سوڈان کے متحارب فریقوں میں معاہدہ، انسانی امدادی سرگرمیوں کی اجازت

51
WFP/Peter Louis

سوڈان کے متحارب فریقوں نے شہریوں کے لیے انسانی بنیادوں پر عالمی امدادی تنظیموں کے کام کو جاری رکھنے دینے پر اتفاق کیا ہے۔

عرب نیوز کے مطابق جمعرات کو جدہ میں مذاکرات کے بعد سوڈان کی مسلح افواج (ایس اے ایف) اور اس کے مخالف فریق ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) نے ایک معاہدہ پر دستخط کیے جس کے تحت دونوں عالمی انسانی امداد کے قانون پر عمل کے لیے سہولت فراہم کریں گے تاکہ عام شہریوں کی ضروریات اُن تک پہنچائی جاسکیں۔

معاہدے کو ’سوڈانی شہریوں کے تحفظ کے عزم کا جدہ ڈیکلریشن‘ کا نام دیا گیا ہے جس کو سعودی عرب کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دونوں فریقوں نے بات چیت کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے تاکہ ’مختصر مدت کی جنگ بندی کے ذریعے ضروری اشیا اور ہنگامی امداد پہنچائی جا سکے۔‘

سوڈان کے متحارب جرنیلوں ایس اے ایف کے سربراہ عبدالفتح البرہان اور آر ایس ایف کے کمانڈر محمد حمدان داغلو کے نمائندے گزشتہ سنیچر سے جدہ میں ’قبل از مذاکرات‘ بات چیت کر رہے ہیں۔

اس بات چیت کے لیے سعودی عرب سہولت فراہم کر رہا ہے جبکہ امریکہ اور اقوام متحدہ اس میں شریک ہیں۔

متحارب فریقوں نے جدہ ڈیکلریشن میں کہا ہے کہ ’ہم اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ سوڈانی عوام کے مفادات اور بہبود ہماری اولین ترجیح ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کی توثیق کرتے ہیں کہ شہریوں کو ہر وقت تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس میں شہریوں کو رضاکارانہ بنیادوں پر جنگ سے متاثرہ علاقوں سے نکلنے کے لیے محفوظ راستے کی اجازت دینا شامل ہے۔ اور وہ جس سمت کا بھی انتخاب کرتے ہیں۔‘

دونوں فریقوں نے اپنی اس ذمہ داری کی بھی توثیق کی کہ وہ ’شہریوں اور جنگجوؤں میں فرق روا رکھیں گے اور اسی طرح شہری املاک اور فوجی اہداف میں بھی فرق کو ہر وقت سامنے رکھا جائے گا۔‘

سعودی عرب اور امریکہ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ’اعلان انسانی امداد کی محفوظ ترسیل، ضروری خدمات کی بحالی، ہسپتالوں اور کلینکس سے افواج کے انخلاء اور مرنے والوں کی باعزت تدفین کے لیے دونوں افواج کے طرز عمل کی رہنمائی کرے گا۔‘

بیان میں کہا گیا کہ ’دستخط کے بعد، جدہ مذاکرات ان سرگرمیوں کو آسان بنانے کے لیے تقریباً دس دن کی موثر جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے پر توجہ مرکوز کریں گے۔ حفاظتی اقدامات میں امریکہ، سعودی عرب اور بین الاقوامی حمایت یافتہ جنگ بندی کی نگرانی کا طریقہ کار شامل ہوگا۔‘