جمہوریت یا آمریت ۔ برکت مری

240

جمہوریت یا آمریت

تحریر: برکت مری
دی بلوچستان پوسٹ

اس ملک میں کونسی جمہوریت ہے عام آدمی کیلئے یہ سمجھنا مشکل ہے وہی جمہوریت جس پر آمریت قابض ہے۔ پاکستان 14 اگست 1947 میں ایک الگ ریاست بنا اسکے حریف انڈیا ایک دن بعد 15 اگست 1947 کو الگ ریاست بنا جبکہ انڈیا کی آئین 26 جنوری 1950 میں نافذ ہوکر خود مختار جمہوری جمہوریہ بن گیا اور پاکستان کی آئین 23 مارچ 1956 میں نافذ العمل کیا گیا یعنی انڈیا کی آئین ڈھائی سال میں اور پاکستان کی نو سال بعد کیونکہ اس ملک کے طاقتور اداروں میں اختیارات کی جنگ تھی کہ ہر ادارہ اپنی طاقت اپنی پروٹوکول کو زیادہ اہمیت و طاقتور بنانے کی کوشش میں تھے کہ تمام طاقت و اختیارات کس کے پاس ہوں نو سال لگے اس کشمکش میں۔ جب آئین پاکستان 1956 میں بنا تو پھر بھی اسکی عمر دو سال چھ ماہ رہی 7 اکتوبر 1958 کو مارشل لاء کے تحت ختم کردیا گیا پھر آئین کو طاقتور قوتوں نے تبدیل کرکے انگریزوں کی آئین سے مشابہت 1962 کا آئین صدراتی نظام متعارف کروایا 1970 میں مشرقی پاکستان کے بعد پھر آئین سازی شروع ہوئی انہیں مستقل شکل دینے کی جدوجہد جاری کی گئی آئین بنتے گئے بدلتے رہے جس میں بہت سے شق و ترامیم عوام کی فلاح و بہبود کیلئے نہیں بلکہ طاقتوروں کیلئے کیا گیا۔

56/ سے 73 تک ہر دور میں آئین کو مارشل لاء و طاقتوروں کی حکمرانی میں رد و بدل کیا گیا کئی بار فوج کئی بار جمہوری حکومتوں کی مدت پوری نہیں ہوئی کہ انکی حکومتیں گرائی گئی ان تمام عوامل کا مقصد تاکہ اس ملک میں کنٹرول حاصل کیا جا سکے اب تک ہر کسی نے اپنی مفادات کو تقویت دینے کیلئے کم سے کم چالیس سے کم و بیش ترامیم کیے گئے حالیہ پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کی کوشش انہی کا تسلسل ہے۔

بنام اس ملک کا آئین اسلامی جمہوری پاکستان ہے لیکن اس میں جمہوریت کہیں نظر نہیں آتا ہے 18 ویں صدی جمہوریت یونانیوں کے تین سو سال قدیم نظام ہے جو آج مختلف ممالک میں رائج ہے جس ملک میں جمہوری نظام قائم ہے وہاں خوشحالی و ترقی ہے وہاں عوامی مفاد عامہ پنپتے ہیں جس ملک میں سیکورٹی نظام ہے وہاں آج بھی انسانی حقوق کی شدید پامالیاں عوامی اظہارِ رائے حق رائے دہی متاثر ہے اگر دیکھا جائے پاکستان عصری دور میں واحد ملک ہے جنہیں خالص جمہوریت سمجھا جاتا ہےجمہوریت کا مقصد و مطلب اداروں میں عوامی رائے اور برائے راست انکی شمولیت اور وہ اپنی مشترکہ حق رائے دہی سے پاک شفا طریقے سے کسی کو چن کر اپنی نمائندہ بناتے ہیں تمام عوامی اراکین کو عوامی مفاداتِ عامہ کے فیصلے کی اختیار حاصل ہے جو انکی حقوق اور ملکی سالمیت کی بقا کی جدوجہد کریں گے لیکن ہمارے ملک کی جمہوریت اور آمریت کی تعین کرنا عام آدمی کیلئے مشکل ہے نہ ملک کی قابض جمہوریت نے عوام کو آسودگی دی ہے نہ آمریت نے دی ہے جمہوری ادارے اپنے ڈھانچے میں موجود ہیں لیکن عوام کی رائے عوامی نمائندوں کی اختیارات اس میں کہیں شامل نہیں ہیں جب وفاق میں جمہوری حکومتیں بنتی ہیں تو اپوزیشن یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ مقتدر قوتوں و اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے لائے گئے ہیں انہیں عوامی مینڈیٹ حاصل نہیں ہے یہی حال صوبوں کا ہے واقعیتاً آگر آج وفاق اور صوبائی اسمبلی میں دیکھیں ایسے شخص اسمبلیوں میں لائے جاتے ہیں جنہیں عوام سے نہ سیاست سے کوئی تعلق ہے جو جمہوری سیاسی پلیٹ فارم سے جنم لیتے ہیں وہ عوامی لوگ ہیں وہ اقتدار سے باہر ہیں آگر اقتدار میں آ بھی جائیں تو وہ بھی اس کنٹرولڈ جمہوریت میں بے اختیار بے زبان ہوتے ہیں انکے فیصلے کہیں اور سے آتے ہیں۔

