نواب نوروز! شہداء بلوچستان اور ایکس کیڈرز (سولہواں حصہ) ۔ عمران بلوچ

204

نواب نوروز، شہدا ء بلوچستان اور ایکس کیڈرز
(سولہواں حصہ)

تحریر: عمران بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

اگست کا مہینہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی بلوچ قوم پر بھاری گزر رہا ہے، آخری عشرہ باقی رہتا ہے، نجانے اس أخری دس دن میں مزید کیا کیا دیکھنے کو ملے۔ اب تک چالیس سے زائد بلوچ نوجوان طالب علموں کو جبری گمشدگی کا شکار بنایا جا چکا ہے، ان کے علاوہ پانچ بلوچ خواتین کو بھی مسنگ کرنے کی اطلاعات ہیں۔

یہ وہ تعداد ہے جو لوکل میڈیا رپورٹس میں اپنے لئے جگہ بنا پائی ہے وگرنہ اصل تعداد اس سے بہت زیادہ ہے۔

رہی بات میرے اصل موضوع کی تو ایکس کیڈرز کی روز اول سے بننے کا زکر میں اپنی معلومات کے مطابق اپنے اس مضمون میں مکمل طورپر لا چکا ہوں، ایکس کیڈرز کے نام سے جتنے بھی سیاسی پروگرامز انھوں نے کیئے، کب اور کہاں ان پروگرامز کا انعقاد کیا گیا، کون کون سے political means استعمال ہوئے ان سب کا بھی تذکرہ میں یہاں بیان کر چکا ہوں۔

ان کے جاری کردہ کچھ پریس ریلیز اور طریقہ کار سارا طرز سیاسی تھا اور سیاسی ہے، ہاں البتہ موقع کی مناسبت سے یہ ہر جگہ اپنا بیانیہ اور پریس ریلیز تبدیل کرتے رہے ہیں۔ مگر سچائی اور مارکیٹ کی باتیں یہی ہیکہ یہ لوگ اپنی اپنی پارٹیوں کو بلیک میل کرنا اور اپنی گندی ضروریات و خواہشات کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں۔

خیر یہ ایکس کیڈرز اپنی اپنی پارٹیوں کو بلیک میل کریں یا انکی وابسطہ پارٹیاں بلوچ قومی تحریک کو بیچیں بات تو ایک ہی ہے البتہ ان ایکس کیڈرز کا مسئلہ پروٹوکول، ملازمت، روزی روٹی، ٹیکہ، میڈیا کوریج، ذاتی ترقی اور گروہی مفادات کے سوا کچھ نہیں ہے۔

جس طرح ریاستی اداروں نے بلوچ نوجوانوں کو فوکس کیا ہے بالکل اسی طرح ایکس کیڈرز کا بھی بلوچ طلبہ کو منفی طور پر زیر بحث لانا ، اسی خضدار پروگرام کی اندرونی کہانی انتہائی تشویش ناک و پریشان کن ہیں۔

یہ لوگ اپنے اس بیٹھک کو ذاتی اور گروہی اتحاد یا پھر دوستانہ پلیٹ فارم کہتے نہیں تھکتے مگر جس طرح انھوں نے اپنے غیر سیاسی پن و علمی کمتری اور کردار میں کمزوری کی وجہ سے بی ایس او کو زوال پذیر کرکے بلوچ قومی کاز سے بار بار منحرف ہوئے ہیں اس کی زندہ مثال یہ خود ہیں اس کے علاوہ حالیہ خضدار پروگرام ان کے پریس ریلیز اور انٹرویوز ہیں۔

اب کی بار ایک دفعہ پھر انہوں نے رہی سہی کسر ایکس کیڈرز گروپ بنا کر نہ صرف پوری کردی بلکہ سیاسی ماحول کو بھی پراگندہ کیا ہے۔ سیاسی تقسیم در تقسیم کی روایت جو ہمیشہ سے ان کی ریت رہی ہے انھوں نے اپنے اس غیر سیاسی رویئے کو ایک مرتبہ پھر سے دہرایا ہے اور ایک غلط سیاسی طریقہ کار کی بنیاد ڈال دی ہے۔

