بی ایل اے نے کوہلو بم حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

622

بلوچ لبریشن آرمی نے آج کوہلو میں پاکستانی فورسز پر ہونے والے بم حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے آج کاہان میں قابض پاکستانی فوج کے ایک قافلے میں شامل گاڑی کو آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کے ایک کیپٹن سمیت آٹھ اہلکار ہلاک و تین زخمی ہوگئے۔

ترجمان نے کہا کہ تفصیلی بیان جلد شائع کی جائیگی۔

یاد رہے کہ کوہلو میں اتوار کے روز پاکستانی فورسز کے ایک قافلے کو بم حملے میں نشانہ بنایا گیا، قافلے پر ہونے والے ایک بم حملے میں پاکستان آرمی کے ایک آفیسر سمیت متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں میں کپٹن فہد، سپاہی اصغر، سپاہی شمعون، سپاہی مہران، لانس نائیک امتیاز اور زخمیوں میں نائیک امین اللہ، این کےشعیب، شہباز اور ساجد نامی اہلکار شامل تھے۔

واضح رہے کہ پچھلے 48 گھنٹوں میں یہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فورسز پر ہونے والے حملوں میں دوسرا بڑا حملہ ہے اس سے قبل تربت میں ایک حملے میں پاکستان آرمی کے چار اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ کیچ کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فورسز دس کے قریب حملے ہوئے ہیں۔

ان حملوں میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی شناخت و تصدیق مقامی انتظامیہ و اہلخانہ کی جانب سے سامنے آرہے ہیں تاہم پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ بلوچستان میں ہونے والے حملوں اور ہلاکت کے حوالے سے تاحال خاموش ہیں۔

حالیہ کچھ دنوں سے بلوچستان بھر میں فورسز پر ہونے والے حملوں میں خاصا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان حملوں میں تیزی بلوچ لبریشن آرمی کے سابق سربراہ جنرل اسلم بلوچ و ساتھیوں کے برسی کے موقع پر دیکھنے میں آرہی ہے۔ آج ہی کے روز 2018 میں بلوچ رہنماء جنرل اسلم و انکے پانچ ساتھیوں کو ایک حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا جس میں وہ جانبحق ہوئے تھے۔

دوسری جانب بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں اتوار کے روز بم دھماکہ سنا گیا۔ پولیس کے مطابق سبزل روڈ پر پولیس اسٹیشن کے قریب دستی بم پھینکا گیا جو زور دار دھماکہ سے پھٹ گیا۔

دھماکے کے نتیجے میں 3 خواتین سمیت 4 افراد زخمی ہوئے، زخمیوں کو طبی امداد دینے کے لئے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔

پولیس اور دیگر فورسز نے علاقے کا گھیراؤ کرکے ناکہ بندی شروع کردی۔ تاہم کوئٹہ میں ہونے والے حملے کی زمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہیں۔