روس کا کیئف پر فضائی حملہ، یوکرین کا 20 ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

147
فائل فوٹو

روس نے رات گئے یوکرین کے دارالحکومت پر فضائی حملہ کیا ہے جبکہ کئیف نے کم از کم 20 روسی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کو کیئف کے میئر ویٹالی کلٹشکو نے کہا کہ تباہ شدہ ڈرون کا ملبہ پیٹرول پمپ پر گرنے سے ایک 41 سالہ شخص ہلاک ہوا ہے، جبکہ روس کے کیئف پر حملے سے کم از کم تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔

کیئف کے میئر ویٹالی کلٹشکو نے سماجی رابطوں کی ایپ ٹیلی گرام پر لکھا کہ فضائی دفاعی افواج کیئف کی جانب بڑھنے والے بیس سے زائد ڈرونز کو تباہ کر چکی ہیں، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مزید ڈرون حملوں کا خدشہ ہے لہٰذا شہری گھروں تک ہی محدود رہیں۔

روئٹرز کے مطابق رات گئے فضائی حملوں کے دوران خطرے کے سائرن بجتے ہی اکثر شہری اپنے گھروں کی بیلکونی میں نکل آئے تھے جبکہ کچھ ’فضائی دفاع‘ کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔

میئر ویٹالی کلٹشکو نے بتایا کہ ڈرون کا ملبہ سات منزلہ غیر رہائشی عمارت پر گرنے سے آگ بھڑک اٹھی۔ یہ عمارت کیئف کے مغربی علاقے میں واقع ہے جو ریل اور فضائی سفر کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔

جبکہ کیئف کے ایک تاریخی علاقے میں بھی نو منزلہ عمارت پر ڈرون کا ملبہ گرنے سے آگ بھڑک اٹھی تھی۔

سنیچر کو روسی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ یوکرین نے متعدد ڈرون حملوں میں روس میں واقع تیل پائپ لائن کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے جس میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران روس کے اندر یوکرینی ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ دوسری جانب امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ اداروں کے خیال میں رواں ماہ کے آغاز میں کریملن پر ہونے والے ڈرون حملوں میں بھی یوکرین کا ہاتھ ہے۔

تاہم یوکرین نے روس کے اندر ڈرون حملے کرنے کا اعتراف نہیں کیا۔

سنیچر کو روس کے مشرقی مغربی علاقے تیوور میں واقع دنیا کی سب سے بڑی تیل پائپ لائن ’دروژبا‘ کے سٹیشن کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

سوویت دور میں تعمیر ہونے والے دروژبا سٹیشن یومیہ 20 لاکھ سے زائد تیل پمپ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تاہم یورپ کی جانب سے روسی تیل پر انحصار کم سے کم کرنے کے فیصلے کے بعد دروژبا سٹیشن اپنی صلاحیت سے بہت کم استعمال میں لایا جا رہا ہے۔

گزشتہ روز روسی وزارت دفاع نے بریفنگ میں بتایا تھا کہ پچھلے 24 گھنٹوں میں 12 یوکرینی ڈرون مار گرائے ہیں جبکہ دفاعی نظام نے دو سٹورم شیڈو کروز میزائل روکے ہیں جو برطانیہ کی جانب سے یوکرین کو سپلائی کیے گئے تھے۔