ٹی ٹی پی کے دفاعی حملے، تین پولیس اہلکار ہلاک

182

خیبرپختونخوا میں ایک دفعہ پھر پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے جہاں گذشتہ تین روز کے دوران اے ایس آئی سمیت تین پولیس اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔

تحریک طالبان نے مذکورہ تین حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہیں دفاعی حملے قرار دیا ہے۔ ٹی ٹی پی ترجمان نے محمد خراسانی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘2 ستمبر کو مجاہدین نے ڈیرہ اسمٰعیل خان کے علاقہ چوھدوان شالم موڑ پر اپنے دفاع میں ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کردیا جبکہ 3 ستمبر کو پشاور میں تھانہ ریگی ماڈل ٹاؤن کی حدود میں مجاہدین پر اچانک پولیس کی طرف سے ناکہ لگایا گیا جس کے جواب میں مجاہدین نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایک پولیس اہلکار کو ہلاک اور (SHO)  سمیت تین دیگر اہلکاروں کو زخمی کردیا۔’

ترجمان نے آج بروز 4 ستمبر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘ولایت بنوں کے علاقے لکی مروت میں تحریک طالبان پاکستان کے مجاہدین پر چھاپے کی نیت سے آنے والے پولیس اہلکاروں پر مجاہدین نے اپنے دفاع میں جوابی حملہ کیا جس کے نتیجے میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر سمیت دو اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ ساتھی محفوظ رہے۔’

محمد خراسانی نے کہا کہ ‘حملے میں مجاہدین نے ایک کلاشنکوف بھی غنیمت کے طور پر حاصل کی۔’

مذکورہ کاروائیاں تحریک طالبان پاکستان اور حکومت پاکستان کے درمیان جاری مذاکرات کے تحت جنگ بندی کے تین مہینے بعد سامنے آئی ہیں تاہم بعض صحافی ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی نے واضح کیا ہے کہ افغان طالبان کی ثالثی میں جنگ بندی پر قائم ہیں۔

قبل ازیں 22 اگست کو ایک بیان میں محمد خراسانی نے کہا کہ ‘شمالی وزیرستان کے علاقے سپین وام میں ناپاک فوج نے رواں مذاکراتی عمل کے نتیجے میں ہونے والی فائربندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہمارے ساتھیوں پر چھاپہ مارا اور ہمارے دو ساتھیوں کو شہید کیا’

انہوں نے کہا  کہ ‘ہم بارہا وضاحت کرچکے ہیں کہ ہم نے فائر بندی کا احترام کیا ہے اور فوج مسلسل خلاف ورزی کرتی آرہی ہے۔ اگر آئندہ ایسی کوئی کارروائی کی گئی تو اس کے نتائج کی ذمہ داری فوج پر عائد ہوگی۔’