حملہ دو فروری کے اثرات – ٹی بی پی رپورٹ

2218

حملہ دو فروری کے اثرات

دی بلوچستان پوسٹ رپورٹ

تحریر۔ آصف بلوچ

گذشتہ سال دو فروری کی رات آٹھ اور ساڑھے آٹھ بجے کے درمیان بلوچستان کے دو مختلف اضلاع نوشکی اور پنجگور ایک ساتھ دھماکوں اور گولیوں کی آوازوں سے گونج اٹھتے ہیں، جس کے بعد آنے والے کئی دنوں اور مہینوں تک پنجگور اور نوشکی پوری دنیا کی میڈیا کی شہ سرخیوں میں جگہ بناتے ہیں۔

دو فروری کو کیا ہوا؟

سولہ مسلح افراد اور دو خودکش بمبار جو گاڑیوں میں سوار تھے، پہلے نوشکی اور پنجگور میں واقع پاکستانی فوج کے کیمپوں کے مرکزی دروازوں کو دھماکوں میں نشانہ بناتے ہیں، جسکے بعد دیگر مسلح افراد کیمپوں میں داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، نوشکی کیمپ میں داخل ہونے والے تمام مسلح افراد اگلے روز مارے جاتے ہیں، جبکہ پنجگور میں تین دنوں تک مسلح افراد اور پاکستانی فوج کے مابین شدید نوعیت کی جھڑپیں جاری رہتی ہیں، تین دنوں تک یہ مسلح افراد کیمپ پر قبضہ جمائے رکھتے ہیں۔

حملہ آور کون تھے؟

حملے کے چند لمحوں بعد بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) ان دوبوں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے، ترجمان بی ایل اے جیئند بلوچ کے مطابق بی ایل اے مجید برگیڈ کے فدائین پنجگور اور نوشکی کے فوجی کیمپوں پر حملہ آور ہوئے ہیں، ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ بی ایل اے کے جنگجوؤں نے دونوں کیمپوں کے ایک بڑے حصے کو قبضے میں لے لیا ہے اور متعدد فوجی اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا ہے، جب تین دن بعد تمام حملہ آور مارے جاتے ہیں اور جنگ اختتام پذیر ہوتا ہے تو بی ایل اے کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس حملے میں دو سو کے قریب فوجی اہلکار مارے گئے ہیں۔ اور مجید برگیڈ کے سولہ فدائی حملہ آور اس حملے میں شہید ہوئے ہیں۔

حکومتی موقف کیا تھا؟

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ و پاکستان کے اس وقت کے وزیر داخلہ شیخ رشید حملے کے چند ہی گھنٹے بعد دونوں علاقوں میں تمام افراد کے مارے جانے کا دعویٰ کرتے ہیں، جبکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ حملوں کو ناکام کرنے کے مبینہ دعووں کے باوجود تین دنوں تک پنجگور اور نوشکی میں اعلانیہ کرفیو نافذ کیا جاتا ہے، اور شدید فائرنگ و شیلنگ کی آوازیں گونجتی رہتی ہیں جبکہ حکام کی جانب سے لوگوں کو گھروں میں رہنے کا پابند کیا جاتا ہے۔ اگلے ایک ہفتے تک دونوں علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ اور نیٹورک کو معطل کیا جاتا ہے، جبکہ مذکورہ علاقوں میں گن شپ ہیلی کاپٹروں و جاسوس طیاروں کی پروازیں، بم دھماکوں اور گولیوں کی آوازیں بدستور جاری رہتے ہیں۔

مجید برگیڈ کون ہے؟

مجید برگیڈ بلوچ لبریشن آرمی کا اعلیٰ تربیت یافتہ فدائی یونٹ ہے، جو فدائین اور خودکش حملہ آوروں پر مشتمل ہے، جو اس سے قبل بلوچستان و کراچی میں متعدد حملے کرچکا ہے۔

