پاکستانی فوج نے ڈیتھ اسکواڈز کے ذریعے بلوچستان میں ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے – ماما قدیر بلوچ

41

وائس فار بلوچ مسنگ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4929 دن مکمل ہوگئے، کراچی ماڑی پور سے سماجی کارکن حبیب بلوچ، نذیر بلوچ، سندھ سباء کے رہنما انعام عباسی، سینئر صحافی چاند نواب و دیگر نے کیمپ آکر اظہار یکجہتی کی-

اس موقع پر کیمپ آئے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ نجانے کتنے جبری لاپتہ افراد کو تشدد اور قتل کر کے انکی لاشوں کو ویرانوں میں دفنایا گیا ہے جو آج تک منظر عام پر نہیں آسکے اور ہزاروں بلوچ تاحال ریاستی عقوبت خانوں میں بند ہیں اور ہر روز پڑھے لکھے نوجوانوں کو بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لاپتہ کیا جا رہا ہے اس طرح اب لاپتہ افراد کی تعداد 55 ہزار سے بڑھ کر 60 ہزار تک پہنچ چکی ہے ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جنہیں گذشتہ دس سالوں سے جنگی صورتحال کے دوران مختلف علاقوں سے چھاپوں میں پاکستانی فورسز نے لاپتہ کردیا ہے-

ماما قدیر بلوچ نے کہا بلوچستان سے جبری گمشدگی کا شکار ہونے والوں میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں عالمی اداروں سمیت پاکستان کی عدلیہ بھی انکی ریاستی عقوبت خانوں میں موجودگی کی تصدیق کر چکی ہے لیکن انہیں تاحال بازیاب نہیں کیا گیا ہے-

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچوں کو جبری اغواء اور شہید کرنے کے لئے فورسز اور خفیہ ایجنسیوں نے اپنے کارندوں کے ساتھ ساتھ بلوچستان بھر میں ڈیتھ اسکواڈز کو باقاعدہ منظم کر رکھا ہے اور انہیں پیسے اور ہتھیار فراہم کر کے ان علاقوں میں بلوچوں کو جبری اغواء کرنے ٹارگٹ کلنگ کرنے اور علاقوں میں خوف ہراس پھیلانے کی کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے منشیات اسمگلنگ اور بھتہ لینا اب قانونی شکل اختیار کر چکا ہے جس کی وجہ سے ہر علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو چکا ہے-

ماما قدیر بلوچ کا کہنا تھا خضدار ایک بار پھر ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے لئے ایک فری زون بن چکا ہے جہاں اسلحہ لے کر ایف سی کی سر پرستی میں ٹارگٹ کلنگ اور جبری اغواء کی کاروائیاں کرتے ہیں اور خوف پھیلا کر کاروبار بند کرا دیتے ہیں۔ خضدار کے متعدد بلوچوں کو ابتک ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں شہید کیا جا چکا ہے جبکہ قدم قدم پر چیک پوسٹ موجود ہیں-