القاعدہ رہنماء کو نشانہ بنانے والا امریکی ڈرون پاکستانی فضائی حدود سے افغانستان میں داخل ہوا – رپورٹس

372

کابل میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کو نشانہ بناکر ہلاک کرنے والے امریکی ڈرون نے اپنے کاروائی کو انجام دینے کے لیے پاکستانی فضائی حدود کا استعمال کیا ہے-

اسلام آباد نے واشنگٹن کو پاکستان سے حملے کی اجازت دی ہے جبکہ پاکستان نے ہی ایمن الظواہری کی ٹھکانے کی تصدیق کی ہے جہاں انہیں نشانہ بنایا گیا-

تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے افغانستان میں آئی ایس آئی کا وسیع نیٹ ورک وجود رکھتا ہے خاص طور پر طالبان کے اندر جسے امریکہ کارآمد بناسکتا ہے کیونکہ گذشتہ اگست میں امریکی انخلاء کے بعد سے امریکی انٹیلی جنس وسائل افغانستان میں کافی حد تک ختم ہوچکے ہیں-

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ القاعدہ رہنماء کی کابل میں ہلاکت میں پاکستان کی شمولیت کا قوی امکان ہے-

ہانگ کانگ اور چائنہ سے بیک وقت شائع ہونے والے ہفتہ وار اخبار دی ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے تجزیہ کاروں سے گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ ڈرون یقینی طور پر بلوچستان کے ذریعے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوکر افغانستان میں داخل ہوا، امریکی ڈرون نے خلیج ممالک کے سے اڑان بھری پاکستان سے ہوتے ہوئے افغانستان میں اپنے حدف کو نشانہ بنایا-

امریکی صدر جو بائیڈن نے پیر کے روز دعویٰ کیا کہ امریکہ کی سیکیورٹی فورسز نے کابل میں ایک فضائی حملے میں القاعدہ کےرہنما ایمن الظواہری کو ہلاک کر دیا ہے۔

اخبار سے گفتگو میں تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان 2003، میں پاکستانی فضائی حدود استعمال کا معاہدہ طے پایا تھا البتہ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد یہ معاہدہ ختم ہوگیا ہے تاہم پاکستان اب بھی امریکہ کو فوجی کاروائیوں کے لئے فضائی حدود کے استعمال پر باقاعدہ طور پر کوئی پابندی عائد نہیں کی ہے-

اخبار کا کہنا تھا اب تک سرکاری سطح پر اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی ہے کیا پاکستان آئی ایس آئی کے وسیع نیٹورک جو افغانستان میں وجود رکھتا ہے وہ بلاواسطہ اس میں شریک تھا البتہ امریکی صدر نے گزشتہ روز القاعدہ رہنماء کے ہلاکت پر پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ اس آپریشن میں انکے قریبی اتحادی بھی شریک تھے-

تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ گذشتہ دونوں پاکستان عسکری حکام کے چیف اور پاکستان کے طاقتور ترین شخصیت جنرل باجوہ کی جانب سے امریکی سیکٹری سے آئی ایم ایف امداد حوالے سے رابطہ بھی القاعدہ رہنماء کے ہلاکت کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے-

امریکی تجزیہ نگار ایڈمیرل مائک مورین نے اخبار کو بتایا ظواہری کو اتوار کو علی الصبح کابل میں انکے اہل خانہ کے ساتھ طالبان کی حکومت کے وزیر داخلہ اور حقانی نیٹ ورک کے دھڑے کے سربراہ سراج الدین حقانی کے قریبی ساتھی کے گھر میں نشانہ بناکر قتل کیا گیا-

حقانی نیٹ ورک کو تاریخی طور پر پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیوں کے قریب دیکھا جاتا رہا ہے حقانی گروپ کو 2011 میں امریکہ اور اتحادیوں کی جانب سے “آئی ایس آئی کا ایک حقیقی بازو” قرار دیا گیا تھا۔

پیر کے روز بائیڈن نے کہا کہ امریکہ نے دو روز قبل افغانستان کے شہر کابل میں ایک فضائی حملہ کیا، جس میں الظواہری کو ہلاک کر دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قتل سے 9/11 حملوں میں مرنے والوں کے اہل خانہ کا انصاف مکمل ہو جائے گا۔

طالبان حکام نے کابل امریکی فضائی حملے میں جانی نقصانات کے حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیے ہیں تاہم گذشتہ رات ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی ہے کہ امریکی ڈرون حملے میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