گوادر احتجاج: ترقی کی نام پر احساسی محرومی کے سوا کچھ نہیں ملا

108

گوادر نیو انٹرنیشنل ائرپورٹ پر غیرمقامی بھرتیاں مقامی تعلیم یافتہ نوجوانوں کی حق تلفی کے خلاف احتجاج کیاگیا ۔

مظاہرین نے کہا کہ گوادر کے مختلف محکموں میں مقامی نوجْوان نظرانداز کیے جارہے ہیں۔ مظاہرین نے گوادر نیوانٹرنیشنل ائرپورٹ میں غیر مقامیوں کی بھرتی کے خلاف احتجاج کیا۔

احتجاج میں مختلف سیاسی و سماجی جماعتیں بھی شریک تھیں۔

مظاہرین نے کہا کہ گوادر کی زمینیں رہیں ناں ملازمت ملی بلکہ ترقی کی نام پر احساسی محرومی کے سوا کچھ نہیں ملا۔ گوادر کے انٹرنیشنل ائیر پورٹ کے ملازمتوں میں ضلع گوادر کے نوجوان نظر انداز کیا گیا۔

مقامی صحافی کے مطابق پنجاب سے لوگوں کو بھرتی کرنے کا عمل جاری ہے۔ اس سلسلے میں گوادر ضلع بھر کے نوجوانوں میں مایوسی ، مقامی قابل اور تعلیم یافتہ لوگوں کو بھرتی نہ کرنا ظلم کے مترادف ہے، فوری طورپر گوادر ائیر پورٹ کے اعلی عہدوں سے لیکر نچلی درجے تک کے بھرتی کا عمل منسوخ کیا جائے، مقامی لوگوں کو ترجیح دی جائے ۔

دریں اثنا نیشنل پارٹی گوادر کے تحصیل نائب صدر نصیراحمد نگوری نے اپنے جاری کردہ بیان گوادر کے نئے انٹر نیشنل ائیر پورٹ میں بھرتی ہونے والوں کی ایک فہرست سوشل میڈیا میں چل رہی ہے کہ گوادر نیو ایئر پورٹ کے ملازمین جوکہ تمام کے تمام غیر مقامی ہیں اگر یہ بات ہے تو حکومت بلوچستان اس کانوٹس لیں اور مقامی بے روز گار تعلیم یافتہ نوجوانوں کی حق تلفی کا ازالہ کریں، یہ سراسر ظلم و زیادتی ہے گوادر میں حالیہ بھرتیوں میں میرٹ کی پامالی کی گئی میں مقامی نوجوانوں کو نظر انداز کرکے غیر مقامی نوجوانوں کو دیگر صوبوں سے لاکر بھرتی کیا گیا غیرمقامی لوگوں کو بھرتی کیا ۔

جبکہ حق دو تحریک نے بھی اس عمل کی مذمت کی ہے اور اسے ناانصافی قرار دی ہے۔