دل ہی تو ہے نہ سنگ وخشت – محمد خان داؤد

95

دل ہی تو ہے نہ سنگ وخشت

تحریر: محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

سائینس کتنی بھی ترقی کر لے، پر یہ نہیں جان پائیگی کہ اس وقت دل میں جدائی کی آگ کی حدت کس حد تک ہے اور نہ سائینس یہ جان پائیگی کہ ماؤں کے دل میں جدائی کا درد کس حد تک ہے؟اور نہ اب تک سائینس نے ایسا آلہ ایجاد کیا ہے جس سے درد کو ناپا جائے؟ہاں پہاڑوں پر برستی بارش تو ناپی جا سکتی ہے پر کوئی یہ نہیں ناپ سکتا کہ آج تک ماؤں کی آنکھوں سے کتنی بارش برسی ہے اور وہ کس قدر گیلی رہی ہیں؟

برستی بارشیں تھم بھی جا تی ہیں پر بلوچ دھرتی پر بسنے والی ماؤں کی آنکھوں سے برستی بارش نہیں تھمتی!
بارشیں آئیں،بیلہ سے لیکر نوشکی تک سب کو ڈبو گئیں،اور اب کئی دنوں سے بارشیں تھمی ہوئی ہیں
پر وہ بارشیں! جو ماؤں کی آنکھوں سے برستی ہیں،ہر وقت برستی ہیں۔دن رات برستی ہیں۔ شہر کی گلیوں سے لیکر اداس کیمپوں میں برستی ہیں۔ ہجر میں برستی ہیں۔ہزن میں برستی ہیں۔شور میں برستی ہیں۔خاموشی میں برستی ہیں۔ہجوم میں برستی ہیں۔تنہائی میں برستی ہیں۔یادوں میں برستی ہیں۔بند آنکھوں میں برستی ہیں۔سوئی آنکھوں سے برستی ہیں۔نیند میں برستی ہیں،رتجگے میں برستی ہیں،وہاں برستی ہیں۔یہاں برستی ہیں۔تمام شاموں میں برستی ہیں۔تمام تر صبحوں میں برستی ہیں۔راتوں میں برستی ہیں،رات کی تاریکی میں برستی ہیں،سویروں میں برستی ہیں۔اک جگہ ٹھہرتے وقت برستی ہیں۔سفر میں برستی ہیں۔اور نین ہمیشہ کو گیلے رہتے ہیں ان آنکھوؤں کی بارشوں کو کون ناپے؟ کیسے ناپے؟اور کیوں ناپے؟
مائیں اپنی دیدو سے بارشوں کی ماند آنسو برساتی رہیں اور اب ان میں سے بیشتر مائیں اندھی ہو چکی ہیں!
اب دھنک رنگ بھی ہوں تو کیا۔اور بارش رنگ ہو تو بھی کیا
اب سب رنگ سانول ہوں بھی تو کیا،اور کچھ بھی نہ ہوں تو کیا
کیوں کہ وہ مائیں اپنی دید ریاست کی دہشت کے حوالے کر چکی ہیں
پہلے ان کے ہاتھوں میں اپنی پیاروں کی تصاویر ہوا کرتی تھیں اور اب ان کا ہاتھ تیزی سے جوان ہو تی پوتیوں کے ہاتھوں میں ہے کیوں کہ وہ اپنی دید راہ میں کھو چکی ہیں جب وہ رو رو کر طاقت ور سے یہ التجا کرتی تھیں کہ”اس کے بیٹے کو چھوڑ دیا جائے اس نے کچھ نہیں کیا!“
تو اس فریاد میں بس التجا نہیں تھی پر وہ دید بھی تھی جو آنسوؤں میں بہہ گئی
اب اس بہتی دید کو کس آلے سے ناپو گے؟
یہ یو دیکھ سکتے ہو کہ دید کس قدر گھٹ گئی ہے پر یہ کیسے دیکھو کہ کہ دیدگھٹی کیسے؟!
دید گنواتی مائیں اور دادیوں اور ماؤں کا ہاتھ پکڑے آپ کو بلوچ دھرتی پر ان گنت پوتیاں مل جائیں گی جو اپنی دادیوں کا ہاتھ تھامیں انہیں یہ دلا سہ دے رہی ہیں کہ”وہ لوٹ آئیں گے؟!“
