کوئٹہ لواحقین دھرنا: زہرہ بلوچ پر حملے کے خلاف مظاہرہ

123

کوئٹہ میں جبری گمشدگیوں کے خلاف لاپتہ افراد کے لواحقین کا دھرنا جاری، شرکاء نے بلوچ خاتون پر قاتلانہ حملے کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کیا۔

لاپتہ افراد کے لواحقین گذشتہ پندرہ روز سے کوئٹہ میں گورنر بلوچستان کے گھر کے سامنے دھرنا دیئے ہوئے ہیں۔ لاپتہ افراد کے لواحقین زیارت واقعے کی شفاف تحقیقات، لاپتہ پیاروں کی بازیابی و جعلی مقابلوں کی روک تھام کا مطالبہ کررہے ہیں۔

کوئٹہ دھرنے کے شرکاء نے سابق بلوچ طالبعلم رہنماء رضا جہانگیر کی اہلیہ پر قاتلانہ حملے کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کیا جبکہ واقعے کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی نے پریس کانفرنس کی۔

صحافیوں سے گفتگوں میں مظاہرین نے کہا بلوچستان میں گذشتہ دو دہائیوں سے آگ اور خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے جس کے شر سے اب تک شاید کوئی گھر محفوظ رہا ہو۔ سیلاب سے آج بلوچستان زخمی ہے، زیارت واقعے پر اب تک متاثرین انصاف کے منتظر ہیں مگر ان کو حل کرنے کے بجائے گذشتہ دنوں زہرہ بلوچ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا جس میں وہ خوش نصیبی سے محفوظ تو رہی مگر حملے سے یہ واضح ہوا کہ اجتماعی سزا کے تحت متاثرہ خاندانوں کو نشانہ بنانے کا عمل جاری ہے جو انتہائی تشویشناک اور لمحہ فکریہ ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کوئٹہ کے رہنماؤں کا کہنا تھا بلوچستان میں اجتماعی سزا کے طور پر اب تک متعدد خاندانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے گذشتہ روز زہرہ بلوچ پر قاتلانہ حملہ اسی سلسلے کا تسلسل ہے۔

دھرنے کے مقام سے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے مظاہرین کا کہنا تھا کہ زہرہ بلوچ کی خاندان گذشتہ کئی سالوں سے اجتماعی سزا کا سامنا کررہی ہے جس میں ان کے خاندان کو شدید جانی و مالی نقصانات کا سامنا رہا ہے اور یہ عمل اب تک ان کے خلاف جاری ہے اجتماعی سزا ایک جنگی جرم ہے اور ایسے گھناونے عمل کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے مگر نام نہاد سیکورٹی کے نام پر بلوچستان میں سیکورٹی فورسز اور مسلح جتھوں کو بے پناہ طاقت اور اختیار مہیا کیا گیا ہے جو بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے ساتھ یہاں کے سیاسی و سماجی روایات کو بھی پاؤں تلے روند رہے ہیں۔

انہوں نے کہا زہرہ پر قاتلانہ حملہ اجتماعی سزا کے نئے تسلسل کا آغاز ہوسکتا ہے مگر تمام اداروں پر یہ واضح ہو کہ ایسے بزدلانہ اقدام سے وہ مذموم مقاصد حاصل نہیں کرسکتے ہیں بلکہ ایسے گھناؤنے عمل کے خلاف لوگ مزید شدت کے ساتھ ابھریں گے۔

شرکاء کا کہنا تھا حملہ آوروں کو شاید اس بات کا علم نہیں کہ بلوچ سماج خواتین کے معاملے میں انتہائی حساس ہے خواتین پر ایسے قاتلانہ حملے کو بلوچ سماج اپنے وجود پر حملہ تصور کرتا ہے بلوچ خواتین پر حملے جیسے بزدلانہ اور انسانیت سوز اقدامات سے بلوچستان میں جاری آگ کو مزید ایندھن فراہم ہوگا اور اس کے نتائج ہمیشہ کی طرح یقیناً انتہائی خطرناک ہونگے۔ شہید کریمہ بلوچ کی کینیڈا میں شہادت کے خلاف جس طرح کا ردعمل بلوچستان میں دیکھا گیا اس سے حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا اس پریس کانفرنس کی توسط سے بلوچستان بھر کے سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں، وکلاء برادری، طلباء تنظیموں اور زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ آیا وہ آج بھی اس واقعے پر ہمیشہ کی طرح خاموش رہینگے یا مذمتی بیانات کے علاوہ عملی اقدامات بھی اٹھائیں گے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کوئٹہ کے رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ آج سیاسی طور پر متاثرہ افراد کے خاندانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اگر اس کے خلاف شدت سے مزاحمت نہیں کی گئی تو وہ وقت دور نہیں جب خواتین کو نشانہ بنانے کا عمل سیاسی طور پر متحرک خاندانوں سے نکل کر عام تک پہنچ جائے گا۔