نوشکی: ایس بی کے یونیورسٹی طالبات کا فیسوں میں اضافے کیخلاف دھرنا

289

سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کیمپس کی فیسوں میں اضافے کیخلاف طالبات کا شاہراہ پر دھرنا دیکر ٹریفک معطل کردی۔

ان کا مطالبہ تھا کہ فیسوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لیا جائے بصورت دیگر کلاسز سے بائیکاٹ کیا جائے گا ۔

اسسٹنٹ کمشنر نوشکی زاہد شاہوانی سے کامیاب مذاکرات کے بعد طالبات نے اپنا احتجاج ختم کردیا۔

علاہ ازیں نیشنل پارٹی نوشکی کے ضلعی ترجمان نے سردار بہادر ویمن یونیورسٹی کیمپس کے فیسوں میں اضافے کو ناقابل قبول اسٹوڈنٹس اور والدین پر اضافی بوجھ قرار دیتے ہوئے طالبات پر تعلیمی دروازے بند کرنے کی مترادف ہے جس سے طالبات کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا جس سے ان کیلئے تعلیم جاری مشکل ہوگا کیونکہ ہر نئے سال میں فیسوں میں اضافے سے طالبات زہنی کیفیت میں مبتلا ہوتے ہے آج سردار بہادر خان یونیورسٹی کے طالبات نے انتہائی مجبوری میں آر سی ڈی شاہراہ بلاک کیا جس سے ان کی مجبوریوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔

انہوں نے کہا 2022 ءکو فیس 6000تھا جوکہ طالبات کیلئے ایک بوجھ تھا اب 6000سے بڑا کر 23000کردیا گیا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ ظلم و زیادتی پر ہوتر آیا ہے جوکہ ان کی تعلیم دشمنی کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ اس مہنگائی کے دور میں طالبات خصوصاً والدین کیلئے یہ انہتائی پریشان کن اور اضافی بوجھ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔

انہوں نے وزیراعلی گورنر بلوچستان ، وی سی سردار بہادر خان یونیورسٹی سے پر زور اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس پالیسی اضافی فیسز پر نظرثانی کرتے ہوئے اس اضافی فیس کو ختم کرے تاکہ طالبات اپنے تعلیم کو جاری رکھ سکے دوسری صورت نیشنل پارٹی طالبات کے ساتھ مل کر ہر احتجاجی راہ اپنائیںگی ، نیشنل پارٹی طالبات کے ہر جائز مطالبات کیلئے ان کا ساتھ دے گی۔