ہرنائی میں فوجی آپریشن، گھر نذر آتش

358

بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں پاکستان فوج کی آپریشن جاری ہے جہاں پشتون قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد کے گھروں کو نذر کردیا گیا ہے۔

ٹی بی پی کو ذرائع نے بتایا کہ آج صبح پاکستان فوج کے پیدل دستوں نے کھوسٹ کے نواحی علاقوں زردآلو اور تور ڈبر کے علاقوں میں پیش قدمی کی۔ فورسز نے مذکورہ علاقوں کو جانے والے راستوں کی مختلف مقامات پر ناکہ بندی کی ہیں۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ فورسز نے پشتون قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد کے گھروں کو بھی نذر آتش کردیا ہے جن میں متو دمڑ اور فتح دمڑ کے گھر شامل ہیں۔ خیال رہے متو دمڑ کا ایک بیٹا تین سال قبل فوجی آپریشن میں قتل کیا گیا تھا۔

آپریشن میں کسی قسم کی گرفتاری یا جانی نقصانات کے حوالے سے تاحال اطلاعات موصول نہیں ہوسکی ہے۔

خیال رہے گذشتہ روز کوئٹہ کے نواحی علاقے زرغون میں آپریشن کی گئی جس میں گن شپ ہیلی کاپٹروں نے مختلف مقامات پر بمباری و شیلنگ کی۔ زرغون میں رواں سال اپریل میں بھی فوجی آپریشن کی گئی جس میں پشتون قبائل سے تعلق رکھنے والے نو افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کیا گیا تھا۔

دوسری جانب ہرنائی کھوسٹ واقعے کیخلاف آج 28ویں روز بھی احتجاجی دھرنا جاری ہے۔ آج بلوچستان عوامی پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و صوبائی وزیر نور محمد دمڑ  نے دھرنا مظاہرین سے ملاقات کی۔

نور محمد دمڑ نے دعویٰ کیا کہ حکومت بلوچستان واقعے کے تمام پہلوؤں سے جائزہ لے رہی ہیں اور واقعے میں ملوث فوجی اہلکاروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے واقعہ کا سنجیدگی سے نوٹس لیا اور دھرنا کمیٹی سے وزیراعلیٰ کی جانب سے تشکیل کردہ صوبائی وزراء اور دیگر حکام پر مشتمل کمیٹی نے بار بار ملاقاتیں بھی کی ہے اور دھرنا ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ مطالبات حل کرنے کےلئے کوشاں ہے۔

خیال رہے 14 اگست کی رات پاکستان فوج کی جانب سے کھوسٹ کے آبادی پر فائرنگ سے دو افراد زخمی ہوئے تھے جس کے خلاف صبح علاقہ مکین مظاہرہ کررہے تھے کہ ایک بار پھر فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس سے ایک شخص جانبحق اور مزید تین افراد زخمی ہوگئے۔

مظاہرین کے مطالبات میں فورسز کا علاقے سے انخلاء شامل ہے جبکہ اسی نوعیت کے واقعے کے بعد ہنہ اوڑک کے علاقہ مکین بھی فورسز کے انخلاء کا مطالبہ کررہے ہیں۔