ورلڈ سندھی کانگریس کا یو این انسانی حقوق کونسل کے سامنے احتجاج

86

ورلڈ سندھی کانگریس کی جانب سے 22 ستمبر 2022 کو جنیوا میں  اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے دفتر کے سامنےاحتجاجی مظاہرہ کیا گیا، احتجاج میں بلوچستان و کشمیر کے جلاوطن رہنماؤں اور یورپ کے مختلف ممالک سے انسانی حقوق کےارکان نے شرکت کی۔

جنیوا مظاہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، مذہبی اقلیتوں پر ظلم و ستم، لوٹ مار وسائل پر قبضہکے ذریعے سندھی، بلوچ، کشمیری اور پشتون عوام کے خلاف گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کرتا رہا ہے۔

مظاہرین سے گفتگو میں ورلڈ سندھی کانگریس رہنماؤں کا کہنا تھا کہ آج سندھ سیلاب سے اپنی ہزاروں سال کی تاریخ میں بدترینتباہی کا سامنا کر رہا ہے جس سے دو کروڑ سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں، اور ایک کروڑ سے زیادہ بے گھر ہوگئے ہیں جب کہ پاکستاناور اسکے حکمران غلط بیانی کررہے ہیں کہ یہ تباہی کسی موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے

سندھی رہنماؤں کا کہنا تھا حقیقت تو یہ ہے کہ سیلاب اور موسمیاتی تباہی کی روک تھام ممکن تھی پانی کی ذخیرہ اندوز اورطریقوں کی مسلسل بدانتظامی اور موجودہ تباہی میں منظم مجرمانہ کارروائیوں کے نتیجے میں بہت بڑا انسانی المیہ پیدا ہوا پاکستاناس تباہی سے دنیا سے پیسے بٹور کر مظلوم اقوام کے خلاف استعمال کررہا ہے

مظاہرین کا کہنا تھا حکومت پاکستان لاکھوں متاثر سندھی افراد کو کوئی مدد فراہم کرنے سے مکمل طور پر قاصر ہے

ورلڈ سندھی کانگریس کے رہنماؤں نے اس موقع پر سیکرٹری جنرل کو ایک میمورنڈم پیش کیا گیا جس میں اقوام متحدہ اور عالمیبرادری سے درخواست کی گئی کہ وہ سیلاب کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دیں کہ پاکستان کو سندھی لوگوں کی نسلکشی سے روکا جائے اور سیلاب سے تباہ شدہ سندھیوں کی امداد اور بحالی کا مطالبہ شامل تھا