جب جس نظام کے اختیارات و فیصلے منصب پر بیٹھے شخص نہیں کرسکتے انہیں جمہوریت نہیں آمریت کہتے ہیں ملکی و سوسائٹی کا زوال تو یہی ہوتا ہے کہ جن اداروں کو آئینی حیثیت و آئینی اختیارات حاصل ہیں ان کے اختیارات پر قبضہ کرکے انہیں اختیار نہیں دیا جاتا ہے اور جن کو اختیار حاصل ہے وہ اختیارات ملکی عوامی مفاداتِ عامہ کے خلاف استعمال ہوتے ہیں جن ادارے کو ملک بھر میں منشیات کی روک تھام کی زمہ داری دی گئی ہے وہ منشیات پکڑنے اور فروخت کرنے والا کاروباری مرکز بن جائے ہے جن کو امن و امان قائم کرنے کی زمہ داری دی گئی وہ جرائم پیشہ افراد کے ساتھ سودا بازی کررہی ہے جن کو ملکی سالمیت کیلئے زمہ داری دی گئی ہے وہ اور اداروں کی اختیارات حاصل کرکے اور زمہ داری ادا کررہے ہیں جن کو انصاف دلانے کی زمہ داری دی گئی ہے وہ انصاف معاوضہ کے نام فروخت کررہے ہیں جن جمہوری ادارے قومی و صوبائی اسمبلیوں کو عوامی مفاداتِ عامہ کی دفع انکی فلاح و بہبود کی زمہ دار سمجھا جاتا ہے ان پر اور کا قبضہ ہوان میں سول ڈریس میں آمر بیٹھے ہیں جو ریموٹ کنٹرول سے چلتے ہیں اور انہیں جمہوریت کا نام دیا جاتاہے ہمیں شروع سے لیکر آج تک اور آنے والے کل تک غلط بے بنیاد اسٹیڈی مطالعہ کیا جاتا رہا ہے کہ ہم جمہوری ملک میں رہتے ہیں دنیا میں وہی سماج وہی ملک وہی قومیں ترقی کریں گے جس میں تین اہم چیزیں ہوں ، انصاف، سچ گوہی، مخلصی، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں سچائی پر پابندی ہے سچ بولنے لکھنے والے کی آواز ہمیشہ کیلئے خاموش کیے جاتےہیں اور انصاف بازار میں فروخت ہوتی ہے مخلص شخصیت کو قید و بند سلاسل یا یہاں کے نظام سے اتنا تنگ کیا جاتاہے کہ وہ باغی بن جائے یہ خوش امدوں کا ملک ہے جس نے بنگلہ دیش پر ظلم کرکے ظالموں کی حوصلہ افزائی کی اور آج وہی بلوچستان کے حقوق پر قابض ہوکر سب ٹھیک کے قصیدے خوان ہیں جنہوں نے عوام کی نمائندگی کیلئے سچ و حق انصاف مخلصی کی بات کی ہے آج وہ نظر نہیں آتے ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں