ریاست کی جانب سے لاپتہ بلوچوں کے لاشوں کا پھینکے کا سلسلہ جاری ہے۔ ماما قدیر بلوچ

52

وائس فار بلوچ مِسنگ پرسنز کےبھوک ہڑتال کیمپ کو 4769 دن ہوگئے، سیاسی سماجی کارکنان میر بیگ، ظفر بلوچ، داد محمد بلوچ اور دیگر سیاسی لوگوں نے آکر اظہار یکجہتی کی۔

وی بی ایم پی کے وائس چیرمین ماماقدیر نے کہا کہ بلوچ جدوجہدکرنے والوں کو جبری طور پر اغواء کرنا انسانیت سوز تشدد زدہ لاشوں کے پھینکنے کے باوجود بلوچ جدوجہد کے ِختم نہ ہونے کے بعد قابض اپنی کاونٹر انسرجنسی کے پالسیوں کو مسلسل مختلف طریقوں سے استعمال کرتا آرہا ہے لیکن بلوچ قومی شہیدوں اور جہدکاروں کی عظیم قربانیوں نے سامراجی ہر ایک عمل کو ناکام بنا دیا ہے استعمار کی پیدا کردہ گماشتے بلوچ قومی بقا کے جدوجہد کو اقوام عالم کے سامنے جبری لاپتہ افراد کا مسئلہ احساس محرومی اور معاشرتی پسماندگی قرار دے کر بلوچ قومی مفادات کو نقصان پہنچا کر سامراج بربریت اور حربوں سے قومی جدوجہد ختم کرنا چاہتے ہیں۔

ماما قدیربلوچ نے کہا کہ ریاست کی جانب سے لاپتہ بلوچوں کی لاشوں کا پھینکے کا سلسلہ جاری ہے جبری لاپتہ افراد کے حوالے سے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اقوام متحدہ ، یورپی یونین سمیت دیگر تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ 5500 ہزار سے جبری لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