طبِ ملا امید ِ بہار – ڈاکٹر ہیبتان بشیر

892

طبِ ملا امید ِ بہار

تحریر: ڈاکٹر ہیبتان بشیر

دی بلوچستان پوسٹ

اگر ہم موجودہ بلوچ قومی تحریک آزادی میں ایسے ذات اور کرداروں کا مطالعہ کریں تو ہمیں بہت ہی کم ایسے کردار ملیں گے جنکا مکمل ایمان قومی آزادی اور قومی جہد پہ ہو، بیشتر کردار ایسے ملیں گے جو جہد میں شامل تو ہیں مگر انکا ایمان اور یقین بہت کمزور ہے، اسی لئے انکی جہد ذات سے ذات تک ہے، اور وہ اپنی ذات اور ذاتی خواہشات کے آگے بے بس ہیں لیکن ملا بہرام اپنی ذات سے اوپر سوچنے والے جہد کار تھے، اسی لئے اسکا جہد پہ یقین اور ایمان اسے مسلسل عمل کے میدان میں رکھتا تھا۔ جہاں وہ مکمل گوریلا جنگی حکمت عملی اور ہوشیاری سے مسلسل دشمن پہ وار کرتا رہا۔ یہی جو وار ہے جو دشمن کو سخت سے سخت تکلیف دیتی ہے، یہی جو وار ہے جس سے دشمن بے چین ہوتی ہے، یہی وار ہے جو ہمارے شہیدوں کے روح کو سکون بخشتی ہے، یہی وار ہے جسکی صدا روڈوں پہ آہ و زاری اور انکی چیخ و پکار سے زیادہ بلند ہوتی ہے اور یہی وار ہے جو ہماری آزادی کی نوید ہے۔

ملا اپنی ذات سے اوپر رہ کر ہر مصیبت اور مشکل کو قبول کرکے دشمن پہ آخری سانسوں تک یہی وار کرتے رہے اور اپنے عمل و کردار سے ہم تک یہی پیغام پہنچایا کہ دشمن کو سب سے زیادہ تکلیف اسی وار سے ہوتی ہے۔ اب اس وار میں ہم کتنی شدت اور جدت لائیں گے اور جو چیلنچز اس وار کو منزل تک پہنچانے کے لئے ہمارے سامنے ہیں ان سے ہم کیسے سرخرو ہوں، اسکا راز بھی تبِ ملا کے مسلسل عمل میں پوشیدہ ہے۔

2008 سے مزاحمتی جہد میں شامل ہونے سے 2023 تک اپنی شہادت تک مکمل مسلسل میدانِ عمل میں تھے اور یہ عرصہ ایک طویل اور بلوچ قومی تحریک آزادی میں اس عرصہ میں بہت سے نازک موڑ آئے۔ اس دورانیہ میں دشمن کی طرف سے جبری گمشدگیاں، مسخ شدہ لاشیں، ظلم و جبر کی انتہا، تحریک کے اندر اندرونی تضادات، اپنے دوستوں کا دشمن کے سامنے سرنڈر اور ناجانے ایسے کتنے موڑ آئے ہوں گے جو کسی بھی جہدکار کو مایوس کرنے کے لئے کافی ہوں لیکن ایسے حالتوں میں ملا جیسے جہد کاروں کا پر حوصلہ رہنا، جذبوں سے مضبوط ارادے رکھنا،مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے فکر اور نظریے کے ساتھ بلند حوصلوں کے ساتھ کھڑے رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ بلوچ جہدِ آزادی آج پھر جس مقام پہ ہے، جو بہت سے نشیب و فراز سے ہوکر ایک مرتبہ پھر صحیح رخ اور سمت میں ہے اس کی وجہ ملا جیسے جہد کاروں کی جنگی تب اور انکا جنگی مزاج ہے۔ جنکے حوصلے سخت سے سخت حالات میں بھی اور مضبوط رہے ہیں۔

کیونکہ جس وقت بلوچ تحریک میں ایک بہت بڑی مایوسی کا دور تھا، بہت سے کمزور جہد کار حالات کی سختیوں کی وجہ سے راہ فرار اختیار کررہے تھے، بہت سے دوست سرینڈر ہورہے تھے اور بہت سے دوست حالات سے گھبرا کر جنگی اور سیاسی محاذ کو چھوڑ کر باہر جارہے تھے، عوام کے اندر سیاسی اور مزاحمتی دونوں محاذ پہ بیزاری تھی، حالات کی وجہ سے لیڈرشپ کے لیول کے دوست بھی ان حالات سے انکے اعصاب کمزور ہوچکے تھے لیکن انہیں مایوس، بے امیدی، سخت حالتوں میں ملا جیسے بہادر اور حوصلوں سے پرُ جہد کار اپنے کندھوں پہ کیمپ اور ریجن کی ذمہ داری اٹھا لیتے ہیں، اور اپنے فکر، عمل اور کردار سے سب پہ یہ واضح اور ثابت کردیتے ہیں کہ حالات چاہے جیسے بھی سخت، درد اور تکلیفوں سے پرُ ہوں، لیکن ہم یقین اور ایمان کے ساتھ مسلسل عمل کرکے سب کو اپنے حق میں بدل سکتے ہیں۔ ایک عظیم سچائی اور قومی آزادی کی خاطر اپنی ذات اور ذاتی رجحانات اور خواہشات کو مسخ کرکے نا امیدیوں کو امید اور جذبے میں بدل سکتے ہیں۔ اپنی ذات کو قومی جہد کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار کرکے منتشر عوامی قوت کو متحد اور یکجا کرکے دشمن کے لئے عذاب بن سکتے ہیں۔ یقینِ ملا، ایمانِ ملا اور عملِ ملا کے یہ سارے رشتے ہی قومی تحریک کے اصل رشتے ہوتے ہیں اور انہی رشتوں کے ساتھ وفا کرکے ہمیں فکر ملا کو اور شعور، شدت اور جدت کے ساتھ آگے لے جانا ہے۔