مجید برگیڈ کا نام سب سے پہلے اس وقت سامنے آیا جب سنہ دوہزار گیارہ کی آخری یوم تیس دسمبر کو بارودی سے بھری ایک گاڑی نے پاکستان کے سابق وزیر میر نصیر مینگل کے صاحبزادے شفیق مینگل کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا، حکام کے مطابق اس حملے میں تیرہ افراد ہلاک اور چونتیس زخمی ہوئےتھے۔ شفیق مینگل پر یہ الزام تھا کہ وہ پاکستانی فوج کی سرپرستی میں بلوچ آزادی پسندوں کے مسلح ڈیتھ اسکواڈ چلارہے ہیں۔

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان میرک بلوچ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فدائی حملہ تھا، جسے مجید بریگیڈ کے فدائی درویش بلوچ نے سرانجام دیا۔

مجید برگیڈ کے اس حملے کے بعد سات سالوں کی طویل خاموشی کے بعد مجید برگیڈ کا نام ایک بار اس وقت سامنے آیا، جب گیارہ اگست دوہزار اٹھارہ کو مجید برگیڈ نے بلوچستان کے علاقے دالبندین میں چینی انجیئروں کے ایک بس کو نشانہ بنایا۔ یہ حملہ اس وقت کے بی ایل اے سربراہ اسلم بلوچ کے فرزند ریحان بلوچ نے سر انجام دیا تھا۔

اس حملے کے بعد مجید برگیڈ نے اسی سال نومبر کے مہینے میں 23 تاریخ کو کراچی میں واقع چینی قونصل خانے کو نشانہ بنایا، جبکہ اگلے برس 2019 کو گیارہ مئی کے دن گوادر میں واقع فائیو اسٹار ہوٹل ‘پرل کانٹیننٹل’ پر حملہ آور ہوئے، اس کے بعد اٹھائیس جون دوہزار بیس کو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں واقع بازارِ حصص، پاکستان سٹاک ایکسچینج کو نشانہ بنایا گیا، انیس اگست 2021 کو بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں چائنیز اننجیئروں کے قافلے پر ایک اور فدائی حملہ کیا گیا، جبکہ 26 اپریل 2022 کو کراچی یونیورسٹی میں پہلی بلوچ خاتون فدائی شاری بلوچ نے چینی شہریوں کو نشانہ بنایا، جہاں چینی زبان سکھانے والے ادارے کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر سمیت چار افراد ہلاک ہوئے۔

مجید بریگیڈ کی کاروائیوں میں تیزی کی وجہ؟

بلوچ لبریشن آرمی مجید بریگیڈ جہاں دوہزار گیارہ کو اپنے پہلے فدائی حملے کو سرانجام دیتا ہے، وہیں سات سالوں کی طویل خاموشی کے بعد جب دوہزار اٹھارہ کو چینی شہریوں کو نشانہ بناتا ہے، اس کے بعد تین سالوں کے اندر نصف درجن کے قریب فدائی حملے کرنے میں کسطرح کامیاب ہوتا ہے؟ جہاں انتیس کے قریب فدائی حملہ آور حصہ لیتے ہیں۔

اس کی سب سے بڑی وجہ بی ایل اے کے درون خانہ بڑی تبدیلیوں کو قرار دیا جاتا ہے، جہاں تنظیم کی قبائلی بنیاد رکھنے والی قیادت کو تبدیل کرکے، اسلم بلوچ اور بشیر زیب بلوچ جیسے مڈل کلاس سیاسی رہنما تنظیم کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں اور بی ایل اے کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہیں۔ ان تبدیلوں میں قابل ذکر تبدیلی مجید بریگیڈ کو دوبارہ متحرک کرنا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ فتح اسکواڈ اور ایس ٹی او ایس جیسی ایلیٹ یونٹوں کا قیام بھی ہے۔

