قومی تحریک، سیاسی رویے اور اداروں کا کردار – حکیم واڈیلہ

316

قومی تحریک، سیاسی رویے اور اداروں کا کردار

تحریر: حکیم واڈیلہ

دی بلوچستان پوسٹ

بنی نوع انسان کی تاریخ دو مختلف نظریات کے گرد گھومتی نظر آتی ہے، ایک سائنس اور دوسرا مذہب، سائنس اور مذہب پر عبوررکھنے والے افراد میں جو چیز قدر مشترک ہوتی ہے وہ ہے علم کا حصول۔

اگر آپ کسی سائنسی شخص کا مطالعہ کریں یا ان سے مکالمہ کریں تو وہ ایک ایسے دنیا کی نقشہ کشی کرینگے جس میں انسانکو سوچ کر، سمجھ کر، سوال کرکے، ہر ایک گام پر مختلف پہلوؤں کو پرکھ کر باریک بینی سے تجربات کے مختلف مراحل سے گزر کرنتائج حاصل کرنے ہوتے ہیں۔

جبکہ دوسری طرف مذہبی علم اور خدائی نظام پر عبور رکھنے والا عالم آپ کو عقیدہ، عبادت، اس زندگی کے بعد شروع ہونے والیحقیقی زندگی میں کامیابی کے حوالے سے ہر ایک مسئلے پر آپکو تمام سوالات کے جوابات دینے کے ساتھ ساتھ دنیا میں کس طرحانسانوں کو زندگی گزارنی چاہیے کے حوالے سے درس دیکر آپ کیلئے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

دنیا میں مذہب اور سائنس شروع دن سے ہی ایک دوسرے سبقت لیجانے کی جدوجہد کررہے ہیں، دونوں ہی اطراف سے اپنے دلائل اپنےعمل اپنے کامیابی اور اپنے مقاصد کا پرچار مختلف ذرائع سے کیا بھی جاتا ہے۔

اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ راقم کی تحریر اور اوپر لکھے گئے باتوں کا آپس میں کیا تعلق ہوسکتا ہے اور انہیں کیوں رقم کیا گیا ہے توعرض یہ ہے کہ سائنسی اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی خاطر اداروں کا قیام انتہائی ضروری عمل ہوتا ہے۔ اگر آپ کسیسائنسی عمل کو کامیاب کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے آپکو ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو اس تجربہ پر مہارت رکھتے ہوںاور آپکی کوشش کو کامیابی میں بدل سکتے ہوں۔ پھر آپ ایک ایسے جگہ کا چناؤ کرتے ہیں جو تجربہ گاہ ہوتا ہے، جہاں تمام ترتجربات، کوششیں کی جاتی ہیں، جہاں اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ کس طرح سے کم از کم نقصان اٹھاتے ہوئے تجربات کوکامیاب بنایاجاسکے۔ عین اسی طرح مذہبی پیغام کا پرچار کرنے کیلئے آپ کو اداروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر آپ کسیبھی مسجد، مندر، گرجاگھر یا کسی بھی مذہبی عبادت کے مقام کا تصور کریں وہاں آپ صرف خالق حقیقی کی عبادت ہی نہیں کرتےبلکہ وہاں آپکو یہ درس بھی دیا جاتا ہے کہ کیونکر ہم اور آپ زندہ ہیں۔

جب ایک سائنسی تجربہ اور مذہبی پیغام کا پرچار بغیر اداروں، آئیڈیاز اور پلاننگ کے ممکن نہیں ہوسکتا تو سوچیے بحیثیت قوم ہمکس طرح یہ گمان کرسکتے ہیں کہ ہم اپنی آزادی، اپنی خوشحالی، اپنے حقوق، اپنے بنیادی مسائل کا حل صرف اور صرف اپنیچھوٹی سی دنیا میں بند رہکر حاصل کرسکتے ہیں۔ آج دنیا میں کسی بھی عمل کو شروع کرنے سے قبل اس عمل کے ہر ایک پہلو کودیکھا جاتا ہے، پرکھا جاتا ہے، رسک کو کم از کم کرنے لئے تمام احتیاطی تدابیر بنائے جاتے ہیں۔

موجودہ بلوچ قومی تحریک جو گزشتہ دو دہائیوں سے جاری ہے، یہ بلوچوں کی ان تمام تحریکوں کا نچوڑ ہے جو ماضی میں جاریرہی ہیں، ریاست پاکستان کیخلاف ہی بلوچوں نے اس تحریک سے قبل چار تحریکیں چلائیں جو کسی نہ کسی وجہ سے دم توڑ گئیں۔لیکن موجودہ تحریک کو جو چیز دیگر تحاریک سے افضل، بہتر ؤ یکسر مختلف بناتی ہے، وہ ہے موجودہ تحریک میں اداروں کا قیام۔موجودہ تحریک میں مختلف اداروں نے کٹھن حالات میں بھی اس تحریک کو ایندھن فراہم کرتے ہوئے اس قدر تحریک کی آبیاری کی کہبلوچ قوم آج بھی اپنے منزل کی جانب رواں دواں ہے۔

