پاکستان: لاپتہ قرار دیئے گئے 1590 افراد کی حراستی مراکز میں موجودگی کی تصدیق

472

لاپتہ افراد کمیشن کی پیش رفت رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ 81 لاپتہ افراد اپنے گھروں میں واپس پہنچ گئے۔

پاکستان میں لاپتہ افراد کمیشن نے اپنی پیش رفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ 81 لاپتہ افراد گزشتہ ماہ اپنے گھروں میں پہنچ گئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 9 ہزار 133 افراد کے لاپتہ ہونے کی شکایات ملیں، کمیشن نے 5 ہزار 574 افراد کا سراغ لگایا، جن میں سے 3 ہزار 743 افراد گھروں کو پہنچ چکے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لاپتہ قرار دیئے گئے 974 افراد حراستی مراکز اور 616 جیلوں میں قید ہیں، جب کہ مجموعی طور پر 241 لاپتہ افراد کی لاشیں ملیں۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر لاپتہ افراد کے 6 ہزار 926 کیسز نمٹائے جا چکے ہیں، اور 30 نومبر تک لاپتہ افراد کے 2 ہزار 207 مقدمات زیر التواء ہیں، نومبر میں کمیشن کو 98 کیسز موصول ہوئے، اور 101 نمٹائے گئے۔

خیال رہے پاکستان بھر میں جبری گمشدگیوں کے واقعات کئی عرصے رپورٹ ہورہے ہیں جبکہ بلوچستان ان جبری گمشدگیوں میں سب سے زیادہ متاثر ہیں۔

بلوچستان میں گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ہزاروں افرادجبری طور پر لاپتا کیے گئے ہیں جن میں سے سینکڑوں افراد کی مسخ شدہ لاشیں بھی ملی ہیں۔ لاپتا افراد کے لواحقین سمیت انسانی حقوق کی تنظیمیں و سیاسی جماعتوں ان جبری گمشدگیوں میں پاکستانی خفیہ اداروں و فورسز کو ملوث قرار دیتے ہیں۔

لاپتا افراد کمیشن سے متعلق بلوچستان سمیت سندھ میں متاثرہ لواحقین عدم اعتماد کا اظہار کرچکے ہیں۔ لواحقین کہتے ہیں مذکورہ کمیشن کے سماعتوں کے دوران انہیں ہراسگی کی سامنا ہے جبکہ کمیشن کی پیش رفت محض کاغذی کاروائی تک محدود ہیں۔