کاہان میں دوسرے روز فوجی آپریشن جاری

700
فائل فوٹو

بلوچستان کے ضلع کوہلو میں پاکستان فوج کیجانب سے دوسرے روز بھی آپریشن جاری ہے۔

فوجی آپریشن کا آغاز گذشتہ روز علی الصبح کیا گیا جہاں ڈرون حملے کے بعد کم از کم آٹھ ہیلی کاپٹر علاقے میں پہنچے تھے۔ آئی ایس پی آر نے گذشتہ روز آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے بلوچ لبریشن آرمی کے نو افراد کو مارنے اور تین کو زخمی حالت میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔

جانی نقصانات و گرفتاریوں کی تاحال مقامی ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے جبکہ فوج کیجانب سے بھی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی۔

ٹی بی پی کو ذرائع نے بتایا کہ آج دوسرے روز بھی فوجی اہلکار علاقے میں موجود ہیں۔ فوج کیجانب سے مقامی افراد کے گھروں کو نذرآتش کرنے کی اطلاعات آرہی ہے تاہم علاقے میں آمد و رفت بند ہونے کے باعث تاحال اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

خیال رہے رواں مہینے کے اوائل میں بولان میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کی گئی جس میں گن شپ و جاسوس طیاروں نے حصہ لیا جبکہ جیٹ طیاروں کی پروازیں بھی اس دوران دیکھنے میں آئی تھی۔

بولان آپریشن میں پاکستان فوج نے چار بلوچ آزادی پسندوں کو مارنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم بعد ازاں بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے تفصیلی بیان میں کہا کہ “بی ایل اے کے سرمچاروں نے بولان میں ایک ہفتہ طویل گھمسان کی لڑائی کے بعد پاکستانی فوج کے حملے کو کامیابی کے ساتھ پسپا کردیا۔”

انہوں نے کہا کہ اس دوران دشمن فوج کے پندرہ اہلکاروں کو ہلاک اور ایک درجن سے زائد کو زخمی کردیا گیا۔ جبکہ مادر وطن کی حفاظت کرتے ہوئے، بی ایل اے کے تین جانبازساتھی آخری گولی کے فلسفے پر عمل پیرا ہوکر شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔”

کاہان آپریشن میں آئی ایس پی آر کے بیان کے بعد تاحال جیئند بلوچ نے کوئی موقف پیش نہیں کیا ہے۔