آج بلوچستان کی تحریک ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں بلوچ قوم کے نوجوان، بزرگ، خواتین ؤ بچے تمام لوگ دشمن سےنبردآزما ہونے کی ہمت، صلاحیت اور جزبہ رکھتے ہیں۔ جسکا اظہار بھی وقتا فوقتا کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن بلوچوں کے پاس اس آشوبیدور میں جہاں بلوچ سرمچاراں دشمن سے اب گوریلہ تکنیک سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے دوبدو کی جنگ کرتے ہوئے دشمن کو پسپہکرنے کی صلاحیت حاصل کرچکے ہیں، جہاں بلوچ خواتین بلوچ قومی جنگ کا براہ راست حصہ بن چکی ہیں۔ جہاں بلوچ عوام خوف ؤڈر کے ماحول کو ختم کرتے ہوئے دشمن فوج سے اپنے پیاروں کی بازیابی سمیت بلوچستان میں جاری ظلم و جبر کیخلاف شب ؤ روزسرگرم عمل ہیں۔

وہیں دوسری جانب بلوچ سیاسی آواز ایک بند گلی کی جانب جاتی نظر آرہی ہے، جہاں اداروں میں سنجیدگی، پختگی، پلاننگ،احساس لیڈرشپ جیسے بنیادی شئے پر ذاتی سوچ، ضد، انا اور احساس برتری جیسے عوامل حاوی ہوتے جارہے ہیں۔ سیاسی اداروںکا بنیادی کام عوام میں شعور پیدا کرنا ہوتا ہے، انہیں جدوجہد کی طرف مائل کرنا ہوتا ہے۔ انہیں یہ سمجھانا ہوتا ہے آپ کی موجودہمسائل کی بنیادی وجوہات کیا ہیں۔ آپ کیونکر ان سنگین انسانی بحران میں قید ہیں، آپ کیونکر دنیا کے ایک سب سے امیر خطے کےمالک ہوتے ہوئے بھی بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔

لیکن ہمارے یہاں الٹی گنگا بہتی نظر آتی ہے، ہمارے یہاں اداروں کو نہ صرف اپنی غلط حکمت عملیوں، ذاتی پسند و ناپسند کی بنیادپر کمزور کیا جاتا ہے بلکہ اکثریتی فیصلوں پر فردی فیصلوں کو مسلط کرکے یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم واقعتاً قومی ذمہ داریوں کو اداکررہے ہیں۔ اگر کوئی شخص کوئی ادارہ اپنی سوچ سے بالاتر ہوکر سوچنے، سمجھنے، پرکھنے اور کسی بھی عمل کو کرنے سے قبلاس کے نتائج میں پیدا ہونے والی صورتحال کے مثبت اور منفی پہلوؤں کو پھانپے بغیر، خطرات کے روک تھام کو یقینی بنائے بغیر صرفاس بنیاد پر تجربات کیا کرے کہ کیونکہ میں (یہاں میں سے فرد بھی ہوسکتا ہے اور ادارہ بھی) سب کچھ جانتا ہوں تو یقیناً ایسےتجربات ہمیشہ ہی تباہی اور نقصان کا سبب بنتے ہیں۔

آج بلوچستان میں جن انقلابی مراحل سے گزر رہا ہے ایسے حالات میں سیاسی رویوں میں پختگی انتہائی اہمیت کا حامل ہوتی ہے،سیاسی رویے ہی سیاسی رہنماوں اور انکے اداروں کی پختگی اور شعور کی نشاندہی کرتی ہے۔

سوچیے آپ کسی ادارے کے سربراہ ہیں، اور آپ اپنے ہی ادارے اور اپنے ہی کی گئی بات پر عمل کرنے کے بجائے اس بات کی بار بارنفی کرتے ہیں اور پھر اسی بات کا پرچار یہ سوچ کر کرنا چاہتے ہیں کہ کیونکر میں سب کچھ جانتا ہوں تو یقیناً میری بات پر عملبھی کیا جائیگا اور میں اپنی بات کی نفی بھی کرسکتا ہوں۔ در حقیقت ایسے رویے نہ صرف اداروں میں بھگاڑ کا سبب بنتے ہیں بلکہلوگ اداروں کو رویوں کو سنجیدہ لینے کے بجائے ایسے اداروں اور رویوں سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں جس سے ادارے کو طویل سفرمیں کافی نقصان اٹھانا پِڑ سکتا ہے۔

ایسے مسائل اور رویوں کی روک تھام کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ حقیقی رہنما انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے اداروں کو مکمل ضابطہ اخلاقکے ماتحت رکھتے ہوئے کسی بھی ایسے عمل سے قبل جو اجتماعی قومی مفادات کی ترجمانی سے متعلق ہوں یا ایسے مسائل جواداروں کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتے ہوں ان سے قبل احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے پہلے ایسے مسائل پر سیر حاصل بحث کرتےہوئے اکثریتی رائے سے ایسے فیصلے کئے جائیں جن کے لئے پھر جائز جواز بھی موجود ہوسکیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹمیڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں