خاران سے لاپتہ بھائی زخمی حالت میں کوئٹہ سے برآمد، جانبر نہ ہوسکے

864

خاران میں فورسز گھر پر چھاپے کے دوران تین بھائیوں کو حراست میں لیکر اپنے ہمراہ لے گئے۔ فورسز کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہونے والے تین میں سے دو بھائی شدید زخمی حالت میں دم تھوڑ گئے۔

رات گئے بلوچستان کے ضلع خاران کے علاقے جنگل روڑ خاران میں سیکورٹی فورسز نے حاجی ثناء اللہ شاہوانی نامی شخص کی گھر پر چھاپہ مارتے حاجی ثناء اللہ شاہوانی کے تین بیٹوں کو اپنے ہمراہ لے گئے تھیں، جن میں سے دو کو زخمی حالت لیجایا گیا تھا۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ واقعہ پیر کی شب پیش آیا۔ فورسز نے دؤران چھاپہ گھر میں موجود خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ اس دوران دو افراد کو گولیاں لگی جنہیں زخمی حالت میں لیجایا گیا۔

اطلاعات کے مطابق فورسز کے ہاتھوں گرفتاری بعد لاپتہ ہونے والے تین بھائیوں میں سے عمران شاہوانی اور عامر شاہوانی کوئٹہ سے شدید زخمی حالت میں ملیں جنہیں ٹراما سینٹر کوئٹہ منتقل کیا گیا۔

ذرائع نے بتایا دونوں افراد کو پیٹ و دیگر جگہوں پر گولیاں لگی تھی جبکہ دونوں بھائی زخموں کی تاب نالاتے ہوئے جان کی بازی ہارگئے ہیں-

فورسز کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہونے والا تیسرا بھائی تاحال منظر عام پر نہیں آسکا ہے-

یاد رہے گذشتہ چند روز میں خاران و گردنواح میں فورسز کے ہاتھوں گنشدگیوں کے واقعات تواتر سے موصول ہوتے رہے ہیں جبکہ علاقہ مکین ان واقعات میں سی ٹی ڈی و خفیہ اداروں اور مقامی ڈیتھ اسکواڈز کو ملوث قرار دیتے ہیں-

گذشتہ ماہ جولائی میں خاران سے سی ٹی ڈی کے ہاتھوں تین افراد کی گمشدگی کی اطلاع دی بلوچستان پوسٹ کو موصول ہوئی ہے جن میں محمد اسلم ولد جاجی محمد ابراھیم مینگل، غلام جیلانی ولد محمد امین، خلیل احمد ولد رحم اللہ شامل ہیں-

متاثرین کا کہنا ہے سی ٹی ڈی و دیگر سیکورٹی ادارے خاران و گردنواح سے کئی بے گناہ افراد کو ماورائے آئین و قانون زبردستی حراست میں لیکر اپنے ہمراہ لے گئے ہیں جبکہ گرفتاریوں کے بعد مذکورہ افراد کو منظر عام پر نہیں لایا جاتا، خاران سے کئی افراد اب بھی سی ٹی ڈی کے زیر حراست ہیں-

حکام نے تاحال مذکورہ واقعے پر کوئی موقف پیش نہیں کیا ہے۔