ایرو اونوڈا ۔ سفرخان بلوچ( آسگال)

198

ایرو اونوڈا

تحریر: سفرخان بلوچ( آسگال)

دی بلوچستان پوسٹ

جنگ عظیم دوئم کو ختم ہوئے انتیس سال مکمل ہوچکے تھے، جاپان ایٹمی دھماکوں اور سرنڈر کے بعد ترقی بھی کر چکا تھا، ایک نئی نسل جوان ہوچکی تھی۔ لیکن انتیس سال بعد جاپان میں جنگ عظیم دوئم کے دوران فوجی خدمات سرانجام دینے والے ایک فوجی آفیسر کو جاپان کے گلیوں میں جاپانی فوج ڈھونڈ رہی تھی، بالآخر معلوم ہوا کہ اب وہ کتابوں کی ایک اسٹال پہ کام کرتا ہے۔

اس کہانی کی شروعات جنگ عظیم دوئم کے دوران 1944 کو ہوتی ہے۔ جب جنگ عظیم دوئم چل رہا تھا، ایک جاپانی فوجی لیفٹنٹ ایرو اونوڈا کو فلپائن کے لوبینگ نامی جزیرہ پہ بھیجا جاتا ہے، اس کو ذمہ داری دی جاتی ہے کہ وہ گوریلہ حکمت عملی اپنا کر دشمن پہ حملہ آور ہو۔ اس کے وہاں جانے کے ایک سال بعد جنگ ختم ہوجاتا ہے، جاپان دو ایٹمی دھماکوں کے بعد سرنڈر کرچکا ہوتا ہے، مگر ایرو اونوڈا کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ جنگ ختم ہوچکی ہے۔ وہ انتیس سالوں تک جنگلوں میں چھپ چھپ کر اپنی پوزیشن پر یہ سوچ کر کھڑا رہتا ہے کہ اب بھی جنگ چل رہی ہے اور ملک کو اس کی ضرورت ہے۔

ایرو اونوڈا ابتداء میں ایک جاپانی کمپنی میں کام کررہا تھا، جب وہ بیس سال کا تھا، اس کے لئے فوج سے بلاو آگیا۔ اس نے اپنی نوکری چھوڑ کر فوج میں بھرتی ہوگیا۔ فوج میں اس کو ایک خفیہ مشن کے لئے چنا گیا اور اسے ناکانوں اسکول نامی ایک فوجی ٹرینٹگ سنٹر میں ٹرینگ دی گئی کہ گوریلہ جنگ کس طرح لڑی جاتی ہے، اور دشمن کے درمیان پھنس کر مہینوں تک کیسے زندہ رہ سکتے ہیں،اور جنگلوں میں رہ کر کسطرح دشمن کے خلاف معلومات اکھٹا کیا جاسکتا ہے پھر وقت آنے پہ دشمن کو کسطرح مارا جاتا ہے۔

دسمبر انیس سو چوالیس کو اسے فلپائن کے جزیرہ لوبانگ جانے کا حکم دیا گیا، اس کے کمانڈر میجر یوشمی تنیگوچی نے اس کو سختی سے حکم دیا تھا کہ جس مشن پہ اس کو بھیجا جارہا ہے، اس میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ لیکن اسے ہرحال میں دشمن سے متعلق معلومات یکجاہ کرنا ہے اور زندہ رہنا ہے، اس سے وعدہ کیا گیا تھا کہ جب جنگ ختم ہوگی تو جاپانی فوج ان کو لینے وہاں ضرور آئیں گے۔

