مطالبات پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں گوادر پورٹ بند کرینگے۔ حق دو تحریک

157

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں حق دو تحریک کا شہید لالہ حمید چوک پر احتجاجی دھرنا آج 17 ویں روز بھی جاری رہا۔

اس موقع پر مخلتف علاقوں سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ آج شرکاء نے پاکستانی میڈیا کیخلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں میڈیا کا عدم توجہ قابل مذمت ہے۔

کل بروز اتوار کے دن بچوں کی ریلی نکالی جائے گی جبکہ مطالبات پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں 20 نومبر کو گوادر پورٹ کو بند کرنے کی دھمکی دی گئی۔

حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ پاکستانی میڈیا بلوچ دشمنی پر اتر آیا ہے۔ گذشتہ سال ہمارے دھرنے کے وقت پاکستانی میڈیا کترینہ کیف کی شادی میں مصروف تھی اس سال ثانیہ مرزا کی طلاق میں مصروف ہے بلوچوں کے لیے قومی میڈیا کے پاس کوئی وقت نہیں ہے اور نہ ہی انکے پاس ہماری کوئی اہمیت ہے ہمارے ساتھ ہروقت اسی طرح ہوتا ہے ۔ اسلام آباد والوں نے بلوچوں پر کب توجہ دیا ہے جو یہ آج دینگے ۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے اپنے وزارت عظمی کے گوادر کے پہلے دورے پر گوادر کے لئے بہت بڑے بڑے اعلانات کئے یہاں کے لوگ خوش ہوئے کہ اب ہماری زندگیاں تبدیل ہونگے ہم ترقی کرینگے لیکن اس دن سے لیکر آج تک چالیس سال کا عرصہ ہوگیا ہے گوادر وہیں کا وہی ہے۔ شہباز شریف اپنے وزارت عظمی کے دونوں دفعہ گوادر کے دورے پر صرف سعودی عربیہ کے شکریہ ادا کرنے آگئے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا زمین سے آسمان تک جا پہنچی ہے اور نئے نئے ٹیکنالوجی ایجاد کررہی ہے لیکن ہمارا مسلہ آج بھی کھمبا ٹرنسفارمر اور گٹر ہے جو حکمرانوں اور یہاں کے ایم پی اے کے لئے ڈوب مرنے کی بات ہے ۔ چالیس سالوں سے گوادر پر حکمرانی کرنے والے ایک پائپ لائن بچھانے پر مبارکباد وصول کرکے خوش ہورہا ہے ۔ پاکستان کے حکمران انتہائی نااہل ہیں۔ جو لوگ پاکستان میں ہماری حکمرانی کررہے ہیں وہ امریکہ و لندن جاکر ہوٹلوں میں بہرے کے کام کرتے ہیں ۔ یہ پاکستان کی بدنصیبی ہے کہ اس ملک میں کرپٹ نظام ہے ۔

انہوں نے کہاکہ حق دو تحریک کے دھرنے سے ایم پی اے اور محکمہ فشریز کو خیال آیا کہ ماہیگیروں کے سابقہ فیسوں کو بحال کردیاجائے ۔ گذشتہ ایک سال سے کسٹم والے ماہیگیروں کو تنگ کررہے ہیں لیکن انکے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی، حق دو تحریک کے دھرنے کے بعد انکو خیال آیا۔

انہوں نے کہا کہ تینوں شراب خانوں کو فی الحال سیل کردیاگیا ہے ۔ چیک پوسٹ ختم کردئے جاہینگے ۔ بارڈر پر آزادانہ کاروبار ہوگی ۔ محکمہ فشریز 15 ٹرالر پکڑے گی، کوسٹ گارڈ لوگوں کے گاڑیوں اور کشتیوں کو چھوڑدے گی، ضلع گوادر کے تمام بند اسکولوں کو کھول دیا جائے گا تب بات کرنے کو تیار ہونگے ۔

انہوں نے کہا کہ ہماری احتجاج سے حکمرانوں کی نیندیں حرام ہیں اتنی پروپگنڈہ اور مخالفت کے باوجود کارکنان جس جزبے سے بیٹھے ہیں انکے اسی ،جزبہ ،جرات و ہمت کو سلام پیش کرتا ہوں ۔ ہماری صبر کو آزمایا جارہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ گوادر کے گراؤنڈ بلدیہ گوادر کی ملکیت ہیں ڈپٹی کمشنر کردار ادا کرکے ان گراؤنڈ کو اسپورٹس مینوں کے حوالے کریں وگرنہ جس دن حق دو تحریک کے چیئرمین نے اپنا سیٹ سنبھالا تو ہم خود گوادر کے تمام گراؤنڈ کو آرمی سے لیکر اپنے حوالے کرینگے اور آرمی کے کرنل و بریگیڈیئر کو بھی واک کرنے کے لئے ہم سے اجازت لینی پڑیگی۔ فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت ہے گھاس کی حفاظت کرنا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ 20 نومبر کو ہم نے فیصلہ کن جنگ کرنے کا باقاعدہ اعلان کردیا اور کارکنان 20 نومبر کی بھرپور تیار کریں اور بلوچستان بھر سے بھی لوگ آخر اس احتجاج میں شامل ہوں ۔