سیاسی و فکری ساتھیوں کا جاگیرداریت اور قبائلیت کو کمزور کرنے میں بڑا کردار ہے، ڈاکٹر مالک

204

بلوچستان سے ترقی پسند سوچ و فکر کو نکالنے کی سازش ہورہی ہے سیاسی کارکنوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے بلوچستان کے سیاسی و فکر ساتھیوں نے جاگیرداریت اور قبائلیت کو کمزور کرنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے ۔

ان خیالات کا اظہار نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے آرٹس کونسل میں عوامی حقوق کے زیر اہتمام جمہوریت کے مستقبل کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کھا۔

انھوں نے کھاکہ بلوچ سیاسی کارکن نے ابھی تک کمپرومائز نہیں کیا ہے ہمیں جمہوریت کو مضبوط کرنے اور جمہوری اداروں کے مستحکم کرنے کی ضرورت ہے جب تک پارلیمنٹ بالادست اور آئین کی حکمرانی نہیں ہوگی تب تک مسائل و مشکلات میں کمی نہیں ہوگی۔ ملک میں مداخلت کے بغیر صاف و شفاف انتخابات جمہوریت کے استحکام کے لیے اہم ہے ۔

انھوں نے کھاکہ نزیر عباسی اور دیگر سیاسی قائدین نے عوام کی بالادستی جمہوریت کے استحکام اور انسانی حقوق کے حصول کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ کانفرنس سے تاج حیدر ، محمد زبیر، اختر حسین ایڈوکیٹ، مظہر عباس، ڈاکٹر توسیف اور ڈاکٹر جبار خٹک نے بھی خطاب کیا۔

دریں اثنا نیشنل پارٹی کوئٹہ کے زیر اہتمام میر غوث بخش بزنجو اور میر حاصل خان بزنجو کی برسی کے مناسبت سے تعزیتی ریفرنس پارٹی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔

تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے مرکزی سنیئر نائب صدر میر کبیر احمد محمد شہی صوبائی جنرل سیکرٹری خیر بخش بلوچ نے میر غوث بخش بزنجو اور میر حاصل خان بزنجو کی شعوری فکری اور جمہوری مزاحمتی جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بابائے بلوچستان اور میر جمہوریت کی جہد مسلسل تاریخ میں ہمیشہ امر رہے گی۔بابا نے آئین کی تشکیل کرتے ہوئے قدموں کی حق حاکمیت و بقا اور عوام کی بنیادی شہری حقوق کو تحفظ اور ون یونٹ کو توڑ کر محکوم قومیتوں کو وحدت فراہم کیا۔

انہوں نے کہاکہ یہ الگ بات ہے کہ ملک میں آئین و قانون کی پامالی اور جمہوریت پر قدغن جاری رہا۔

انہوں نے کہا کہ بابائے بلوچستان نے طویل قید و بند کی صعبوتیں برداشت کی اور عوام کو منظم کرنے اور جمہوریت کے استحکام کے لیے پوری زندگی صرف کی۔

رہنماوں نے کہا کہ میر حاصل بزنجو جمہوریت آئین کی بالادستی پارلیمنٹ کی سپر یمسی اور بلوچ سمیت دیگر محکوم قوموں کی توانا آواز تھے۔

انہوں نے 18 ویں ترمیم کے زریعے بلوچستان سمیت دیگر چھوٹے صوبوں کے اختیارات میں تقویت اور وسائل کو تحفظ فراہم کیا۔رہنماوں نے کہا کہ آج اگر ملک سنگین سیاسی معاشی و سماجی مسائل و بحرانوں کا شکار ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ جمہوریت پر شب خون مارنے کی تسلسل اور آئین و قانون کو روندنے کے بدولت ہے۔

رہنماوں نے کہا کہ افسوس ہے کہ ملکی اشرافیہ ابھی تک مثبت سوچ سے عاری ہے اور سیاسی عمل کو روکنے کی منفی پالیسیوں پر گامزن ہے۔بلوچستان کی مردم شماری کوکم کرنا اسی منفی پالیسیوں کی تسلسل ہے۔

رہنماوں نے کہا کہ لاپتہ افراد ملک کا سنگین مسلہ ہے اس لیے اس کو حل ہونا چاہیے اور جو بھی آئین کو مطلوب ہے اس کو آئین کے مطابق ٹرائل کیا جائے۔

تعزیتی ریفرنس سے نیشنل پارٹی کے مرکزی خواتین سیکرٹری یاسمین لہڑی مرکزی رہنما انجنئیر حمید بلوچ صوبائی خواتین سیکرٹری کلثوم نیاز بلوچ سائرہ بتول ریاض زہری نعیم بنگلزئی نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر و ضلعی حاجی عطا محمد بنگلزئی نیاز بلوچ یونس سمیت دیگر موجود تھے۔