کوئٹہ: لاپتہ افراد لواحقین کا تادم بھوک ہڑتال کا عندیہ

98

کوئٹہ میں زیارت واقعے کے خلاف اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے دھرنا جاری، آج لواحقین کی جانب سے ریلی نگالی گئی۔

لاپتہ افراد کے لواحقین کا دھرنا گذشتہ 23 روز سے جاری ہے جہاں دھرنے کی شرکاء نے بولان میڈیکل کالج سے گونر ہاؤس تک احتجاجی ریلی نکالی، ریلی میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی بڑی تعداد شامل تھی جبکہ طلباء تنظمیوں و سیاسی کارکنان نے بھی احتجاجی ریلی میں شرکت کی۔

مظاہرے میں شریک لاپتہ افراد کے لواحقین نے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت اور اداروں کو عندیہ دیا ہے کہ اگر احتجاج کے باوجود انکے مطالبات پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا ہے، حکام لواحقین سے سنجیدہ مزاکرات نہیں کرتے ہیں تو لواحقین اگلے احتجاجی مرحلے میں تادم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کرینگے۔

مظاہرے سے گفتگو کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ ایک طویل عرصے سے جاری ہے۔ ہم نے ہمیشہ پرامن طریقے سے بے گناہ شہریوں کی غیرقانونی حراست و جبری گمشدگیوں کی مخالفت کرتے ہوئے لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے لیکن احتجاج کے بدلے ہمیشہ ہمیں انتقام کا نشانہ بنایا گیا، کبھی ہمیں دہشت گرد کہتے ہیں تو کبھی الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ہم دوسروں کے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال ہورہے ہیں البتہ یہاں حکمران خود کو بے اختیار محسوس کرتے ہوئے لواحقین پر الزام تراشی کرتے ہیں۔

مقررین کا کہنا تھا کہ ہم یہاں کوئی اور مطالبہ نہیں کررہے ہیں بلکہ ہمارے پیارے جو ہمارے سامنے ریاستی اداروں نے حراست میں لیکر لاپتہ کیا ہے انھیں بازیاب کیا جائے، یہ دعویٰ جھوٹا ہے کہ وہ پہاڑوں میں ہیں یا بیرونی ملک فرار ہوئے بلکہ ہمارے پیارے ریاست کے قید میں ہیں۔

لواحقین کا کہنا تھا کہ ہمارے درد کو سیاسی مقاصد سمجھنے کے بجائے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر محسوس کیا جائے، ہمیں ہمارے پیارے لوٹا دیں اگر انکی بازیابی ممکن نہیں ان پر کوئی الزام ہے تو اسے اپنے عدالتوں میں پیش کرکے وہ الزامات ظاہر کریں بجائے اسکے کسی کو سالا سال لاپتہ رکھ کر اسکے ساتھ اسکے خاندان والوں کو بھی اذیت دی جائے۔

لواحقین کا کہنا تھا کہ ریاست کے ایسے اقدام یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اسے اپنی ہی عدالت اور قانون پر باور نہیں، شہریوں کو حراست میں لیکر اپنے قید خانوں میں رکھ کر سزا دینے والا قانون سے بالاتر ہے اور یہاں قانون ایسے بالاتر اداروں کے سامنے بے بس ہیں، دھرنے کے شرکاء کا کہنا تھا کہ گذشتہ تئیس دنوں سے لاپتہ افراد کے لواحقین احتجاج پر بیٹھے ہیں لیکن صوبائی حکومت کا نام نہاد عوامی وزیر اعلیٰ لواحقین سے ملنے تک گوارہ نہیں کررہا اور یہی افراد پھر صوبے کی عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم جانتے ہیں صوبائی حکومت بے اختیار ہے لاپتہ افراد کا معاملہ حکومت کے ہاتھوں میں نہیں بلکہ فوج اور ادارے اس مسئلے کو حل کرنے کی سکت رکتے ہیں ہمارا مطالبہ بھی انہی اداروں سے ہیں۔

لواحقین نے کہا کہ پیاروں کی بازیابی اور دھرنے کے مطالبات کی پوری ہونے اور یقین دہانی تک انکے احتجاج کا سلسلہ جاری رہیگا جبکہ احتجاجی مرحلے کو مزید تقویت دی جائے گی۔