کتاب مہر گہوش ۔ منیر بلوچ

346

کتاب مہر گہوش 

تبصرہ: منیر بلوچ 

دی بلوچستان پوسٹ

 مہر گہوش(جلد اول) بی ایس او آزاد کے سابق چئیرمین، بی ایل اے کے موجودہ کمانڈر انچیف اور بلوچ قومی رہنماء چئیرمین بشیر زیب بلوچ کی تحاریر کا مجموعہ ہے۔ کتاب کے کل 176 صفحات ہیں جبکہ کتاب میں 150 تحاریر موجود ہیں، جو ایک سال کے عرصے میں تحریر کئے گئے ہیں. کتاب کی کمپوزنگ کے فرائض عتیق آسکوہ بلوچ نے سر انجام دئیے اور ٹائٹل زانت بلوچ کی تخلیق ہے. اس کتاب کی اشاعت2022 کو صبا انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ پبلیکیشنز سے ہوئی.

یہ کتاب ایک ایسے وقت میں تحریر کی گئی جب بلوچ سماج کے ہر طبقہ فکر کو ایک نا امیدی اور مایوسی نے گھیر لیا تھا. قومی تنظیم بی ایل اے انتشار کی وجہ سے تقسیم کا شکار تھی ، نا امیدی، مایوسی ،حقیقت کو تسلیم سے انکاری حالت میں عوام کو جہد کاروں کو ایک ایسے استاد کی ضرورت تھی جو ان کے مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل تجویز کریں تاکہ مایوسی کے بادل چھٹ جائیں. بی ایل اے اور بلوچ قومی تحریک دوبارہ اپنے ڈگر پر واپس آئیں اور یہ کارنامہ چئیرمین بشیر زیب بلوچ نے مہر گوش کی شکل میں پیش کرکے علمی طور پر جہد کاروں کو نہ صرف متحد کیا بلکہ استاد اسلم اور بشیر زیب نے عملی اقدام اٹھا کر بی ایل اے کو منظم و متحرک کیا اور جہد کاروں کو مایوسی کے دلدل سے نکال کر ایک حقیقی راہ کی بنیاد رکھی.

مصنف کا تعارف.

مہرگہوش کے مصنف بلوچ قومی رہنما بشیر زیب بلوچ ہے جو 2006 سے 2008 تک اور 2008 سے 2012 تک بی ایس او آزاد کے چئیرمین رہے۔ بی ایس او سے فراغت کے بعد بلوچ قومی تنظیم بی ایل اےکو جوائن کیا اور اپنی قابلیت ،صلاحیت اور مخلصی سے استاد اسلم بلوچ کی شہادت کے بعد بی ایل اے کے کمانڈر چیف کے عہدے پر فائز ہوئے.

مصنف نے پاکستان کی مارو ،پھینکو پالیسی کو اپنے آنکھوں سے دیکھا,اس درد کو نزدیک سے محسوس کیا جب ساتھیوں کی مسخ شدہ لاشوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا اور فوجی آپریشن میں ساتھیوں کی شہادتیں ہوتی رہیں۔ ان سب واقعات نے انہیں ایک مضبوط رہنما بنایا اور اسی مضبوطی اور قابلیت نے انہیں بلوچستان کی متحرک مسلح تنظیم کا کمانڈر انچیف بنایا.

کتاب مہر گہوش کا خلاصہ

مہر گہوش صرف ایک کتاب نہیں بلکہ ایک سیاسی رہنماء کے عمل اور تلخ تجربات کا نچوڑ ہے جس میں آپکو سیاست ،نفسیات کے علاوہ فلسفے کی بھی جھلک دکھائی دیتی ہے.اس کتاب میں نہ صرف انسانی رویوں کا ذکر کیا گیا ہے بلکہ ان سیاسی رویوں کو اجاگر کیا گیا ہے جو تحریک کے لئے منفی رجحانات کا باعث بنے، مہر گوش نے نہ صرف منفی رویوں کو بیان کیا جو سیاسی ورکروں اور رہنماؤں میں موجود ہے بلکہ ان کا حل بھی بیان کیا ہے.

