دوحہ معاہدے کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں – ذبیح اللہ مجاہد

646

دوحہ معاہدہ امریکہ و طالبان کے درمیان ہوا ہے، اس معاہدے کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ افغان طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت “اپنے پڑوسیوں کے حقوق پر عمل نہیں کرتی” اور دوحہ معاہدے کی پابند نہیں ہے۔

دوحہ میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوران طالبان کے نمائندوں نے وعدہ کیا کہ وہ افغانستان میں عسکریت پسندوں کو جگہ نہیں دیں گے اور اس ملک کی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا۔

لیکن طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی پشتو کو بتایا کہ “انہوں نے امریکہ کے ساتھ دوحہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں” اور اصرار کیا کہ افغانستان کی سرزمین “پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور پاکستان ایک برادر اور مسلمان ملک ہے۔”.”

پاکستان کے وزیر دفاع نے یہ بیانات پاکستانی فوج کے سربراہ کے اس بیان کے ایک روز بعد دیا جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کو افغانستان میں پاکستانی طالبان کے عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور کارروائی کی آزادی پر گہری تشویش ہے۔

خواجہ آصف نے ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ ‘گزشتہ 40-50 سالوں سے 50-60 ملین افغان اپنے حقوق کے لیے پاکستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں، لیکن اس کے برعکس پاکستانیوں کا خون بہانے والے دہشت گرد افغانستان کے سرزمین پر موجود ہیں۔ “

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت پاکستان ان کو ساتھ ثبوت فراہم کرتی ہے تو وہ پاکستانی طالبان کے خلاف اقدامات کریں گے۔”

دونوں پاکستانی فوجی رہنماؤں نے یہ بیانات بلوچستان میں حالیہ خونریز حملوں کے بعد دیے ہیں جن میں نو پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان کے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ‘یہ صورتحال جاری نہیں رہنی چاہیے، پاکستان اپنی سرزمین اور عوام کی حفاظت کے لیے اپنے وسائل استعمال کرے گی’۔

تاہم خواجہ آصف نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کس قسم کے وسائل استعمال کریں گے۔گذشتہ سال پاکستان کے فوجی طیاروں نے خوست میں وزیرستانی مہاجرین کے گھروں پر فضائی حملے کیے تھے جس میں بچوں سمیت کئی شہری مارے گئے تھے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ فوج کو افغانستان میں پاکستانی طالبان تحریک کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا چاہیے۔

بی بی سی پشتو نے ذیبح اللہ مجاہد سے پوچھا کہ اگر پاکستانی فوج افغانستان کی سرزمین پر دوبارہ حملہ کرتی ہے تو ان کا کیا جواب ہوگا؟”ہم سنجیدگی سے اس کی روک تھام کرتے ہیں اور کسی کو اپنی سرزمین پر تجاوزات کی اجازت نہیں دینگے۔”

واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کی ثالثی کے ذریعے کابل میں پاکستانی طالبان اور حکومت پاکستان کے نمائندوں کے درمیان متعدد بار مذاکرات ہوئے تھے تاہم کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

مجاہد کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کے لیے پاکستانی طالبان کے نمائندے شمالی وزیرستان سے آئے تھے اور اب جب کہ یہ مذاکرات بے نتیجہ ہو چکے ہیں، مذاکرات کی ثالثی بھی ختم ہوگئی ہے۔

پاکستانی طالبان کے مطالبات کیا تھے؟

پاکستانی حکومت نے کہا تھا کہ مذاکرات کے دوران پاکستانی طالبان نے کچھ ایسے مطالبات کیے تھے جنہیں ماننا مشکل تھا۔

ان مطالبات میں ٹی ٹی پی کے رہنماؤں پر سے تمام پابندیاں اٹھانا، پاکستانی طالبان کی سابقہ ​​قبائلی علاقوں میں ان کے ہتھیاروں کے ساتھ واپسی، طالبان قیدیوں کی رہائی اور سابق قبائلی علاقوں سے پاکستانی فوجیوں کا انخلا شامل تھا۔

ٹی ٹی پی نے یہ بھی درخواست کی کہ پاکستان کے آئین کے وہ آرٹیکل جو شریعت سے متصادم ہیں، اس گروپ پر لاگو نہ ہوں۔

مطالبات میں یہ بھی کہا گیا کہ سابق قبائلی علاقوں یا ایجنسیوں کا صوبہ پختونخوا میں انضمام منسوخ کیا جائے۔