میں بذات خود ملا کو اسی دن سے جانتا ہوں جس دن ملا ایک عظیم شعور اور سچائی کے ساتھ شہادت کا عظیم مرتبہ حاصل کرتے ہیں، ملا اور اسکی شخصیت سے میں کبھی بھی واقف نہیں رہا ہوں لیکن ملا اور اسکی دوستوں کی مزن بند میں شہادت کے دن ہی سے میں ایک ایسے سماں اور احساس میں تھا کہ میں جان سکوں کہ وہ کون سے حالات، لمحات اور وقت کے اسباق تھے جنہوں نے ملا بہرام کو اتنی شعور عطا کی تھی، یہ جاننے کے بعد میرا اس بات پہ ایمان اور مضبوط ہوگیا کہ شعور اور قومی احساس کے لئے بڑی بڑی ڈگریوں کی ضرورت نہیں کہ ملا نے کسی بھی سکول کالج یا یونیورسٹی سے تعلیم حاصل نہیں کی ہے بلکہ ملا کے درسگاہ یہی مزن بند کے پہاڑ رہے ہیں، جہاں وہ بڑے ہوئے ہیں، جبر اور تشدد کے خلاف مزاحمت اور ظلم کے خلاف جد و جہد ملا کو انہیں پہاڑوں نے سیکھایا تھا ،انہیں پہاڑوں سے ملا کو بچپن سے ہی مہر تھا جہاں وہ شکار کرتے تھے اور شکار کے سارے ہنر اور اصولوں سے واقف تھے کہ شکار کے وقت کیسے ہواوں کے رخوں کو دھوکہ دے کر شکار تک پہنچ کر شکار کو شکار کرنا ہے۔ ان ہی اصولوں سے واقفیت کی وجہ سے جب وہ بلوچ مزاحمتی تحریک میں شامل ہوئے تو ایک اچھے سنائپر رہے۔

ملا جو مزن بند کے پہاڑوں اور فضا میں اپنا ہوش سنبھالتا ہے، انہیں پہاڑوں سے بلوچ مزاحمت کا حصہ بن جاتے ہیں اور ان پہاڑوں کا رنگ خود میں رنگ کر جرت، ہمت اور شجاعت کے ساتھ ان ہی پہاڑوں میں شہادت پاتے ہیں۔

ذاتی حوالے سے ملا جیسے بھی رہے ہوں کتنے ہی شریف، دور اندیش، خوش مزاج، سب کا خیال رکھنے والا، تصب سے پاک، تب زانت، کتابیں پڑھنے والا، اخلاقی اور سماجی حوالے سے اسکا شخصیت جیسا بھی رہا ہو ان سب کی اپنی اہمیت اور ضرورت لیکن میرے لئے ملا عظیم اور خوبصورت اس لئے ہیں کہ ملا کا انسانی شعور اسے جبر، ظلم اور غلامی کے خلاف مزاحمت کراتا ہے اور ظالم کے خلاف وہ خاموش نہیں بلکہ جہادِ عظیم کرتے ہیں، اپنی ذات کی نفی کرکے اجتماعی قومی بقاہ کے لئے جنگ کا انتخاب کرکے اس پہ ثابت قدم رہ کر مادر زمین پہ قربان ہوجاتے ہیں۔

تبِ ملا سے ہم سب کو یہ سیکھنا ہے بلوچ قومی تحریک آزادی کی جنگ کوئی شوق یا سکون اور آرام والی جنگ نہیں کہ جہاں کوئی سوچے کہ وہ جنگ میں کسی پکنک یا عام زندگی کی طرح کہیں کوئی شغل،مذاق یا سکون تلاش کرے بلکہ یہ ہماری قومی بقاہ اور ہماری نسلوں کی زندگی کا ہستی اور نیستی کی جنگ ہے۔ اس جنگ میں سکون، آرام اور خوشی بس جنگ ہی جنگ ہونا چاہیے۔ تب ہم دشمن کو عبرتناک شکست سے دوچار کریں گے اور یہی جنگ ہی ہمارے شہیدوں کا اصل بدلہ اور ہمارے قومی نجات کا اصل راستہ ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں