ڈیرہ جات میں حریت پسندی (حصہ ہفتم) ۔ واھگ

299

ڈیرہ جات میں حریت پسندی (حصہ ہفتم) 

تحریر: واھگ

بلوچستان پوسٹ

بلوچوں مزاحمت کاروں کی طرف سے وقتاً فوقتاً انگریزی سرکار کو مزاحمت کا سامنا رہا ہے۔ تمن بزدار میں انگریزی فوج کے ایک خاص سپاہی سردارانِ بزدار نے علاقے کے شاعروں کو گرفتار کروادیا تھا تاکہ بلوچ شاعر انگریزی حکومت کے قبضہ گیریت اور ان کے مظالم خلاف منہ بند رکھیں۔

انہی مزاحمت کاروں میں ایک کردار منگڑ کلاتی بلوچ نے انگریز افواج کے نافذ کئے گئے قانون کو ماننے سے انکار کردیا تھا اور وقتاً فوقتاً انگریزی افواج پر کامیاب حملے کرتا رہا۔ مگنڑ بلوچ انگریزی فوج کے ہاتھ نہ آ سکے، انگریز فوج نے اُن کے خلاف ایف آئی آر درج کروائے لیکن منگڑ کو یہاں رہنے والے لوگوں کی مدد و حمایت حاصل تھی جس کی وجہ سے منگڑ اس سرزمین پر آزادی کے ساتھ گھومتا رہا۔

انگریزی سرکار نے اعلان کیا کہ جو بھی منگڑ بلوچ کو گرفتار کر کے انگریز فوج کے حوالے کرے گا اس کو انعامات سے نوازا جائے گا۔ لدوانی قبیلے کے ایک سفید ریش نے منگڑ کلاتی کو ان کے تین ساتھیوں کو دھوکے گرفتار کر لیا۔ لدوانی قبیلے کے سفید ریش انگریزوں کے چال میں پھنس گئے اور مگنڑ کو قرآن کے نام پر دھوکا دے کر اس کو جبراً گرفتار کر کے انگریز سرکار کے حوالے کردیا۔

منگڑ بلوچ اور اُن کے ساتھیوں پر سخت تشدد کیا گیا اور کئی سال انگریز افواج کے قید میں رہے۔ قید سے رہائی کے چند عرصے بعد وفات پا گئے لیکن آج تمن بزدار میں منگڑ کو ایک مزاحمت کار کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے اور مزاحمتی شاعری میں اُنہیں انگریزوں کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پیش کرتے ہیں ۔

انگریزی فوج نے خطے میں اپنے پالیسیوں کو برقرار رکھنے کے لئے پاکستان کے نام پر ایک غیر فطری ریاست تشکیل دی اور ریاست پاکستان آج بھی اپنے آقاؤں کے فلسفے پر عمل درآمد کررہا ہے ، پاکستان اپنے آقاؤں کے اشاروں پر پالیسیاں تشکیل دے کر دوسرے ممالک کے مفادات کو پورا کررہا ہے۔

بلوچستان کیونکہ انگریز کے قبضہ سے 11 اگست کو آزاد ریاست کی حیثیت سے بحال ہوئی ریاست پاکستان نے برطانوی حکومت کے مدد سے چند عرصے بعد بلوچوں کے ریاست بلوچستان پر قبضہ جما لیا اور بلوچوں کی قومی طاقت کو کمزور کرنے کے لئے ان کو تقسیم در تقسیم کا شکار کرنے کی ہر ممکن کوشش کی اور بلوچ علاقوں کو ان کی مرضی اور منشاء کے خلاف پنجاب، سندھ ، پشتون وطن میں تقسیم کر دیا گیا لیکن بلوچوں نے اس انتظامی حد بندی کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے۔

کوہ سلیمان کے پہاڑوں پر مشتمل 8000ہزار مربع میل سے زیادہ یہ وطن بزدار، قیصرانی ،لنڈ، کھوسہ، لغاری ،گورچانی اور مزاری بلوچوں کا قدیم مسکن رہا ہے یاد رہے کہ یہ علاقے 1849 میں ڈیرہ جات میں انگریزی قبضہ سے پہلے مکمل طور پر آزاد تھے جبکہ کہ انگریزی قبضہ گیر کو کوہ سلیمان میں اپنے قبضے کو دوام بخشنے کے لئے بھی کافی عرصہ لگا اور انگریز قبضہ گیر چالیس سال بعد 1887 کو ان علاقوں کو اپنے زیر تسلط رکھنے میں کامیاب ہوا ہے۔

29 نومبر 1946 کو نواب اکبر بگٹی ،سردار دودہ خان مری اور جمال خان لغاری نے انگریز سرکار کو یاداشت پیش کی اور ان سے مطالبہ کیا ہے برصغیر کی آزادی کے بحال ہوتے ہی ان قبائلی علاقے جات ڈیرہ جات راجن پور اور مری بگٹی علاقوں کا الحاق ریاست قلات ( بلوچستان ) سے کروایا جائے۔

15اگست 1947 کو محمد علی جناح نے بطور گورنر کے ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں کہا گیا ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور مری بگٹی علاقوں کی یہ حیثیت اس وقت تک برقرار رہی گی جب تک یہ اپنے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر لیتے اور یہ علاقے گورنر پنجاب اور اے جی جی بلوچستان کے نگرانی میں رہیں گے۔

ڈیرہ جات کے بلوچ قبائل کی یکم مارچ 1949 کو گورنر پنجاب فرانس مودی کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوئی جس میں یہاں رہنے والے تمام بلوچ قبائل نے شرکت کی اور اپنا موقف پیش کیا کہ یہ علاقے صدیوں سے بلوچوں کے ہیں اور بلوچ اپنے علاقوں کے فیصلے لینا چاہتے ہیں اور ہم بلوچ سرزمیں کی کسی بھی صورت میں پنجاب میں شمولیت قبول نہیں کریں گے اور ڈیرہ جات کی سابقہ حیثیت کو بحال کر کے بلوچستان میں شامل کیا جائے مگر پنجاب کی زور زبردستی، قانون ساز اسمبلی اور چند ضمیر فروش سرداروں نے اپنی ذاتی مراعات اور عیاشی کے لئے پنجاب کا ساتھ دے کر ان بلوچ علاقہ جات کو 1950 میں پنجاب میں شامل کر کے بلوچوں کی طاقت کو تقسیم کر دیا۔

ڈیرہ جات کو پنجاب میں شامل کرنا ریاست پاکستان کی طرف سے ایک غیر آئینی غیر فیصلہ تھا اور جبراً اِن علاقوں کو پنجاب میں شامل کرنا قبضہ گیریت کی سوچ کی واضح عکاسی کرتا ہے۔

ڈیرہ غازی خان کے بلوچوں نے شروع ہی سے پنجاب میں شامل ہونے کے خلاف مزاحمت کی اور سیاسی اقدامات کیے لیکن ریاست پاکستان اور ضمیر فروش سرداروں نے پنجاب کا ساتھ دے کر مزاحمت کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ آج بھی فورٹ منرو میں ان ضمیر فروش ،وطن فروش ،قوم فروش سرداروں کے نام سے ایک تختی منسوب ہے جس پر ان کے بے نام ہونے کی داستان لکھی ہوئی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں