جعلی مقابلوں میں لاپتہ افراد کو قتل کیا جارہا ہے – ماما قدیر

90

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں لاپتہ بلوچ افراد کی عدم بازیابی اور جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مِسنگ پرسنز کے احتجاجی کیمپ کو پریس کلب کے سامنے 4715 دن مکمل ہوگے۔ ضلع چاغی، دالبندین سے سیاسی سماجی کارکنوں رسول بخش بلوچ، عبدالنبی بلوچ اور دیگر نے کیمپ آکر اظہار یکجتی کی۔

اس موقع پر تنظیم کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ اگر ہم شخصی خواہشات اور انفرادیت سے نہ نکلے تو قوم مزید مشکلات سے دوچار ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان پر ہر طلوع ہوتی سورج جدوجہد کرنے والوں کو منزل کی جانب ایک قدم بڑھانے کا درس اور شہداء کے لہو کی خوشبو سے معطر کر دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس گرم موسمی تپش کے ساتھ قابض فورسز نے اپنی بربریت کی تپش میں تیزی لاتے ہونے بلوچ آبادیوں کو اپنی زمینی و فضائی جارحیت سے لہو لہان کردیا، مستونگ، اسپنلجی، جوان قلات ،نوشکی چاغی اور بلوچستان کے گردونواح میں قیامت خیز آپریشن کے ساتھ آبادیوں کو زمینی فضائی فوجی طاقت سے لہو لہان کردیا گیا۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ ہرنائی زیارت میں پاکستانی فورسز نے لاپتہ افراد کی بارہ لاشوں کو اسپتال پہنچا دیا، لاشیں مسخ ہونے کی وجہ سے قابل شناخت نہیں۔ فورسز کی جانب جعلی مقابلوں کا ڈرامہ رچاکر لاپتہ کیئے جانے والے لاپتہ افراد کی لاشیں پھینکنے میں تیزی آئی ہے۔