ایک سیاسی پارٹی سے وابستگی رکھتے ہوئے کسی اور پلیٹ فارم سے سرگرمی کرنا، تاثر کیا دیا جارہا ہے؟ ان کی وابسطہ سیاسی پارٹی و پارٹی سربراہان کو ادارے کی حیثیت سے ان سے جواب طلبی کرنا چاہیے تھا پر پارٹی اور لیڈر بچھے کہاں ہیں۔

ان کے نقش قدم پر چل کر طفل ایکس کیڈرز و تالی چٹ کو شے ملا کہ مزید پریس کانفرنسز ہوئے، کیونکہ ان سب کو ایکس کیڈرز کی وجہ سے شے ملا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کے بجائے اور لیڈر شپ و پارٹی وابستگی کے ہوتے ہوئے خودروہانا انداز میں میڈیا کے سامنے آئے جس کی وجہ سے ایک اور غیر سیاسی روئے کی بنیاد پڑی یا سابق غیر سیاسی روایات کو پزیرائی ملی۔ اسی تسلسل کو آگے بڑھا کر بغیر کسی سیاسی پارٹی کے الائنس بنا، اسی طرح ایک اور بزرگ ایکس کیڈرز بننے جارہا ہے۔

میں سمجھتا ہوں بلوچ سیاسی سماج کو polarisation اور Depoliticise کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔
چاہے کالونائزر ہو یا اس کے ہواری ان سب کا اہم مقصد قومی تحریک کی راہ کو روکنا ، قبضہ گیر کو خوش کرنا اور بلوچ نوجوانوں کو نشانہ بنانا ہے۔

بہت سارے اور بھی معاملات ہیں جنھیں میں یہاں دہرانا نہیں چاہتا البتہ اتنا ضرور کہوں گا کہ ان سب کا بی ایس او کا عہدیدار ہوتے ہوئے کیا عمل و کردار رہا ہے جو ایک مرتبہ پھر یہ متحرک ہوئے ہیں؟ خاص کر جب قبضہ گیر کے ووٹ و الیکشن نزدیک ہوں۔

اندازہ کریں کچھ حضرات کاٹن پہن کر ، بالوں کو کلر کرکے، چہرے پر میکپ کرواکے اور نظروں کی عینک پگا کر خود کے یوتھ ہونے اور بلوچ نوجوانوں کی تربیت کا بیڑا اٹھانا چاہتے ہیں، آخر یوتھ کا حد عمر کیا ہے؟ اس کی کوئ میڈیکل، بائیولوجیکل، لوکل اور یونیورسل تعریف ہے بھی کہ نہیں؟ قوم کی تقدیر بدلنا اپنی جگہ مگر تربوز تربوز سے رنگ پکڑتا ہے کہ مترادف چاہے ایکس کیڈرز ہوں یا موجودہ بی ایس اوز کی قیادت ان سب کی طرف سے ایک بیان مسلسل پڑھنے کو ملتا ہے جی مرکزی چیئرمین، مرکزی سیکریٹری جنرل، یا مرکزی وائس چیئرمین ، اب یہ سارے عہدے ہوتے ہی مرکزی ہیں، یونٹ، زون یا سینٹرل کمیٹی میں تو چیرمین، وائس چیرمین یا سیکریٹری جنرل تو نہیں ہوتے، تو سواۓ رسوائی اور کم علمی کے ایسا بیان جاری کرنا چے معنی داریت؟

یہ بالکل ایسا ہے جیسے کوئی وکیل اپنے نام کے ساتھ لکھے وکیل سپریم کورٹ آف پاکستان، بلکہ بہت سے وکیل لکھتے بھی ہیں، اب انھیں کوئی سمجھائے کہ بھئی واضح ہے تم سپریم کورٹ آف انڈیا یا افریقہ کے وکیل نہ ہوئے تو ایسا لکھنے سے فرق کیا پڑتا ہے یا ضرورت کیا ہے۔
بس بات کالونیل اثرات کے ہیں اور کچھ نہیں۔

جاری ہے


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