں گے لیکن سردار عطا اللہ مینگل کیسے بنے حقیقتاً ہمیں بچپن سے ہی باپ کی شفقت سے محروم رکھا گیا، میری عمر چار ماہ کی ہوگی جب ان کو پہلی مرتبہ گرفتار کیا گیا، یہ وہ عمر ہوتی ہے کہ بچہ بولنا سیکھتا ہے، ایک سال کی قید کے بعد ایوبی مارشل لا کے خلاف کنگری گراﺅنڈ میں تقریر کرنے کے جرم میں ایک سال قید کرلیا جب پہلی مرتبہ ہمیں کراچی جیل ان کی پیشی پر لے جایا گیا کیونکہ ہم نے دیکھا ہی نہیں تھا اور جیل کی سلاخوں میں عدالت جاتے ہوئے ایک خوف سا محسوس ہورہا تھا، آپ نے دو تصویریں دیکھی ہوگی وہ دو تصویریں کراچی جیل میں لی گئی تھیں، ان دو تصویروں میں میں موجود نہیں، ایک میرے بڑے بھائی اور دوسری میری بہن تھی میں خوف کے مارے نہیں جاسکتا تھا کیونکہ میں نے اپنے والد کو دیکھا ہی نہیں تھا اور نہ ہی ان کی آواز سنی تھی۔”

“سردار عطا اللہ مینگل کی رہائی کے دو ماہ بعد باپ اور بیٹے کوکراچی منگھو پیر سے گرفتار کرکے ٹرک کے ذریعے مچھ جیل لایا گیا، اس وقت کوئی سپر ہائی وے بھی نہیں تھی، آج بھی آپ کوئٹہ سے خضدار اچھی ایئر کنڈیشن گاڑی میں سفر کریں تو آپ کی کمر میں تکلیف ہوگی، ان عظیم لوگوں نے ایسی قربانیاں دی ہیں، بلوچستان کی مٹی کی خاطر پانچ سال کی سزا کاٹی، رہائی کے بعد پھر بلوچستان کا دورہ شروع کردیا، ہمیں کہاں سے شفقت ملتی ان دوروں کے بعد 1970ءکے الیکشن کا اعلان ہوا پھر الیکشن کمپین میں چلے گئے، بلوچستان میں نہ کوئی سڑک اور نہ ہی کوئی موبائل فون تھا۔ انہوں نے چار مہینے میں پورے بلوچستان کا الیکشن کمپئن کا دورہ مکمل کرلیا۔”

انہوں نے کہا کہ جب سردار عطا اللہ مینگل 9 مہینے کیلئے وزیراعلیٰ بنے تو ہمیں انہوں نے کوئٹہ آنے سے سخت منع کیا تھا کہ کوئی بھی کوئٹہ نہیں آئے گا، ابھی آپ دیکھیں وزیراعلیٰ ہاﺅس میں خاندان کے جتنے افراد ہیں ان کے دفتر باقاعدہ قائم ہیں، جب سردار عطا اللہ مینگل وزیراعلیٰ بلوچستان تھے تو میرے اور بھائی گورنمنٹ اسکول میں تعلیم حاصل کررہے تھے نہ کہ ایچی سن یا کوئی اعلیٰ اسکول میں تعلیم حاصل کرتے، 9 مہینے کی حکومت ختم ہونے کے بعد پھر سردار عطا اللہ مینگل کو جیلوں میں پابند سلاسل کردیا گیا، اس کے بعد سردار عطا اللہ مینگل نے جلا وطنی کی اور مجھے ملنا نصیب ہوا بلوچستان میں کئی ایسے لوگ ہوں گے جو اپنے ماں باپ کی شفقت سے محروم ہوں گے آج بھی مسنگ پرسن جو کئی باپ اپنے بچوں سے محروم ہے ان کا ذمہ دار کون ہے ان سب کے بچپن کے دن واپس دلائے جاسکتے ہیں۔