وہاں پہنچ کر ایرو اونوڈا نے پہلے سے موجود فوجی پارٹی کو جوائن کیا، اس کے کچھ روز بعد دشمن نے جاپانیوں پہ حملہ کیا، مگر جاپانیوں نے ان فوجیوں کو ماردیا۔ اس کے بعد اسطرح کے حملوں سے بچنے کے لئے جاپانیوں نے اپنے فوجیوں کو چار چار کے گروہوں میں تقسیم کرکے جنگل میں پھیلا دیا، کئی گروہوں کو دشمنوں نے بعد میں ڈھونڈ نکالا، کئی مارے گئے اور کئی سرنڈر ہوئے مگر ایرو اونوڈا کے گروہ کو وہ ڈھونڈ نہیں سکے۔ کھانے کی کمی کی وجہ سے وہ جنگل میں گھاس پھوس اور دیگر جنگلی خوراک پر منحصر رہے۔ کبھی کبھار نزدیکی گاووں میں لوٹ مار بھی مچاتے تھے، اس طرح وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کئی مہینوں تک جنگل میں چھپ کر رہنے میں کامیاب ہوچکا تھا۔

جب جنگ عظیم ختم ہوگئی اور ایک دن ایرو اونوڈا کسی گاوں میں لوگوں کو ڈرانے کے لئے پہنچا، تو وہاں موجود لوگوں نے انہیں کہا جنگ تو اگست انیس سو پینتالیس کو ختم ہوچکی ہے، اور جاپان نے دو ایٹمی دھماکوں کے بعد سرنڈر کردیا ہے، یہ بات سن کر انہوں نے اپنے ساتھیوں سے ڈسکس کی اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ دشمن کی چال ہے، ایسا ہو ہی نہیں سکتا، دنیا میں ایسی کوئی بم وجود ہی نہیں رکھتا جو اتنی تباہی مچائے اور جاپان امریکہ کے سامنے سرنڈر کردے۔

ایرو اونوڈا نے اپنے ساتھیوں سے ملکر اپنا کام جاری رکھا، کھانے کے لئے گاوں والوں کو لوٹتے تھے اور کبھی کبھار گاوں والوں کی مزاحمت پر انہیں مار بھی دیتے تھے، اور جب بھی فوجیوں کو دیکھتے تو انہیں بھی مارتے رہے، انہیں اب بھی لگ رہا تھا کہ جنگ جاری ہے۔

ان حملوں سے گاوں والے تنگ آچکے تھے، انہوں نے سرکار سے کہا کہ کچھ کریں تو سرکار نے ایک دن جہازوں کے ذریعے پورے جنگل میں پرچیاں پھینک دیں، جن پہ درج تھا کہ جنگ اب ختم ہوچکی ہے، آپ لوگ سرنڈر کرکے اپنے ملک واپس جاسکتے ہیں۔ ان پرچیوں پہ یہ بھی درج تھا کہ یہ حکم جنرل یاشی ماٹا کی طرف سے ہے۔ یہ بات ایرو اونوڈا اور انکے ساتھیوں کے پلے نہیں پڑا کہ جاپان ہار کیسے گیا؟ انہوں نے یہ بات اپنے ذہن میں رکھ لیا تھا کہ جنگ ابھی بھی جاری ہے اور جیت جاپان کی ہی ہوگی اور یہ جو کچھ ہورہا ہے، یہ سب دشمن کی چال ہے تاکہ وہ ہمیں جنگل سے باہر نکال دیں، فلپائنی حکومت ان لوگوں سے تنگ آچکا تھا۔ وہ لاؤڈ اسپیکر سے اعلان کرتے، جاپانی اخبارات جنگل میں پھینک دیتے تھے مگر وہ یہ کہہ کر بات کو ٹال دیتے تھے کہ یہ سب دشمن کی چال ہے، جنگ ابھی بھی جاری ہے اور جیت جاپان کی ہوگی اور جب جنگ ختم ہوگا وعدےکے مطابق جاپانی فوج ہمیں لینے کے لئے خود آئے گی۔