ایسا دلاسہ ان بیٹیوں کو بلوچستان بھر سے بس سردار رئیسانی ہی نہ دیا ہے جو بچیاں ایک ان جانے خوف میں مبتلا ہو کر بلوچستان کے ریڈ زون،نو گو ایریا میں گزشتہ تیرہ دنوں سے پہلے بارش اور اب تپتی دھوپ میں بیٹھی ہیں بس اس بات کو لے کر یہ اندھی گولیاں ان کے پیاروں پر مت چلانا جیسے تربت میں ان گیارہ معصوموں پر چلائی گئیں جن کی اداس لاشیں اب بھی سول اسپتال میں شناخت کے مراحل سے گزر رہی ہیں کہ ان قتل ہونے والوں میں ان مقتولین میں کون حمل ہے اور کون بالاچ؟!
گولیاں تو آہینی کتے ہیں جس پر بھی چھوڑ دیے جائیں اسے گھائل ہی کر دیں گی یہ نہیں جانیں کہ وہ کتنے معصوم ہیں یا کتنے حرامی؟!
وہ گولیاں ہیں ؎
مائیں نہیں
کہ دامن واہ کریں
اور دشت میں بھی معصوم بچوں کو اپنی پناہ میں لیں
تو وہ بیٹیاں گزشتہ تیرہ دنوں سے بلوچستان کے ریڈ زون میں سوالیہ نشان(؟) بنی ہوئی ہیں
اور کوئی سردار،منتخب نمائیدہ،کوئی عمائیدین،کوئی انسانی حقوق کا چئیمپین۔کوئی ادیب،کوئی دانشور ان کے پاس سے نہیں گزرتا،نہ ڈاکٹر مالک اور نہ ہی سردار اختر مینگل
دیس کا کوئی شاعر کیا پر گلی کا کوئی شاعر بھی ان پر کوئی نظم کا عنوان نہیں باندھتا
کیوں؟
شاید وہ ان گولیوں سے ڈرتے ہیں جو جسموں میں چھید کرتی ہیں اور چہروں سے ان کی شناخت مٹا دیتی ہیں۔شاید وہ ان بندوقوں سے ڈرتے ہیں جو بس بھونکتی ہی نہیں پر کاٹتی بھی ہیں اور شاید وہ ان ہاتھوں سے ڈرتے ہیں جو بہت ہی طاقت ور ہیں جو پہلے کسی کو مقتول کرتے ہیں پھر اسے ہی زندہ کر کے میڈیا پر پریس کانفرنس کرواتے ہیں
پر ان بیٹیوں کا کیا جن کے ہاتھوں میں بس اپنے پیاروں کی بازیابی کے نعرے۔پمفلیٹ اور تصاویر ہی نہیں پر وہ ہاتھ بھی ہیں جو اپنی دادیوں کے ہیں جو راہ میں رو تے رو تے اپنی دید گنوا چکی ہیں
جن بوڑھے جسموں میں آنکھیں ہی نہیں پر دل بھی ہیں
جو اداس ہیں
جو فکر مند ہیں
جو علیل ہیں
وہ مائیں چاہتی ہیں کہ ان کے پیارے لوٹ آئیں
پر فل وقت وہ مائیں اکیلی ہیں
یہ مائیں زمانے سے اکیلے پن کا درد جھیل رہی ہیں
یہ کل بھی اکیلی تھیں
اور یہ آج بھی اکیلی ہیں
نہ کل ا ن کے ساتھ کوئی تھا جب وہ سفر میں تھیں
اور نہ ان کے ساتھ آج کوئی ہے جب وہ اپنی دید گنوا کے گھروں کے اداس کونے میں بیٹھ گئی ہیں
وہ اب بھی آنکھیں بند کرتی ہیں تو دیکھ لیتی ہیں اس منظر کو
جس منظر میں ان کا گم شدہ بیٹا ان سے بس دو ہاتھ ہی تو دور ہے
اور جب وہ آنکھیں کھولتی ہیں
تو نہ دید ہے
اور نہ دلبر؟
تو
تو
تو۔۔۔۔۔
”دل ہی تو ہے نہ سنگ وخشت،درد سے بھر نہ آئے کیوں!“
اور بلوچستان بھر میں بارشیں رُک گئی ہیں
پر ان آنکھوں کی بارش کب رُکی گی؟
اس سوال کے جواب کے لیے سائینس بھی لاجواب ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں