آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور پاکستان آرمی ترمیمی بل پر دستخط نہیں کیے: صدر عارف علوی

157

پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے واضح طور پر تردید کی ہے کہ انہوں نے آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ 2023 اور پاکستان آرمی ایکٹ 2023 پر دستخط نہیں کیے۔ البتہ ان کے عملے نے ان کی مرضی اور حکم کو مجروح کیا۔

اتوار کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں صدر عارف علوی نے کہا کہ خدا گواہ ہے کہ انہوں نے آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل اور پاکستان آرمی ترمیمی بل پر دستخط نہیں کیے کیوں کہ وہ ان قوانین سے متفق نہیں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے عملے سے کہا کہ وہ بغیر دستخط شدہ دونوں بل مقررہ وقت کے اندر واپس ارسال کر دیں تاکہ انہیں غیر مؤثر بنایا جاسکے۔

تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ صدر عارف علوی نے یہ احکامات تحریری طور پر دیے تھے یا یہ زبانی حکم تھا۔

سوشل میڈیا پوسٹ میں صدر عارف علوی کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے عملے سے کئی بار تصدیق کی کہ آیا وہ دونوں بل واپس جا چکے ہیں۔ ان کے بقول انہیں یقین دلایا گیا کہ وہ بل واپس جا چکے ہیں۔

صدر عارف علوی نے دعویٰ کیا کہ انہیں آج پتا چلا کہ ان کے عملے نے ان کی مرضی اور حکم کو مجروح کیا۔

ان کے بقول جیسا کہ اللہ سب جانتا ہے، وہ انشااللہ معاف کر دے گا۔ لیکن “وہ ان لوگوں سے معافی مانگتے ہیں جو ان قوانین سے متا ثر ہوں گے۔”

’صدر کو اپنے اعمال کی ذمہ داری خود لینا چاہیے‘

دوسری طرف وزارتِ قانون و انصاف نے صدر علوی کی حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وزارت کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 75 کے مطابق جب کوئی بل منظوری کے لیے صدر کو ارسال کیا جاتا ہے تو صدر کے پاس دو اختیارات ہوتے ہیں۔ یا اس بل کو منظور کر لیا جائے یا پھر مخصوص مشاہدات کے ساتھ یہ معاملہ دوبارہ پارلیمان کو بھیج دیا جاتا ہے۔

بیان کے مطابق آرٹیکل 75 میں کوئی تیسرا آپشن نہیں ہے۔

وزارت قانون کے مطابق مذکورہ معاملے میں کوئی بھی ضروریات پوری نہیں ہوئیں۔ اس کے بجائے صدر نے جان بوجھ کر منظوری میں تاخیر کی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بلوں کو بغیر کسی مشاہدے یا منظوری کے واپس کرنا آئین میں فراہم نہیں کیا گیا ہے۔ ایسا اقدام آئین کی روح کے منافی ہے۔

وزارتِ قانون کے مطابق اگر صدر کے پاس کوئی مشاہدہ تھا تو وہ اپنے مشاہدات کے ساتھ بل واپس کر سکتے تھے جیسا کہ انہوں نے ماضی میں کیا تھا۔ وہ اس سلسلے میں ایک پریس ریلیز بھی جاری کر سکتے تھے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ تشویش ناک بات ہے کہ صدر نے اپنے ہی عہدیداروں کو بدنام کرنے کا انتخاب کیا ۔ صدر کو اپنے اعمال کی ذمہ داری خود لینی چاہیے۔