سال گذرتے گئے، لوگوں کے رہن سہن میں بہت زیادہ تبدیلی آچکی تھی، علاقے میں فوجیوں کی آمدو رفت بھی نہ ہونے کے برابر رہا، گاوں والے آزاد گھوم رہے تھے اور جب وہ گاوں پہنچتے لوٹ مار کرنے کے لئے اور گولیاں چلاتے تو فوجی اہلکار فورا پہنچ جاتے اور وہ بھاگ جاتے تھے، اس لیئے انہیں پھر سے یقین ہوتا یہ سب دشمن کی چال ہے جنگ ابھی بھی جاری ہے۔

پانچ سال بعد ان میں سے ایک سپاہی نے سرنڈر کرنے کا من بنالیا اور وہ ان سے چھپ کر جنگل سے نکل آیا اور اس نے سرنڈر کرلیا اس کے بعد ایرو اونوڈا اور اس کے ساتھیوں نے اپنے تمام منصوبے تبدیل کئے اور اپنی جگہ کو چھوڑ کر مزید گھنے جنگل کے اندر چلے گئے، وہ جانتے تھے کہ دشمن ان کے ساتھی کے ذریعے ان کا سراغ لگادے گا۔

مزید پانچ سال بعد، ان میں سے ایک اور ساتھی مارا گیا لیکن باقی دو ابھی بھی موجود تھے اور وہ ابھی بھی جنگ کے لئے تیار تھے، وہ اب بھی یہ مان رہے تھے کہ جنگ چل رہا، کیونکہ انہیں یہی تو کہا گیا تھا جو بھی ہوجائے زندہ رہنا ہے اور جنگ ختم ہونے کے بعد جاپانی فوجیوں کا انتظار کرنا اور یہی وہ کررہے تھے۔

جنگ کے ستائیس سال بعد اکتوبر1972 کو ایرو اونوڈا کے آخری ساتھی کو فلپائن کے فوجیوں نے مار دیا، اور جب اس کی لاش کو جاپان بھیجا گیا تو جاپانی افواج حیران ہوکر رہ گئے، کیونکہ وہ یقین کرچکے تھے کہ اب کوئی جاپانی فوجی زندہ نہیں ہے۔ جاپانی فوج کو معلوم ہوگیا کہ دوران جنگ بچنے والوں میں صرف ایرو اونوڈا ہی ایک اکیلا سپاہی ہے جو زندہ ہے، اس کے بعد جاپان نے خفیہ مشن پہ جاپانی افواج کو فلپائن بھیجا مگر ایرو اونوڈا اب چھپنے میں ماہر ہوچکا تھا، بدقستمی سے جاپانی فوجی بھی کو اس ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب نہیں ہوا اور خالی ہاتھ واپس جاپان پہنچ گئے۔

اس کے دو سال بعد 1974 کو ایک جاپانی شہری نے ورلڈ ٹور کا منصوبہ بنایا اور اس نے ایرو اونوڈا کو ڈھونڈنے کا پروگرام بنایا،اور وہ وہاں پہنچ گیا۔ انتیس سال جو لوگ نہیں کرسکے، وہ ایک عام جاپانی شہری نے کردکھایا۔ جس کا نام سوزکی تھا۔

اس نے ایرو اونوڈا کو بتایا کہ جنگ عظیم کب کا ختم ہوچکا ہے اور جاپان نے کس طرح سرنڈر کیا اور ناگاساکی اور یوروشیما پہ کس طرح ایٹمی دھماکے ہوئے، اور اس نے کہا کہ اب گھر چلیں اور آپ ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جو ہاری ہوئی ہے اور ختم ہوچکی ہے۔ آپ ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جسکا کوئی وجود ہی باقی نہیں رہا، مگر پھر بھی وہ یہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھا کیونکہ اس کے کمانڈر نے کہا تھا کہ جنگ ختم ہوتے ہی اس کو لینے جاپانی فوجی آئینگے اور جو بھی ہو اس کو زندہ رہنا ہے، اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ان سالوں میں انہوں نے کئی فلپائنی لوگوں کو مار دیا تھا اور کئی کو زخمی کیا تھا اب وہ اس کو یہاں سے جاننے نہیں دیں گے۔

