بلوچ لبریشن آرمی کی سالانہ کاروائیوں پر مختصر نظر ۔ منیر بلوچ

713

بلوچ لبریشن آرمی کی سالانہ کاروائیوں پر مختصر نظر

تحریر: منیر بلوچ 

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچ لبریشن آرمی بلوچ عوام کی امید کا محور اور بلوچ قومی تحریک اور بلوچ گوریلا جنگ کو جدید خطوط پر استوار کرنے والی بلوچ قوم کی حقیقی نمائندہ تنظیم ہے.ایک وقت ایسا آیا تھا جب تنظیم انتشار اور اختلاف کی ایسی آگ میں جھلس رہی تھی جس کا نتیجہ نہ صرف قوم کی امیدوں کو چور کرکے مایوسی کی دلدل میں دھکیلنا تھا بلکہ قومی تحریک کو ناکامی کی طرف لے جانے والا تھا.لیکن جن کے پاس استاد اسلم اور بشیر زیب جیسے فکری اور نظریاتی استاد و سیاسی شعور سے لیس رہنما موجود ہوں، وہ مایوسی کو بھی امید میں بدل سکتی ہے اور یہ کارنامہ استاد اسلم اور بشیر زیب بلوچ نے ساتھیوں کے ساتھ ملکر انجام دیا اور آج تنظیم نے مجید بریگیڈ ،انٹلیجنس ونگ، لٹریچر کمیٹی ،اسپیشل ٹیکٹیکل فورس کی شکل میں خود کو ایک مکمل گوریلا و سیاسی تنظیم کی شکل میں ڈھال کر نہ صرف قوم کی امیدوں کو بحال کیا بلکہ آج پاکستان کو دوسرے تنظیموں کے ساتھ مل کر ایک ایسے مقام پر پہنچایا ہے جہاں اس کے پاس بلوچستان سے انخلا کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ بچا ہی نہیں ہے.

بلوچ لبریشن آرمی نے اپنی سالانہ رپورٹ 2022 دک (ضرب) کے نام سے شائع کیا ،اس رپورٹ کے مطابق قومی تنظیم نے جنوری 2022 سے لے کر دسمبر 2022 تک دشمن فورسز پر کل 188 حملے کئے، جن میں تین فدائی حملے شامل تھے جو بالترتیب پنجگور ،نوشکی میں آپریشن گنجل کے نام سے جبکہ تیسرا فدائی حملہ جو بلوچ قومی تحریک کا سب سے اثر انگیز اور متوجہ کرنے والا حملہ تھا جس نے نہ صرف پاکستان کی بنیادیں ہلادیں بلکہ چین جیسے استحصالی اور دنیا کی سپر پاور ریاست کو مجبور کیا کہ وہ پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہوجائے،اس حملے نے بلوچ سماج میں بسنے والے ہر طبقہ فکر کو متاثر کیا ،تیسرا فدائی حملہ شہید شاری بلوچ (لیجنڈ) نے کراچی یونیورسٹی کے کنفیونشس انسٹیٹوٹ کے چینی اساتذہ پر کیا.

ان حملوں میں پاکستانی آرمی کے کرنل مرزا لئیق بیگ کو ان کے ساتھی سمیت گرفتار کیا گیا تھا جنہیں بعد میں بلوچ نسل کشی میں ملوث ہونے کی وجہ سے سزائے موت کے عمل سے گزار کر اسکے انجام تک پہنچایا گیا.

کرنل لئیق بیگ کے علاوہ بی ایل اے کے جانبازوں نے چھبیس ستمبر 2022 کو ہرنائی کے علاقے سے ایک جونئیر کمیشنڈ آفیسر اور خفیہ ادارے کے اہلکار کو اغوا کیا جبکہ اسی دن کوئلہ لیجانے والی ٹرک کو بھی نشانہ بنایا جبکہ دشمن فوج کے ہیلی کاپٹر کو تباہ کرکے چھ اہلکاروں کو ہلاک کیا.

بی ایل اے کے جانباز سرمچاروں نے دشمن فوج کے تین سو چونسٹھ اہلکاروں کو ہلاک جبکہ ایک سو پچپن کو زخمی کیا ،دشمن کے چودہ سہولت کار ہلاک اور تیرہ زخمی ہوئے.

موبائل ٹاور اور دیگر تنصیبات پر چھیالیس بار حملہ کیا گیا جبکہ نو اسپیشل آپریشن بھی اس حملے کا حصہ ہے.

ماہانہ حملوں کی تفصیلات.

سال کے بارہ مہینوں میں بی ایل اے نے کل 188 حملے کئے جن کی ماہانہ بنیادوں پر ترتیب ذیل میں بیان کی گئی ہے.

ماہ جنوری میں چھ حملے کئے گے،فروری میں چودہ،مارچ میں ایک جھڑپ کے ساتھ کل بارہ حملے ہوئے،اپریل میں تیرہ،مئی میں سولہ ،جون میں گیارہ حملے ریکارڈ ہوئے.

جولائی کے مہینے میں تیرہ ،اگست میں تئیس ،ستمبر میں سترہ،اکتوبر میں چوبیس ،نومبر میں تیرہ جبکہ دسمبر میں کل چھبیس حملے ریکارڈ ہوئے.

