بلوچستان میں آزادی کی تحریک میں تیزی آئی ہے۔ نواب رئیسانی

1054

سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے کوئٹہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست قلات کے الحاق کے معاہدے پر آج تک عملدرآمد نہیں ہوا 1948ء سے آج تک بلوچستان میں سورش چل رہی ہے اور اب اس آزادی کی تحریک میں زیادہ تیزی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہماری بات سننے کو تیار نہیں وہ سمجھتے ہیں کہ بندوق کے زور پر ہمیں زیر کرلیں گے ہمارے گاؤں کے گاؤں کو آگ لگائی گئی لیکن پھربھی مسائل حل نہیں ہوئے آج ہمارے قبائلی معاملات میں بھی غیر متعلقہ لوگوں کو شامل کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اعلیٰ افسر نے کہا کہ گوادر میں کوئی سڑک بن کرے گا تو اسے گرفتار کیا جائے گا ایک ادارے کے سربراہ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں آپریشن سماجی ناہمواری ختم کرنے کیلئے کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بندوق کے ذریعے مسائل حل ہوتے تو ماضی عالمی سطح پر جتنے بڑے تنازعات تھے وہ ختم ہوجاتے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست سوتیلی ماں جیسا سلوک ترک کرے۔ پاکستان کے مالی حالات ٹھیک نہیں لیکن بلوچستان میں فوجی آپریشن جاری ہے صوبے کے 9ہزار بچے اورسیاسی کارکن گمشدہ ہیں عدالتیں اسکا ازخود نوٹس کیوں نہیں لیتی۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ایجنٹ کہا جاتا ہے ہم مظلوموں، پاکستان کے کمزور طبقے، وفاق کی بات کرنے والوں کے ایجنٹ ہیں وفاق اسوقت مضبوط ہوگا جب اکائیوں کو اختیارات ملیں گے۔

سیمینار میں شریک مسلم لیگ (ن)کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ روزگار صرف بلوچستان کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔

کوئٹہ میں پاکستان کے تصور نو پر قومی ڈائیلاگ سے خطاب میں مفتاح اسماعیل نے سوال کیا کہ ہمیں سوچنا ہوگا کہ وہ پاکستان کیسے بنائیں جو سب کیلئے اچھا ہو؟

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اچھا بنانا ہے تو یہ کام ہمیں ہی کرنا ہے، ملک اس وقت 50 ہزار ارب روپے کا مقروض ہے، ہمیں ہر برس 20 ارب ڈالر دینے ہیں۔

سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پچھلے سال عمران خان 18 ارب کا خسارہ چھوڑ کر گئے تھے، ملک میں 8 کروڑ افراد غربت میں رہ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو عزت دار قوم بننے کیلیے اپنے پاوں پر کھڑا ہونا پڑے گا، ہر پاکستانی کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ امید ہے اس سال بلوچستان کو این ایف سی ایوارڈ میں 400 ارب روپے ملیں گے۔ان کا کہنا تھاکہ ایسی کیا وجہ ہے لوگ غریب ہیں، یہ دیکھنا ہے ہم کس روش پر جارہے ہیں، 60 فیصد پاکستانی ایسے ہیں جن کی آمدنی 35 ہزار روپے سے کم ہے۔سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ ہر پاکستانی کی آمدنی بڑھانا ہے، ہم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ لوگوں کا اچھا معاش ہو، ہمیں یہ تصور کرنا ہے کہ ہر شخص کی آمدنی 1 لاکھ روپے ہو۔

سابق وفاقی وزیر خواجہ محمد ہوتی نے سمینارسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب ملک میں ووٹ کی قدر نہ ہو تو لوگ سوچنے پر مجبورہونگے کہ وہ کیسے اس ملک میں ایک آزاد شہری کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں۔ ہم نے کبھی غلامی قبول نہیں کی شاہد خاقان عباسی پر نیب کے ذریعے مصیبتیں ڈھائی گئیں ہم سے پوچھا جارہا ہے کہ کیا ہم پارٹی بنارہے ہیں ہم کوئی سیاسی جماعت نہیں بنارہے جب جماعتوں میں سننے کی سکت ختم ہوجائے تو ہم سمینار کرکے ہی اپنی آواز اٹھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایسا معاشرہ بنانا چاہتے ہیں جس میں لوگ خوشی سے رہ سکیں جب عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کو گالیاں دیں تو کوئی کارروائی نہیں ہوئی لیکن علی وزیر بھی اسی پارلیمنٹ کے رکن ہیں وہ آج بھی پابند سلاسل ہیں ملک میں دو نہیں ایک قانون ہونا چاہیے۔

