ایران: مہسا امینی موت، پولیس و مظاہرین میں جھڑپیں، 50 افراد ہلاک

139

ایران میں حجاب نہ کرنے پر زیرحراست لڑکی مہسا امینی کی موت کے بعد جاری ہنگاموں میں مرنے والوں کی تعداد 50 ہوگئی۔

پولیس کے کریک ڈاؤن اور پرتشدد واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 50 ہوگئی ہیں، ہلاک ہونے والوں میں 5، سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔

سات روز سے جاری مظاہروں کے دوران مختلف شہروں میں انٹرنیٹ سروس بند ہے اور تشدد سے زیادہ متاثر علاقوں میں سیکورٹی اہلکاروں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے مہسا امینی کی موت کی وجوہات جاننے کے لئے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

ایرانی پولیس نے 22 سالہ مہسا امینی کو حجاب نہ کرنے پر حراست میں لیا تھا اور تین دن بعد طبیعت خراب ہونے پر اسپتال منتقل کیا جہاں وہ 16 ستمبر کو انتقال کرگئی، ایرانی پولیس نے مہسا امینی پر تشدد کرنے کا الزام مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مہسا امینی کو دل کا دورہ پڑنے کے باعث اسپتال منتقل کیا تھا جہاں وہ جانبر نا ہوسکی-

ایران میں پولیس کی حراست میں لڑکی کی ہلاکت پر مختلف علاقوں میں احتجاج جاری ہے جس کے دوران سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب انسانی حقوق کے اداروں نے ایرانی حکومت پر مظاہرین کے خلاف پرتشدد کاروائیوں کو روکنے کے لئے زور دیا ہے سی ایچ آر آئی نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت کی جانب سے احتجاج پر گولیوں اور آنسو گیس کے ذریعے ردعمل ظاہر کیا جارہا ہے۔

ایران کے سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق مختلف شہروں میں مظاہرین کی جانب سے سکیورٹی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جارہا ہے اور پولیس کی گاڑیوں کو نذر آتش کیا جارہا ہے۔

مظاہرین کا الزام ہے کہ پولیس نے 22 سالہ مھسا امینی کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس پر وہ کومہ میں چلے جانے کے بعد دوران علاج زندگی کی بازی ہار گئی تھی۔

واضع رہے مہسا امینی کی موت اخلاقی پولیس کی حراست میں کوما میں جانے کے بعد ہوئی، یہ پولیس ایران میں سخت قوانین نافذ کرتی ہیں جن کے تحت خواتین کو اپنے بال ڈھانپنے اور عوامی مقامات پر ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہننا لازم ہوتا ہے ان کی موت کے بعد کردستان میں شروع ہونے والے مظاہرے پیر اور منگل کو شمال مغربی ایران کے دیگر صوبوں تک بھی پھیل گئی ہے-