ایران : گذشتہ برس 576 افراد کو پھانسی دی گئی – ایمنسٹی انٹرنیشنل

265

ایران دنیا میں سزائے موت کا سب سے زیادہ استعمال کرنے والے ملکوں میں سے ایک ہے، اس کی عکاسی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ سے بھی ہوتی ہے۔ جس میں سال 2022 کے دوران دنیا بھر میں پھانسیوں اور موت کی سزاو2ں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

ایران میں گذشتہ برس کم از کم 576 افراد کو پھانسی دی گئی جو کہ اس سے پچھلے برس یعنی 2021 کے مقابلے میں تقریبا ً دو گنا ہے۔

سعودی عرب میں سن 2021 میں 196 افراد کو پھانسی دی گئی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سکریٹری جنرل ایگنیس کالامارد نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا، “آپ یقین کریں یا نہ کریں لیکن سعودی عرب میں ایک ہی دن میں 81 افراد کو پھانسی دی گئی۔” اس کا مطلب ہے کہ دنیا بھر میں دی جانے والی 80 فیصد سے زائد پھانسیاں ایران اور سعودی عرب میں دی جاتی ہیں۔

دنیا کے 20 ملکوں میں سن 2022میں موت کی سزاؤں پر عمل درآمد کرنے کے لیے کم از کم 883 افراد کے سرقلم کیے گئے، پھانسی دی گئی، گولی ماردی گئی یا انہیں زہر دیا گیا۔ یہ پچھلے پانچ برسوں کے دوران سب سے بڑی تعداد ہے اور سن 2021 کے مقابلے 300کیسز یا 50 فیصد سے زیادہ ہے۔

ان اعداد و شمار میں چین میں دی جانے والی پھانسیاں شامل نہیں ہیں، جن کی تعداد ایک اندازے کے مطابق ہزاروں میں ہے۔ چین میں سزائے موت کے نفاذ کی ملکی راز کے طور پر حفاظت کی جاتی ہے۔ یہی حال ویت نام کا ہے۔ شمالی کوریا، جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہاں ضرورت سے زیادہ سزائے موت کا استعمال کیا جاتا ہے، کے اعداد و شمار بھی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں شامل نہیں ہیں۔

سزائے موت پر عمل درآمد ان ملکوں میں بھی ہوتا ہے جنہیں جرمنی اپنا شراکت دار قرار دیتا ہے۔ مثلاً امریکہ، جاپان اور سنگاپور۔

ایمنسٹی کی رپورٹ کے مطابق تمام درج شدہ پھانسیوں میں سے ایک تہائی سے زیادہ منشیات کی اسمگلنگ کی سزا کے طورپر دی گئیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ “حقیقت یہ ہے کہ کچھ ممالک سزائے موت کو اپنی فوجداری قانون کے روایتی حصے کے طور پر شامل اور استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔”

انسانی حقوق کی اس عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ مجرموں کو سزائے موت دینے سے نہ تو قتل کے واقعات کم ہوتے ہیں اور نہ ہی منشیات سے متعلق جرائم پر روک لگانے میں مدد ملتی ہے۔