سابق سینیٹرمصطفی نواز کھوکھر نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 75سال گزرنے کے باوجود ہم آج بھی اسی مقام پر کھڑے ہیں جہاں سے سفر شروع کیا تھاملک میں سچ بولنے کا فقدان ہے ہم نے فیصلہ کیا کہ غیرسیاسی طریقے سے گفتگو کرتے ہوئے عوام کے مسائل کو اجاگر کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت ختم کرکے عوامی مسائل کے حل پر توجہ نہ دی گئی تو ملک کو نقصان ہوگاہم سری لنکا نہیں ہمارے ملک کی بہت سی فالٹ لائنز ہیں اگر کچھ ہواتو معاشرہ تباہ ہوجائے گا ہم تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل سینیٹر فرحت اللہ بابرنے ویڈیولنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستانیوں کی اکثریت ریاست سے لاتعلق ہورہی ہے اور یہ رشتہ ٹوٹ گیا ہے، اس رشتے کو کیسے اس کو بحال کیا جائے، جب شہری دیکھتا ہے کہ اس کے حقوق کو پامال کیا جاتا ہے اور جوپامال کرنے والے ہیں وہ تسلیم بھی کرتے ہیں اور وردعدہ کرتے ہیں آئندہ ایسا نہیں ہوگا مگر اس کے باوجدعملی طور پر ایسا نہیں ہوتا، دوسری جانب لوگ لاپتہ ہورہے ہوں اور پاکستان کی عدلیہ اورریاست انہیں واپس لانے ناکام ہو جائے تویہ رشتہ کیسے بحال ہوگا، جب بلوچستان سے مسخ شدہ لاشیں ملیں اور لواحقین ایف آئی آر درج نہ کریں اور کہیں کہ ہمیں ریاست پر یقین نہیں ہے تو یہ رشتہ ختم ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے برخلاف جب پارلیمنٹ اوراسمبلیوں میں لوگوں کو چور دروازے سے لایا جائے تو یہ رشتہ کیسے نہیں ٹوٹے گا، یہ رشتہ اس وقت تک بحال نہیں ہوسکتا جب تک آئین کے ساتھ وفاداری نہ ہو، جب آئین کی پامالی کرنے والے کو امپیونٹی ملے تو اسی طرح ہوگا، تمام ادارے اپنے آئینی دائرہ اختیار میں رہ کر کام کریں،پاکستان کو کسی اور طریقے سے ری امیجن نہیں کر سکتے، اکثریت پاکستان سے بیگانہ ہورہے ہیں۔رقبے کے لحاط سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ بلوچستان کی قومی اسمبلی میں نمائندگی جب پنجاب اور کے پی کے سے کم ہو، اورجب آئین ہی ایسا ہو کہ قومی اسمبلی میں ان کی سیٹیں بلوچستان سے زیادہ ہوں اور یہاں کے عوام نظر انداز ہوںتوایسا ہی ہوگا،آئین کی حرمت کو بحال کرکے انٹیلیجنس ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریںتویہ رشتہ بحال ہوسکتاہے۔

حق دو تحریک کے رہنماءحسین واڈیلانے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دور کے ڈھول سہانے جیسے گوادر کا چرچا ہے کہ سی پیک کی ماتھے کا جھومر ہے، گوادر سی پیک کے ماتھے کاجھومرنہیں بلکہ اس پرایک کلنک ہے، کہتے ہیں کہ گوادر گیم چینجر ہے اورسی پیک منصوبے سے ترقی آئے گی ہمیں پاگل کتے نے نہیں کاٹا کہ جوترقی کی راہ میں رکاوٹ بنیں۔ انہوں نے بتایاکہ 1987میں جیونی میں پانی کی فراہمی کیلئے مظاہرہ کرنے والے لوگ شہید ہوئے مگرآج تک وہاں پانی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاہور اور سندھ سے پنجاب تک اربوں روپے کے موٹر وے بنے مگربلوچستان میں کہیں بھی ایک انچ روڈ نہیں بنے۔ ہمارے حکمران بلوچوں اوربلوچ نوجوانوں کو دہشتگرد کہتے نہیں تھکتے مگرہمیں بتایاجائے کہ گوادرمیں پرامن احتجاج کرنے والے دہشتگردتھے ؟

انہوں نے کہا کہ گوادر میں پرامن احتجاج کر رہے تھے ہمارے مطالبات میں ٹرالنگ ، منشیات فروشی اورغیرضروری چیک پوسٹوں کاخاتمہ شامل تھے، ہم نے کوئی غلط بات نہیں کی،پاکستان میرا ملک توبلوچستان میراوطن ہے، پاکستان کی عمر 76سال میرے باپ کی عمر پاکستان سے زیادہ ہے، بلوچستان کے عمرکی گواہی مہر گڑھ دے گا، جب میرا وطن جلے گا اور میرے بچوں کو اغوا ہو، آنے والے وقت میں کوئی زندہ آباد کہنے والا نہیں بچے گا،انہوں نے کہا کہ بندوق مسئلے کا حل نہیں ہم نے نوجوانوںکو تحریک میں یکجاکرکے پارلیمان اوربات چیت کے ذریعے آگے آںے کی بات کی مگرانہوں نے یہ بھی برداشت نہیں کیا۔