مصنف نے اس کتاب میں منفی اور مثبت رویوں،،منفی سوچ ،مثبت سوچ ،منفی اختلاف رائے پر بھی بحث کیا ہے اور منفی رویوں کی موجودگی کا بھی تذکرہ کیا ہے. وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی اپنے دل کو یہ تسلی دے کہ میں کبھی غلط نہیں ہوسکتا یا غلط پالیسیاں نہیں بنا سکتا اور دن رات کنویں کے مینڈک کی طرح ایک ہی سمت میں گول سفر جاری رکھے تو ایسے انسان بلند سوچ و معیار کے بجائے مایوسی کی وادی میں گر کر اپنی محدود صلاحیتوں کو بھی تباہ و برباد کردیتے ہیں.صفحہ نمبر 7

جو منفی رویے جہد کاروں میں موجود ہیں، ان کا قلع قمع ضروری ہے ورنہ یہ منفی رویے نہ صرف انسان کو بلکہ تحریک کو بھی ناقابل تلافی نقصانات سے دو چار کرنے کا باعث بنتے ہیں اور ان رویوں کو مثبت رویوں میں بدلنے کے لئے انقلابی رویوں کی اشد ضرورت ہے.

مایوسی و ناامیدی فکر و شعور اور اپنے غلطیوں کے اعتراف سے ہی امید میں تبدل ہوجاتی ہے اور اس کے لے ہمیں یہ جاننا چاہئیے کہ ہم کیا کررہے ہیں اور کیوں کررہے ہیں ؟ ہمیں اپنی توجہ تحریک کی کامیابی پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے.

ہر لمحے متحرک رہنا ،امید پر قائم رہنا اور اپنے صلاحیتوں سے آگاہی ہی انسان کو کامیابی کے زینے پر چڑھاتی ہے.

اس کتاب میں عدم تحقیقی رویوں،خام خیالی، حقائق سے بیگانگی اور اپنی غلطیوں کو دوسرے پر ڈالنے اور تحقیق کی اہمیت پر بھی قلم آرائی کی گئی ہے.

عدم تحقیق کا رویہ اور اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے اسے کسی دوسرے پر ڈالنا بگاڑ کی جانب لے جاتا ہے جس سے اختلاف ذاتی دشمنی میں بدل جاتے ہیں جس کا ایک ہی حل ہے اور وہ حل تحقیق ہے جو نہ صرف مسائل کو حل کراتی ہے بلکہ تحقیق سے ان رسم و رواج کو بھی توڑا جاسکتا ہے جو دشمن نے بارودی سرنگ کی حیثیت سے بلوچ سماج میں بچھا رکھے ہیں.تحقیق کی اہمیت کے متعلق مصنف کہتے ہیں کہ تحقیق وہ سائنسی طریقہ کار ہے جس کی اہمیت و افادیت سے ہر ذی شعور انسان اپنی بساط کے مطابق واقفیت رکھتا ہے. مذید کہتے ہیں کہ اگر ہم عملا تحقیق سے مکمل با علم ہو کر اپنے نقطہ نظر کو تحقیق کا جامہ پہنا کر ہر چھوٹے بڑے معاملات اور کیفیت میں تحقیقی عینک سے چیزوں اور معاملوں کے منفی اور مثبت پہلوؤں پر نظر ڈالیں تو انسان کبھی غلط فہمیوں کا شکار نہیں ہوگا. صفحہ نمبر 12۔

یہ کتاب ہمیں یہ درس دیتاہے کہ ہم غلط فہمیوں کا شکار نہ ہوں کیونکہ غلط فہمیاں رشتوں کو کھاجاتی ہیں۔ ہمیں دوسروں کو سننا اور سمجھنا ہوگا کیونکہ غلامانہ سماج میں راے جلدی قائم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ہم محدود سوچ میں پھنس کر غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں اور بد گمانی و شک کی دلدل میں چلے جاتے ہیں.

اس کتاب میں ضد و انا ،خود پرستی ،دھوکہ اور جھوٹ ،احساس کمتری ،خاموشی، علم و عمل کی اہمیت ،رازداری ،گلہ و شکوے اور نرگسیت کے موضوع کو بھی بہترین انداز میں اجاگر کیا گیا ہے.

اس کتاب کے تین موضوعات کا نام چند باتیں کے عنوان سے تحریر کی گئی ہیں، جن سے مصنف کے علم سے گہری دلچسپی ظاہر ہوتی ہے اور یہی علم عمل کی جانب سفر کو ممکن بناتی ہے.

کتاب میں ایک موضوع سڑک کے عنوان سے لکھی گئی ہے جس میں مصنف نے افسانوی انداز اختیار کرکے بلوچستان میں ہونے والی مظالم کو اجاگر کیا ہے.