یہ سب سن کر سوزکی واپس جاپان چلا گیا اور جاپانی فوج کو سب کچھ بتا دیا اور اس کے بعد جاپانی فوج نے جنگ عظیم کے دوران اس کے آفیسر کو ڈھونڈنا شروع کیا، جو اس وقت ریٹائر ہوچکا تھا اور ایک بک اسٹال پہ کام کررہا تھا، جب اس کو ڈھونڈا گیا اور سب کچھ بتایا گیا پھر وہی سابق فوجی آفیسر فلپائن میں ایرو اونوڈا کے پاس گیا اور سب کچھ اس کو بتادیا، یہ سب سن کر ایرو اونوڈا صدمے میں چلا گیا۔ اب بھی اس کو یہ یقین نہیں آرہا تھا کہ جاپان جنگ ہارسکتا ہے، اور وہ تیس سالوں تک ایک ایسا جنگ لڑ رہا تھا جس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ اس کے علاوہ اس نے شک کے بنا پر پتہ نہیں کتنے عام لوگوں کو ماردیا تھا، یہ بات اس پہ بجلی بن کر گرا کہ جاپان نے دو شہروں میں تقریبا پانچ لاکھ لوگوں کی ہلاکت کے بعد سرنڈر کیا تھا، جلد ہی ایرو اونوڈا نے یہ بات تسلیم کر ہی لیا کہ اب جنگ ختم ہوچکی ہے اور وہ زندگی جو وہ جی رہا تھا اب وہ نہیں رہا۔

دس مارچ 1975 کو باون سال کی عمر میں ایرو اونوڈا اپنے جس وردی میں جنگل گیا واپس اسی میں نکل آیا اور انہوں نے خود کو فلپائنی حکومت کے سامنے پیش کیا، اور اپنی تلوار فلپائن کے صدر کے حوالے کیا، اس کے بعد فلپائن کے کئی لوگوں نے یہ مطالبہ کیا کہ ایرو اونوڈا کو اس کے کئے کی سزا دی جائے مگر صدر نے یہ کہہ کر اس کو معاف کیا کہ ،،اسے لگ رہا تھا کہ اب بھی جنگ چل رہی ہے، اس کو کچھ معلوم ہی نہیں تھا، اس نے جو کچھ کیا وہ سب انجانے میں کیا،،۔

اس کے بعد وہ جاپان چلا گیا، ائیرپورٹ پہ اس کا شاندار استقبال کیا گیا، جاپانیوں نے اس کو ایک ہیرو کے طور پر پیش کیا،اور تیس سالوں تک اپنے ملک کے لئے لڑنے کے لئے انعام دیا گیا۔ جب وہ وہاں پہنچا تو اس نے ایک نیا جاپان دیکھا، جاپان اب ترقی کے نئے سیڑھوں پہ چڑھ رہا تھا جو جاپان اس نے دیکھا تھا اب وہ جاپان مکمل بدل چکا تھا اور جس جاپان کو وہ جانتا تھا وہ جاپان اس ترقی یافتہ جاپان میں کہیں کھو چکا تھا۔ اب اس کے لئے یہ وہ جاپان نہیں رہا، اس نے اس کے بعد جاپان کو چھوڑ دیا اور برازیل چلا گیا اور وہاں اس نے شادی کرلی اور 1996 کو پھر فلپائن چلا گیا اور گاوں والوں کو اپنے کمائے ہوئے پیسوں سے دس ہزار ڈالر دیا۔

اس کے بعد انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی جس کا نام ہے,, no surrender my thirty year war,, سترہ جنوری دوہزار چودہ کو 91سال کی عمر میں وہ عظیم ہستی اس جہاں سے کوچ کرگیا۔

،،اس نے جاتے جاتے لکھا کہ انسان کو کبھی ہار نہیں ماننا چاہیے میں نے کبھی ہار نہیں مانا مجھے ہار ماننے سے نفرت ہے،،۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں