بلوچستان: فورسز کے ہاتھوں چار افراد لاپتہ

203

بلوچستان کے ضلع آواران اور کیچ سے پاکستان فورسز نے چار افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آواران کے تحصیل جھاؤ شکاری گوٹھ میں پاکستانی سیکورٹی فورسز نے گھروں پر چھاپہ مارکر تین افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے، حراست بعد لاپتہ کئے جانے والوں کی شناخت اسلام ولد حضوربخش، اعظم ولد جمیل اور یاسین ولد رحیم بخش کے ناموں سے ہوئی ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق گذشتہ پانچ دنوں سے علاقے میں فورسز کا آپریشن و اضافی گشتوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ ذرائع دعویٰ کررہے ہیں فورسز لوگوں کے شخصی معلومات اکٹھا کرنے کے علاوہ لوگوں کو روزانہ کیمپ بلاکر گھرکے ہر فرد کی موجودگی کی ضمانت مانگ رہے ہیں۔

تاہم حکام کا اس حوالے موقف تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔

خیال رہے کہ جھاو بلوچستان کے وزیر اعلیٰ قدوس بزنجو کا آبائی و انتخابی حلقہ ہے جبکہ جھاو کا شمار بلوچستان کے پسماندہ ترین علاقوں میں ہوتا ہے جہاں زندگی کے بنیادی سہولیت بھی میسر نہیں ہیں اس کے علاوہ زروزانہ مقامی لوگ شکایت کرتے ہیں کہ فورسز لوگوں کو بے جا تنگ کرنے کے علاوہ جھاو کو ایک چھاونی نما علاقہ بنایاہے جہاں لوگوں کو دوسرے علاقے میں جانے کے لئے فورسز سے اجازت لینا پڑتا ہے۔

دوسری جانب ضلع کیچ کے علاقے تمپ پل آباد سے اطلاعات ہیں کہ فورسز نے گھر پر چھاپہ مارکر محسن ولد عبدالصمد نامی نوجوان کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