کوئٹہ جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری

36

بلوچستان سے جبری گمشدگیوں کے خلاف کوئٹہ میں جاری طویل بھوک ہڑتالی کیمپ کو آج 4767، دن مکمل ہوگئے جہاں نوشکی سے امیر محمد بلوچ داد محمد بلوچ و دیگر سیاسی و سماجی کارکنان نے کیمپ شرکت کرتے ہوئے لواحقین سے اظہار یکجتی کی-

کیمپ آئے وفد سے گفتگو میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا جیسے ہی جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کی جدوجہد متحرک اور منظم ہو رہا ہے اسی تسلسل کے ساتھ ریاست پاکستان کی بربریت کے نئے ہتھکنڈوں میں اضافہ دیکھنے کو آرہا ہے 73 سالوں سے جاری قبضہ کے خلاف پرشگاف نعروں کے ساتھ عملی جدو جہد کو گھر گھر پہنچانے کے جس سلسلے کی پاداش میں ہزاروں رہنماؤں اور ورکروں کو جبری لاپتہ اور شہید کیا گیا یہ سلسلہ جاری ہے ہزاروں خیر خواہ آج بھی ریاستی زندانوں میں تاریخ ساز تشدد کے شکار ہیں-

ماما قدیر بلوچ نے کہا ہزاروں بلوچ کارکنوں کے گھروں کو جلایا گیا لوٹ مار کی گئی اور خواتین بچوں کی حرمت کو تار تار کیا گیا وی بی ایم پی تنظیم کو اس بات کا ادراک بخوبی ہے کہ ریاست کی جانب سے اس سلسلے میں کمی نہیں آئے گی اور اپنی قبضہ کو برقرار رکھنے کے لیے وہ بلوچ قوم کی سلو جینو ساہیڈ میں تیزی لائیگی لیکن بلوچ رہنماؤں کارکنوں کے قدموں میں قابض کی تمام کی تمام بربریت کے باوجود لرزش نہیں آئی-

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ افراد کے بجائے تنظیم کو مضبوط کرکے اداروں کی تشکیل کا ذمہ بلوچ قوم کے سامنے ہے ریاستی جبر جبری اغواء شہادتوں میں ہر روز تیزی کا سلسلہ جاری ہے یہ عمل قابض مقبوضہ کے درمیان معمولی امر لگتی ہے لیکن بلوچیت کے دعویدار جو آج پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں یا ریاستی قبضہ کا حصہ ہیں ان کے لیے سوچنے کا مقام ہے پاکستان اس کی فوج کو بلوچ ننگ و ناموس بلوچ سے کوئی سرو کار نہیں وہ تو صرف بلوچ زمین اس کی وسائل کا طلب گار ہے-

ماما قدیر بلوچ کا مزید کہنا تھا غلامی کی یہ سفر جتنی لمبی ہوتی جائیگی اس طرح بلوچ ماں بہن کی ننگ ناموس کا کہلواڑ یہ ریاست کرتا رہے گا آج بلوچ قوم نے جس بہادری کے ساتھ اپنی پرامن جدوجہد کو ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچا دیا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام مکاتب فکر کے لوگ اپنی ننگ ناموس لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے دشمن کی تمام چالوں کا ادراک کرتے ہوئے پرامن جد وجہد میں اپنا کردار ادا کریں دشمن کی چالوں میں نہ آئے-