قابض پاکستان جعلی انتخابات سے قبل بلوچستان میں خونریزی چاہتا ہے۔ بی این ایم

202

پاکستان کے ڈھونگ انتخابات کے دوران جبری گمشدگیوں کو لوگوں کو بلیک میل کرکے ووٹ ڈالنے پر مجبور کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے ۔اس دوران ریاستی جبر میں شدت پیدا کرکے لوگوں میں خوف پیدا کیا جاتا ہے تاکہ عوام کو طاقت کے زور پر اس عمل کا حصہ بنایا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار بلوچ نیشنل موومنٹ کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کیا۔

انھوں نے کہا ماضی میں بھی پاکستانی انتخابات کے دوران جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں میں شدت لائی گئی ۔پاکستانی انتخابات کے قریب آتے ہی ایک مرتبہ پھر بلوچستان میں مختلف سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

انھوں نے کہا بلوچستان میں جبری گمشدگان کی بازیابی کا عمل سست ہوچکا ہے جبکہ پاکستانی فورسز روزانہ کی بنیاد پر درجنوں کی تعداد میں لوگوں کو جبری لاپتہ کر رہے ہیں۔

ترجمان نے کہا حالیہ جبری گمشدگیوں کی لہر نے ڈیرہ بگٹی کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔رواں مہینے میں درجنوں افراد کو جبری لاپتہ کیا گیا ہے جبکہ آبادیوں پر فوج کشی کرکے لوگوں کے جان و مال کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اسی طرح ضلع آواران اور ضلع کیچ میں ایک تسلسل سے جاری فوج کشی اور جبری گمشدگیوں میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

انھوں نے کہا بلوچستان بھر میں پاکستانی فوج کے تشدد سے لوگ ذہنی امراض میں مبتلا ہیں ، نوجوان خودکشیاں کر رہے ہیں جبکہ سماج میں خوف اور بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔

ترجمان نے کہا پاکستان میں روایتی انتخابی مہم کے دوران انتخابی امیدوار ایک دوسرے کے خلاف لفظی وار کرتے ہیں جبکہ مقبوضہ بلوچستان میں پاکستان کے ڈھونگ انتخابات کے دوران پاکستانی فوج کی پشت پناہی میں لوگوں کو طاقت کے زور پر جعلی انتخابات کا حصہ بنانے کے لیے جبر و تشدد کا سہارا لیا جاتا ہے۔

ترجمان نے کیاکہ آئندہ انتخابات کے دوران پاکستانی فوج ایک سازش کے تحت بلوچستان میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کرکے وسیع پیمانے پر خونریزی کرنے کے درپے ہے تاکہ اسے قبائلی اور سیاسی تنازعے کے طور پر پیش کرکے انسانیت کے خلاف اپنے جرائم کو چھپا سکے۔حالیہ دنوں وڈ اور دیگر علاقوں میں پاکستانی فوج اپنے سہولت کار ڈیتھ اسکواڈ کے ذریعے اسی سازش کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ آئندہ کٹھ پتلی حکومت کے قیام کے لیے اپنے کاسہ لیسوں کے لیے راہ ہموار کرسکے۔‘‘

انھوں نے کہا بلوچ قوم کو اس صورتحال کو سمجھتے ہوئے دوراندیشی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور اپنے سماج کو متحد رکھتے ہوئے قابض ریاست کے منصوبوں کو ناکام کریں۔بلوچ قوم پاکستان کے انتخابی عمل سے ہر سطح پر لاتعلقی اختیار کرکے قومی تحریک آزادی کو مضبوط کرئے۔