کتاب کے دو عنوان یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مصنف اتحاد و یکجہتی کو اہمیت دیتاہے.جس دور میں اختلافات کھل کر سامنے آئے ان اختلافات کے حل کے لئے سنجیدگی اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آو ہم اپنے دل پر صبر و برداشت کا ایک بڑا پتھر رکھ کر ان دنوں کے واقعات کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بھلادیں ،جن سے ہمارے بد مست اور بے لگام دشمن کو وہ فائدے نصیب ہوئے جن کے لئے وہ برسوں سے منتظر تھا.صفحہ نمبر 165۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ یہ اکیسویں صدی ہے ،زبان زد عام میں قوموں کی خوشحالی کی صدی ہے ،شعور و علم اور ٹیکنالوجی کی صدی ہے،آج اگر دنیا گلوبل ولیج بن چکا ہے تو بحثیت قوم ہم بھی دنیا میں وجود رکھنے والی قوم ہیں ،ہماری سوچ اور سوچنے کے معیار کی سوئی کہاں کھڑی ہے؟ہم کیوں اپنی ضد و انا ،کم علمی ،بے شعوری ،کم عقلی ،نالائقی ،لاپرواہی ،غیر ذمہ داری اور منفی سوچ کو خوبصورت ہار بنا کر چاکر و گہرام کے گلے میں ڈال دیتے ہیں.

صفحہ نمبر 167

اختتامیہ

مہر گہوش ایک وطن کے شے مرید کی تحریر ہے، جو اپنے ہانی کے لئے سختیوں،تکلیفوں ،دوستوں کی جدائی کو برداشت کرکے سچا عاشق بن گیا ہے جس کے ہر لفظ، ہر جملے اور ہر پیراگراف میں وطن کی محبت نظر آتی ہے ،جس کی روح میں وطن بستا ہے. یہ حقیقت ہے کہ وطن کا باشعور عاشق ہی حقیقت پسندانہ تجزیوں کے ذریعے اپنی کمزوریوں کا جائزہ لیتا ہے ، ان شہیدوں کے مقصد کو اجاگر کرتا ہے جو مہر گوش کے ہمراہ جہد کا حصہ رہے ہیں ،کیا ایک باشعور سچا وطن کا عاشق یہ برداشت کرسکتا ہے کہ اس کے شہید ساتھیوں کے مقاصد کو انا،ضد،ہٹ دھرمی کی بھینٹ چڑھا کر اس کی جڑوں کو کھوکھلا کیا جائے؟ یقیننا نہیں کوئی بھی باشعور انسان یہ برداشت نہیں کرسکتا.اس کتاب میں تحریر کئے گئے مختصر کالموں میں مہر گہوش یہی کردار ادا کررہا ہے جب ذاتی مقاصد ،ضد اور انا کی وجہ سے تحریک کو نقصان سے دو چار کیا گیا اور اس بہتی گنگا میں سب نے اپنا ہاتھ دھو کر قوم کو تحریک سے بدظن کردیا اور ضرورت اس امر کی تھی کہ ان وجوہات کو عوام کے سامنے لایا جائے جن کی وجہ سے سیاسی اختلافات نے ایک اور روپ دھار لیا تھا.

اس کتاب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ کتاب ایک بلوچ سیاسی و مزاحمتی رہنماء کی تحریر کی گئی کتاب ہے جس میں سیاست ، نفسیات، فلسفہ کا امتزاج ہے. میرے خیال میں کماش زیب واحد بلوچ رہنما ہے جنہوں نے نفیسات کے موضوع پر کتاب لکھ کر نوجوان سیاسی ورکروں اور رہنماوں کو یہ باور کرایا ہے کہ مطالعہ سیاست کا لازمی جز ہے جس کے بغیر مزاحمت کو ترقی کے منازل تک پہنچانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن امر ہے کیونکہ اس کتاب میں ایک باشعور ،مطالعہ سے بھرپور لکھاری کی جھلک دکھائی دیتی ہے.

آخر میں بس یہی کہوں گا کہ اس دور میں بلوچ نوجوانوں کا آئیڈیل کردار چئیرمین بشیر زیب ہے جن کی قیادت نے نہ صرف بی ایل اے کو جنگی میدان میں منظم و متحرک کیا بلکہ بی ایل اے کی مزاحمتی لٹریچر کی اشاعت کا بھی انتظام کیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کماش بشیر زیب اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ جنگ آزادی کی کامیابی قلم اور شعور کے ملاپ سے ہی ممکن ہے صرف بندوق کی گولی یا کسی سپاہی کو مارنے سے اپنے مقصد کو حاصل نہیں کرسکتی بلکہ سماجی شعور و سیاسی شعور ہی انسان کو غلامی کے دلدل سے نجات دلاسکتی ہے.

یہ کتاب ہر بلوچ جہد کار کے مطالعے کا حصہ ہونا چاہئیے تاکہ منفی رویوں کو جان کر علم و عمل کے ذریعے مثبت رویوں کو اپنا کر مثبت رحجانات کو فروغ دیا جاسکے تو موجودہ قومی تحریک کے لئے ناگزیر حیثیت کا حامل ہے.


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں