بلوچ نوجوانوں کی لاشیں لا وارث اسپتالوں میں پڑے ہیں۔ ماما قدیر بلوچ

259

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں پریس کلب کے سامنے جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا احتجاجی کیمپ آج 4993 ویں روز جاری رہا۔ آج ضلع خاران سے سیاسی اور سماجی کارکنان بیبرگ بلوچ ، نور احمد بلوچ، شیھک بلوچ سمیت دیگر مرد اور خواتین نے آکر لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کی۔

اس موقع پر تنظیم کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ پر امن جدوجہد کے متوالوں کی جھد مسلسل کے پانچ ہزار دن پورے ہو رہے ہیں، ہم نے ظلم کے خلاف آواز اٹھانا نہیں چھوڑا اور ریاست نے ظلم کے رستے نہیں چھوڑے، آج بھی بلوچ نوجوانوں کی لاشیں لا وارث اسپتالوں میں پڑے ہوئے ہیں ان ویرانوں میں پھینکے جا رہے ہیں، وطن کے متوالے اس جدوجہد کو مزید جاری رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وی بی ایم پی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ اپنے قیام 2009 سے لیکر اب تک ایک پر امن اور غیر جانبدار بنیاد پر جدوجہد کر رہے ہیں، تحریک میں وی بی ایم پی کی ایک کلیدی کردار رہا ہے، بلوچ جبری لاپتہ کے کیسز عالمی انسانی حقوق کے اداروں تک پہنچائے ہیں ہزاروں لاپتہ افراد کے لواحقین کی آواز بنے ہیں۔

ماما نے کہا کہ آج دنیا پوری طرح واقف ہو چکی ہے آج دنیا کے ذمہ دار ممالک کو ریاست پاکستان کے جبر کا بخوبی علم ہے، لیکن عملاً سب کا کردار زیرو ہے، ریاست اپنے قائم لوکل مسلح ملیشا کے ذریعے بلوچ نسل کر رہی ہے، ریاستی ایجنسیوں کو بری الذمہ قرار دینے کیلئے ان سب کو آگے دھکیلا جا رہا ہے تاکہ اداروں کو مزید بدنامی سے بچایا جاسکے۔