فدائی حملوں کے بلوچ تحریک پر اثرات

بیس سالوں سے جاری بلوچ مسلح تحریک کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جتنی شدت اس تحریک میں گذشتہ پانچ سالوں کے دوران آئی، اسکی نظیر گذشتہ دو دہائیوں میں نہیں ملتی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ فدائی حملے ہیں۔

گذشتہ دو دہائیوں کے دوران جو بڑے حملے ہوئے ہیں ان میں دوہزار چار کو گوادر میں چار چینی انجیئروں کی ہلاکت، دوہزار گیارہ میں بولان میں واقع پاکستانی فوج کے کیمپ پر قبضہ اور دوہزار تیرہ میں ساحلی شہر گوادر میں کوسٹ گارڈ کے کیمپ پر قبضہ و اہلکاروں کی گرفتاری شامل ہیں۔

وہیں دوسری جانب دوہزار اٹھارہ میں دالبندین میں چینی انجنیئروں کے بس پر ہونے والے حملے کے بعد مسلح تحریک نے ایک دم شدید شدت اختیار کرلیا۔ جہاں اٹھارہ سالوں میں چند ہی بڑی کاروائیاں کرنے میں بلوچ مسلح تنظیمیں کامیاب ہوئی، وہیں دوہزار اٹھارہ کے بعد دس کے قریب فورسز کے کیمپوں پر قبضہ اور دیگر کئی علاقوں میں بڑی نوعیت کے حملے ہوئے۔

یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بلوچ مسلح تنظیموں نے نئی حکمت عملیوں کو اپناتے ہوئے، مقامی ایجنٹوں کو تکنیکی حملوں میں نشانہ بنایا، جبکہ پاکستان آرمی کے حاضر سروس افسران و دیگر اہلکاروں کو چھاپہ مار کاروائیوں کے دوران گرفتار کرنے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ ان گرفتار شدگان میں پاکستانی فوج کے حاضر سروس کرنل لئیق بیگ بھی شامل ہیں۔

اختتامیہ

بی ایل اے مجید برگیڈ کے حملوں کے بعد جہاں ایک طرف بلوچ مسلح تنظیموں کی کاروائیوں میں اضافہ و شدت دیکھنے میں آیا ہے۔ وہیں سیاسی حوالے سے زمینی حالات میں بھی بہت بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ حالیہ وقتوں میں بڑے پیمانے پر پاکستانی فوج کے مظالم اور ریاستی مسلح جھتوں کے خلاف بھی عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر مزاحمت دیکھنے میں آرہا ہے، اسی طرح بلوچستان میں سیاسی بے چینی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ لوگ بنیادی حقوق تک کے محتاج ہیں، مختلف اوقات میں بلوچستان کے مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد و گروہ مسلسل احتجاج و مظاہروں کی صورت میں اپنے غم و غصے کا اظہار کررہے ہیں، جن کا براہ راست فائدہ بلوچ مسلح تنظیموں کو حاصل ہورہا ہے۔

بلوچ تحریک و بلوچستان پہ نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ تربت میں کمسن بچی برمش کو زخمی کرنے اور ان کی والدہ کی قتل کے بعد جو عوامی سطح پر مزاحمت سامنے آیا، ان سب کو توانائیاں انہی حملوں سے ملی تھی۔ اس سے قبل بھی اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں، مگر عوامی سطح پر اس طرح کی مزاحمت کے بجائے زیادہ تر خاموشی دیکھنے میں آتا تھا، مگر حالیہ دنوں اس طرح کے واقعات میں ہر وقت عوامی سطح پر مزاحمت دیکھنے میں آرہاہے۔

ایک سال گذرنے کے باوجود دو فروری کے حملے کے اثرات اب بھی بلوچ سیاست و مزاحمت پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس حملے نے اس خیال کو زائل کردیا کہ بلوچستان میں پاکستانی افواج ناقابل تسخیر ہیں۔ جس کی وجہ سے بلوچستان کے ناراض نوجوان، شدت پسند بلوچ مسلح تنظیموں کی جانب مائل ہوتے جارہے ہیں۔