علاقہ وائز حملوں کی فہرست .

سب سے زیادہ حملے مکران ڈویژن میں ریکارڈ کئے گئے جن کی کل تعداد اڑسٹھ تھی ضلع تربت کے مختلف علاقوں میں اکیاون حملے کئے گئے جبکہ ضلع پنجگور کے مختلف علاقوں میں پندرہ حملے اور ضلع گوادر میں دو حملے پسنی اور دشت میں کئے گئے.

مکران ڈویژن کے بعد سب سے زیادہ حملے قلات ڈویژن میں کئے گئے جن کی تعداد اٹھاون تھی جن میں ضلع قلات میں پینتیس ،ضلع خضدار میں دس ،ضلع لسبیلہ حب میں چھ،ضلع مستونگ چار،ضلع خاران دو جبکہ ضلع واشک میں ایک حملہ کیا گیا.

نصیر آباد ڈویژن کے بولان ضلع(ضلع کچھی)میں کل چوبیس حملے کئے گئے جو بولان،مچھ اور ڈھاڈر میں سر انجام دئیے گئے. کوئٹہ ڈویژن میں ضلع کوئٹہ اور ضلع نوشکی میں انیس حملے کئے گئے جبکہ سب سے کم حملے سبی ڈویژن میں کئے گئے جن کی تعداد سترہ تھی جو ضلع کوہلو، زیارت،ہرنائی اور سبی کے علاقوں میں کئے گئے.ایک حملہ کراچی میں کیا گیا۔ اگر دیکھا جائے تو بلوچستان کے کل چھ ڈویژن ہیں، جن میں کل تینتیس اضلاع ہیں.ان چھ ڈویژن میں پانچ ڈویژن کی آبادی بلوچوں پر مشتمل ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے جہاں جہاں بھی بلوچ قوم آباد ہے وہاں وہاں بلوچ لبریشن آرمی متحرک رہی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بی ایل اے بلوچ قوم کی حقیقی تنظیم ہے.

تنظیم کے شہید ساتھی

سال دو ہزار بائیس میں تنظیم کے کل پینتیس سرمچاروں نے جام شہادت نوش کرکے بلوچ قومی تاریخ میں امر ہوگئے ان شہیدوں میں شہید شاری،نوشکی اور پنجگور میں فدائی کرنے والی سولہ سرمچار جن میں ناصر ،بادل ،عزیز ،بلال ،حامد ،مراد ،یاسر ، میرین

ضمیر ، دیدگ ، ابراہیم ،انیل ،سمیع ،جمال اسد و الیاس شامل تھے.

جبکہ دیگر شہدا میں شہزاد ،ندیم ،کمبر،جلیل ،شعیب ،عتیق ،خالد جاوید ،حارث،خیر بخش،میشداد،در محمد ،نواز ،زاہد،شعیب بلوچ ،یاسر،صمد اور رحمدل شامل تھے.

اختتامیہ

بلوچ لبریشن آرمی بلوچستان کی منظم و متحرک تنظیم ہے جس نے عمل و علم کے ذریعے اس بات کو ثابت کیا ہے،تنظیم نے نہ صرف دشمن کی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا ہے بلکہ بم دھماکوں کے ذریعے آلہ کاروں اور تنصیبات کو بھی نقصان سے دوچار کیا ہے. سال دوہزار بائیس میں تین خودکش دھماکے کرکے نہ صرف پاکستانی فوج کا مورال گرادیا ہے بلکہ شہید شاری کی شکل میں قوم کو پہلا بلوچ خاتون فدائی بھی تنظیم کی کاروائیوں کا حصہ ہے جس کی وجہ سے بلوچ قوم خاص کر بلوچ نوجوان بی ایل اے سے شعوری و جذباتی لگاو رکھتے ہیں.اسپیشل ٹیکٹیکل فورسز اور فتح اسکواڈ کی شکل میں ایک پروفیشنل انداز اپنایا ہے.

جبکہ ممبران اور بلوچ نوجوانوں کے لئے پورے سال میں چار تربیتی کتابچہ تیار کئے جو ایک انقلابی تنظیم کے لئے نہایت ہی اہمیت رکھتی ہے.

سال دو ہزار بائیس میں بلوچ قومی تنظیم کی کمانڈ اینڈ کونسل نے ایک سیاسی فیصلہ کرکے کچھ حلقوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے پر مجبور کیا ہے جب تنظیم کے سرمچاروں نے پاکستانی فوج کے جونئیر کمیشنڈ آفیسر اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں کو گرفتار کیا تو قیدیوں کے تبادلے کا ایک بیان جاری کیا جو بلوچ قومی تنظیم کے رہنماؤں کی سیاسی شعور کی نشاندہی اور تنظیم کی بلوچ سماج میں طاقت کا بھرپور اظہار اور پاکستانی فوج کے شکست کی واضح علامت ہے.

مختصر بلوچ قوم بی ایل اے اور دیگر تنظیموں کے پلیٹ فارم سے جدوجہد آزادی کو آگے بڑھائیں تاکہ آزاد بلوچستان کا خواب پایہ تکمیل تک پہنچ سکے.


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں