ایک بہادر بلوچ بیٹی ہزار مردوں سے بہتر ۔ ایس کے بلوچ

194

ایک بہادر بلوچ بیٹی ہزار مردوں سے بہتر

تحریر: ایس کے بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

آج میں گھر سے نکل کر بازار کی طرف نکلنے ہی والا تھا کہ اچانک ایک سنگت نے کال کرکے بتایا کہ وہ آنا چاہتا ہے۔ اس لیے میں سڑک کنارے کھڑا ہو کر سنگت کا انتطار کرنے لگا، وہاں میں نے ایک خوبصورت اور چھوٹی سی لڑکی اپنے اداس چہرے کے ساتھ بھیک مانگتے دیکھا، وہ میرے سامنے آکر رکی، گلے میں سیاہ دوپٹہ، آنکھیں نیند کی کمی سے سرخی مائل، گہری سانولی رنگت، سرخ ہونٹ اور میلے کچیلے کپڑے اور پاؤں میں ٹوٹی ہوئی چپل پہنی ہوئی اپنے ہاتھ باندھ کر اس نے رٹا سنانا شروع کیا۔

“میرا باپ بیمار ہے، میری ماں فوت ہوچکی ہے، بہت بھوک لگی ہے، کچھ پیسے دے دو، اوپر والا تمہیں پیاری سی دلہن دے گا، دولہے بنو گے “دولہے۔۔ غریب بیٹی کی مدد کر۔”

میں نے عادتاً جیب میں ہاتھ ڈال کر کہا “پیسے تو نہیں۔”

مجھے نیچے سے اوپر ایک نظر دیکھا اور افسوس کرنے لگا۔ ” آپ میری مجبوری کو تب سمجھ سکتے اگر آپ کو طوفان کا حال پتہ ہوتا” یا خود اپنے آنکھوں سےدیکھتے۔

اُسے پتہ نہیں تھا کہ میں گھر میں بیٹھ کر لوگوں کو فیسبک اور ٹیوٹر پر دیکھتا رہتا ہوں. پوری ماں دھرتی پچھلے کئی دنوں سے طوفانی بارشوں اور سیلاب کی زد میں ہے.مسافر گاڑیاں جنگلوں, شہروں اور دیہی علاقوں میں، بلوچ مرد و عورت, بیمار اور بوڑھوں سمیت ندی ،و بڑی بڑی نالیوں کے کنارے دن رات گزار رہے ہیں. مسلسل بارش کی وجہ سے بھوک اور بیماری سے بوڑھے اور بچے چیخ و پکار رہی ہیں، لوگ بے بس و لاچار کھلے آسمان تلے پڑے ہیں. حکومتی امداد اور ریسکیو ٹیمیں ابھی تک مدد نہ کر سکے۔

بلوچ یک جہتی کمیٹی اور باقی مختلف بلوچ سماجی تنظیمیں اور بلوچ طلبا و طالبات اپنی مدد آپ بدولت لوگوں کو ابھی گھریلو سامان اور اشیاء مل رہے ہیں۔ جب میں نے اپنا سر اٹھا کر دیکھا تو وہ جا چکی تھی۔ ہم رکشے میں بیٹھ گئے۔ رستے میں، میں نے جب فیسبک دیکھنا شروع کیا تو اچانک ایک لڑکی جس کا نام سوشل میڈیا میں اتنی نہیں پھیل چکی ہے جتنی دوسرے مرد ، عورتوں کی ہوچکی ہے کہ وہ مدد کررہے ہیں۔

پھر مجھے ایک خیال آیا میں نے سوچنا شروع کیا کہ ایک زمانہ تھا لوگ شکار کے لئے نکل کر اپنی بھوک کو جانوروں کی تازہ گوشت سے مٹاتے تھے، جانوروں میں فرق نہیں دیکھا جاتا تھا کہ کونسا جانور کوکھانا ہے یا نہیں حرام و حلال کا تصور ہی نہیں تھا۔ بھوک انہیں اتنا مجبور کردیتا تھا کہ کبھی کبھی وہ اپنے اردگرد کے جنگلات کے درختوں کے پتے کھانے لگتے تھے ۔ آخرکار آگ کی دریافت ہوئی آگ سے ہر کچی چیز پکتی تھی۔ پکے ہوئے اشیا سے انسانی دماغ میں ایک تبدیلی آئی پہلے کے نسبت انسان چست و چوبند رہے۔ بقول ایک دانشور ‘آگ ہی نے انسانوں کے دماغ کو تیز کرنے میں مدد دی۔”

لوگوں نے آہستہ آہستہ زبان بھی ایجاد کرلیا بس ابھی کچھ ہی وقتوں سے ہی ساتھ رہنے لگے اور آئندہ اس کے بعد قوم کی شکل میں سامنے آئے جس طرح آج ہمارے سامنے کئی قومیں ہیں۔ کئی قومیں دنیا میں ہیں لیکن کچھ قومیں ختم بھی ہوئے ہیں جن میں سے ریڈ انڈینز بھی ہیں جو اپنے وجود کو برقرار نہ رکھ سکے تو تباہی کا شکار ہوئے۔

اگر مابعد جدیدیت یعنی حال کی بات کی جائے تو ایسے کہی قومیں ہیں جو ابھی تک دوسرے قوموں کی استعماری تسلسل کے شکار ہیں جن میں سے ایک بلوچ قوم ہے جو انگریز سامراجی نظام کے بعد بھی پچھتر سالوں سے مسلسل سنگین ترین حالات سے سامنا کرتے آرہے ہیں ۔ اگر کوئی انسان ایمانداری سے بلوچ تاریخ کو ایک نظر سے دیکھیں تو پتہ چل جائے گا کہ بلوچ قوم ہمیشہ انسانیت کے حوالے سے اور بہادری میں مثال بن چکے ہیں۔ پرتگیزی سامراجیت کے بعد برطانیہ کو گھسیٹ کر نکالا ، جہاں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی جنگی محاذوں پر بندوق ہاتھ میں لیکر اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑے رہتے تھیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آج وہ دور نہیں جس دور کہ بات میں کررہا ہوں لیکن آج بھی لوگوں کا جذبہ اپنے قوم کی خدمت کے لیے زندہ ہے۔ جب کبھی انہیں کسی قسم کی تکلیف پیش آتی تو لوگ اپنے جوش و جزبہ اور بہنوں کے ساتھ اپنے پیاروں کی مدد کرنے لگتے ہیں۔بلوچستان میں کچھ ایسے گمنام بیٹاں ہیں جو ہمیشہ اپنی ہی قوم کی خدمت میں حاضر ہوئے نظر آتے ہیں لیکن سوشل میڈیا یاکہ دوسرے نیوز اور چینلز میں دکھائی نہیں دیتی ہیں۔

وجہ یہ ہے کہ انہیں کسی قسم کی credits انہیں کوئی پبلسٹی نہیں چاہئے ۔ وہ قوم کی خوشحالی کی خاطر خود منفی کررہے ہیں نہ کہ اپنی زاتی مفاد کی خاطر ۔

وہ غور و فکر کے ساتھ ہمیشہ لوگوں کی مدد کے لیے بہادر سپاہی کی ‌طرح نکلی ہیں۔ ایسے بہت سارے کرداریں وجود رکھتے ہیں ہماری نظروں سے غائب ہیں لیکن انکی قربانیوں کے ثمر بلوچ قوم مختلف جگہوں میں ملتے ہیں ، ان گمنام عورتوں میں سے کسی ایک سے جب مجھے ملاقات نصیب ہوئی تو میں نے اکثر دیکھا کہ وہ علمِ فلسفہ،اور بڑے بڑے فنکار اور مصنفوں کی گفت و شنید میں مصروف تھی ۔ میں نے سنا ہے کہ جب کبھی بھی مدد کیلئے نکلتی ہے تو کہی مرد اور عورتیں کھڑے ہوکر ان کی اس انسانی عمل کو دیکھتے ہوئے پھر انہیں اپنے بچے اور بچیوں سے زیادہ اس لیے چاہنے لگتے ہیں کہ وہ سب کے ساتھ اسی طرح پیش آتی ہے کہ سارے لوگ اُسے جانتی ہیں۔۔۔۔
اس لیے کہنا جائز ہے کہ ایک بلوچ لڑکی ہزار مردوں سے زیادہ سوچتی ہے اور اپنی قوم کی خدمت کرسکتی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں